کراچی: متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) پاکستان کے رہنما فاروق ستار نے کہا ہے کہ آج ملک میں نئے انتظامی یونٹس کا قیام ناگزیر ہو چکا ہے اور نئے انتظامی یونٹس بن کر رہیں گے۔
ایم کیو ایم کے مرکزی رہنما فاروق ستار نے ریلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سندھ کے عوام اپنے بنیادی حقوق سے محروم ہیں، اور کراچی کے شہریوں کے پاس پینے کے لیے پانی تک نہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کے عوام آج بھی بنیادی سہولیات سے محروم ہیں، جبکہ 18 سال سے عوام بااختیار بلدیاتی نظام کے لیے ترس رہے ہیں۔
فاروق ستار انتظامی یونٹس پر مزید کہا کہ وفاق سے اب آواز آرہی ہے کہ نئے انتظامی یونٹس بنائے جائیں، اور آج ملک میں نئے انتظامی یونٹس کا قیام ناگزیر ہوچکا ہے۔ جبکہ صوبہ سندھ بدانتظامی میں باقی صوبوں سے بہت آگے ہے، اس لیے جب گورننس بدترین ہوجائے تو انتقال اقتدار لازم ہوجاتا ہے۔
انہوں نے ریلی کے مقاصد پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ریلی کے انعقاد کا مقصد مظلوم عوام کے حقوق کے لیے جدوجہد ہے، اور نئے انتظامی یونٹس بن کر رہیں گے۔ سندھ کے عوام انتظامی یونٹس چلانے کی تیاری کر رہے ہیں، اور نئے انتظامی یونٹس بننے سے تعمیر و ترقی کا آغاز ہو گا۔
نئے صوبے سندھ کو عروج پر لے جائیں گے، مصطفیٰ کمال
اس سے قبل ایم کیو ایم کے مرکزی رہنما اور وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا تھا کہ نئے انتظامی یونٹس کی بات کسی قوم یا زبان کے خلاف نہیں بلکہ انتظامی معاملات بہتر بنانے کے لیے کی جا رہی ہے، نئے صوبے سندھ کو عروج پر لے جائیں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ نئے انتظامی یونٹس سے متعلق منفی باتیں کی جا رہی ہیں، جبکہ سندھ میں نیا انتظامی یونٹ بننے سے کوئی قتل و غارت گری نہیں ہو گی، اور ہم پاکستان کو توڑنے نہیں بلکہ جوڑنے کی بات کر رہے ہیں۔
مصطفیٰ کمال کا کہنا تھا کہ نئے یونٹس بننے سے صحت اور تعلیم کا نظام بہتر ہو گا، پیپلز پارٹی کرپشن چھپانے کے لیے سندھ کارڈ استعمال کرتی ہے۔


