ترکیہ میں ایک ہائی اسکول کے باہر فائرنگ کے نتیجے میں کم از کم 8 افراد زخمی ہو گئے۔
ترک میڈیا کی رپورٹس کےمطابق صوبہ مانیسا کے گورنر ہاؤس کے مطابق منگل کی صبح مقامی وقت کے مطابق تقریباً 8 بجے مانیسا میں واقع انجی ازمیز ووکیشنل اینڈ ٹیکنیکل اناطولین ہائی اسکول کے قریب ایک مسلح شخص نے فائرنگ کر دی۔
زخمیوں کو فوری طور پر اسپتال منتقل کر دیا گیا جبکہ دو زخمیوں کی حالت تشویش ناک بتائی جا رہی ہے۔
گورنر ہاؤس کے مطابق سکیورٹی فورسز نے ایک مشتبہ شخص کو گرفتار کر لیا ہے۔ ابتدائی رپورٹس میں بتایا گیا تھا کہ مشتبہ شخص جائے وقوع سے پیدل فرار ہو گیا تھا، جس کے بعد اس کی تلاش کے لیے کارروائی شروع کی گئی۔
ترکیہ کے مقامی ‘ٹی وی 100’ کی جانب سے شیئر کی گئی ویڈیو میں مبینہ طور پر حملہ آور کو مقامی وقت کے مطابق صبح 8 بجے کے فوراً بعد شاٹ گن تھامے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔

ویڈیو میں ایک شخص پہلے سنسان سڑک سے تیزی سے اسکول کی جانب جاتا دکھائی دیتا ہے، جس کے ایک ہاتھ میں ہتھیار موجود ہے، بعد ازاں وہ مخالف سمت میں دوڑتا ہوا نظر آتا ہے۔
ٹی وی 100 کے مطابق ایک اور ویڈیو میں سبز شرٹ، گہری رنگت کی جیکٹ اور سیاہ پتلون پہنے مشتبہ شخص کو ایک موڑ مڑتے ہوئے ہتھیار کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کرتے دیکھا گیا۔
یاد رہے اپریل میں ترکیے کے جنوب مشرقی صوبے شانلی عرفا کے ایک ہائی اسکول میں سابق طالب علم نے فائرنگ کی تھی جس کے نتیجے میں طلبہ سمیت 16 افراد زخمی ہو گئے تھے، حملہ آور نے بعد ازاں خودکشی کر لی تھی۔
اس واقعے کے اگلے ہی روز صوبے کہرامان مرعش میں 14 سالہ طالب علم نے اپنے اسکول کے دو کلاس رومز میں فائرنگ کی جس میں کئی طلبہ اور اساتذہ کی ہلاکتوں کی اطلاعات آئی تھیں، جس کے بعد پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے حملہ آور کو ہلاک کر دیا تھا۔
سکیورٹی کے سخت اقدامات کے باوجود فائنگ کا واقعہ
ہائی اسکول پر فائنگ کا واقعہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب ایک روز قبل ہی وزیر تعلیم یوسف تیکن اور وزیر داخلہ مصطفیٰ چفتشی نے 27-2026 کے تعلیمی سال کے لیے سکیورٹی اقدامات سے متعلق ایک پروٹوکول پر دستخط کیے تھے، ترکیہ میں نیا تعلیمی سال ایک ہفتہ قبل 14 ستمبر سے شروع ہوا ہے۔
وزیر داخلہ نے کہا تھا کہ اپریل میں فائرنگ کے واقعات کے بعد اسکولوں کی سیکیورٹی مزید سخت کردی گئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایسے واقعات دوبارہ پیش نہ آئیں، اس کے لیے رواں سال سب کو انتہائی چوکس رہنے کی ضرورت ہے۔ ان کے مطابق پہلی مرتبہ 31 ہزار اسکول گراؤنڈ سپروائزرز تعینات کیے گئے ہیں۔
وزارت داخلہ نے اسکولوں کی سکیورٹی کا ازسرنو جائزہ بھی لیا اور زیادہ خطرے والے پہلے اور دوسرے درجے کے اسکولوں میں پولیس اہلکار مستقل ڈیوٹی پر تعینات کیے گئے۔
انہوں نے بتایا تھا کہ سکیورٹی، امن و امان، منشیات اور کم عمر افراد سے متعلق معاملات کی نگرانی پر مامور پولیس اہلکار اسکولوں کے اطراف باقاعدگی سے گشت کریں گے۔


