تہران: پاسداران انقلاب کے ترجمان جنرل حسین محبی نے کہا ہے کہ اگر دوبارہ امریکہ حملہ کرتا ہے تو ایران ہر طرح کا جواب دینے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔
غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق پاسداران انقلاب کے ترجمان جنرل حسین محبی نے امریکا کو خبردار کیا کہ ایران میں کسی بھی مقام، بشمول پِک ایکس ماؤنٹین، کو نشانہ بنانے سے گریز کیا جائے۔
انہوں نے کہا کہ ایرانی فوج امریکی حملے کی صورت میں مزاحمت اور جواب دینے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔
پاسداران انقلاب کے ترجمان نے امریکا پر زور دیا کہ وہ ماضی میں کی گئی ان کوششوں کو دوبارہ نہ دہرائے جن میں اسے ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔
پِک ایکس ماؤنٹین کیا ہے؟
پک ایکس ماؤنٹین کو مقامی زبان میں کوہ کلنگ گز لا کہا جاتا ہے۔ یہ ایران کے صوبہ اصفہان میں کرکس پہاڑی سلسلے میں واقع ایک پہاڑ ہے۔ اور یہ مقام ایران کے مشہور نطنز جوہری مرکز سے محض ڈیڑھ کلومیٹر جنوب میں واقع ہے۔ یہ حالیہ دنوں میں امریکہ اور ایران کے درمیان شدید تناؤ کا مرکز بن چکا ہے۔
ایران اس پہاڑ کے اندر ٹھوس گرینائٹ چٹانوں کو کاٹ کر انتہائی گہرائی میں (کم از کم 100 میٹر نیچے) ایک وسیع زیرزمین فوجی اور جوہری تنصیب تعمیر کر رہا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس مقام پر مشکوک سرگرمیوں کا دعویٰ کرتے ہوئے اسے نشانہ بنانے کی بارہا دھمکیاں دی ہیں ۔ اور ان کا ماننا ہے کہ ایران یہاں جدید ترین یورینیم افزودگی کے لیے سینٹری فیوجز اور دیگر حساس جوہری اثاثے منتقل کر رہا ہے۔
ماہرین کے مطابق پِک ایکس ماؤنٹین کی گہرائی اور اس کی مضبوط قدرتی ساخت کی وجہ سے یہ امریکہ کے روایتی “بنکر بسٹر” بموں کے لیے بھی ایک انتہائی مشکل ہدف ہے۔
ایرانی حکام امریکی دعوؤں کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے مؤقف اختیار کرتے ہیں کہ ان کا جوہری پروگرام پرامن ہے تاہم امریکی حملے کی صورت میں سخت ترین جوابی کارروائی کی جائے گی۔



