امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان نے کہا ہے کہ حکومت کے پاس پیٹرولیم لیوی ختم کرنے کا کوئی پروپوزل ہوگا تو بات ہوگی، جماعت اسلامی کسی کے لیے بھی کنٹینر لگانے کے حق میں نہیں، احتجاج سب کا حق ہے، تحریک انصاف کا اپنا پلان ہے اور جماعت اسلامی کا اپنا پلان ہے، ہم اسلام آباد پہنچیں گے۔
لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ حکومت کی جانب سے دیا گیا ریلیف بہت کم لوگوں کے لیے ہے، اس سے مسائل حل نہیں ہوتے، جتنا ریلیف دیا گیا ہے اس سے زیادہ پیسے تو اس کی آگاہی مہم میں لگادیے گئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی نے جو مہم شروع کی ہے، اللہ کا شکر ہے وہ ہر شخص کی آواز بن گئی ہے اور ہر شخص اس کے پیچھے کھڑا ہوا ہے۔ پورا پاکستان ہمارے ساتھ ہے اور اب سب کو معلوم ہو گیا ہے کہ لیوی کا بھتہ ختم کرنا کتنا ضروری ہے۔
حافظ نعیم الرحمٰن نے کہا کہ جماعت اسلامی چاہتی ہے کہ تمام لوگ مل کر حکومت پر دباؤ قائم رکھیں اور اسے بڑھائیں تاکہ اس کے نتیجے میں پاکستان کے عوام کو ریلیف مل سکے۔
“لیوی بھتہ ٹیکس ختم کیا جائے”
امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ کسٹم ڈیوٹی، کلائمیٹ سپورٹ لیوی اور پیٹرولیم لیوی سمیت مختلف مدات میں 106 سے 107 روپے وصول کیے جاتے ہیں جبکہ اس کے علاوہ ڈیلر کے چارجز، ٹرانسپورٹیشن، ریفائنریز اور آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کے مارجنز بھی شامل ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کے مارجنز میں بھی بڑے پیمانے پر گڑبڑ موجود ہے جبکہ اس معاملے میں صرف ایک بات قوم کے سامنے آئی کہ درآمد شدہ اور مقامی تیل کی ایک ہی قیمت وصول کی جا رہی تھی۔
انہوں نے کہا کہ حکومت جب مذاکرات کرتی ہے تو کہتی ہے کہ ہمیں تجاویز دیں، حالانکہ تجاویز دینا ہمارا کام نہیں، حکومت کا کام ہے کہ لوگوں کو جینے دے اور عوام پر سے یہ بھتہ ٹیکس ختم کیا جائے۔
حافظ نعیم الرحمان کے مطابق جماعت اسلامی نے اس کے باوجود حکومت کو تجاویز دیں، تاہم حکومت کے پاس ان تجاویز کو رد کرنے کے لیے کوئی دلیل موجود نہیں۔
“پالیسی ریٹ میں کمی کا مطالبہ”
حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ پالیسی ریٹ جسے سود کا ریٹ بھی کہا جاتا ہے، اگر تین فیصد بھی کم کر دیا جائے تو لیوی کی مد میں جمع کیے جانے والے پیسوں کے برابر رقم حکومت کے پاس بچ سکتی ہے۔
انہوں نے سوال کیا کہ “اگر سود کی شرح میں تین فیصد کمی کر دی جائے تو کیا موت واقع ہو جائے گی؟” ان کے بقول حکومت اس لیے ایسا نہیں کر رہی کہ کبھی آئی ایم ایف، کبھی بینک ڈیپنڈنٹ اور کبھی دیگر وجوہات بیان کی جاتی ہیں، حالانکہ یہ سب عذر ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اسٹیٹ بینک کیسے خودمختار ہو سکتا ہے، اس کے گورنر کی ہائرنگ اور فائرنگ کون کرتا ہے اور اس کا بورڈ کون تشکیل دیتا ہے، یہ حکومت ہی کرتی ہے۔
“خیراتی ریلیف نہیں، عوام کو حق دیا جائے”
امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ حکومت لوگوں کو لوٹتی رہے، زندگی اجیرن ہو جائے اور مہنگائی بڑھتی چلی جائے، پھر جب زیادہ شور ہو تو ایسا ریلیف پیکیج دے دیا جائے جو خود حکومت کی سمجھ میں بھی نہ آ رہا ہو اور نہ لوگوں کی سمجھ میں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان میں اگر ڈھائی کروڑ موٹرسائیکلیں ہیں تو کتنے لوگ ایسے ہیں جن کی موٹرسائیکل کی رجسٹریشن 2011 سے پہلے ہوئی ہے اور وہ اس ریلیف سے فائدہ نہیں اٹھا سکیں گے۔
واضح رہے کہ حکومت نے موٹرسائیکل کے لیے 2011 کی رجسٹریشن کی شرط ختم کرکے اسے گزشتہ 20 سال یعنی کہ 2006 تک کردیا ہے۔
حافظ نعیم الرحمان کا کہنا تھا کہ بہت سے لوگ اپنے بھائی یا دوست کی موٹرسائیکل چلاتے ہیں کیونکہ یہاں ایسا نظام بنا ہوا ہے کہ لوگ موٹرسائیکلیں اپنے نام منتقل نہیں کرواتے۔
انہوں نے سوال کیا کہ ایسے میں کتنے لوگوں کو ریلیف ملے گا اور وہ بھی کتنا؟ ہفتے میں 500 روپے۔ ان کے بقول خیرات دے کر یہ نہیں سمجھا جا سکتا کہ عوام کا حق مار لیا جائے گا۔
حافظ نعیم الرحمٰن نے کہا کہ حکمرانوں کو لوگوں کو حق دینے کے بجائے مختلف پیکیجز کا اعلان کرنے کی عادت پڑ گئی ہے، پیلی ٹیکسی اسکیم سے لے کر آج تک یہی سلسلہ چل رہا ہے۔

“حکومت سے مذاکرات پر مؤقف”
حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ حکومت نے دوبارہ رابطہ کیا ہے اور کہا ہے کہ وہ جماعت اسلامی سے بات کرنا چاہتی ہے، تاہم حکومت کے ساتھ ایک، دو، تین، چار میٹنگز اور ہر طرح کی گفتگو پہلے ہی ہو چکی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہر میٹنگ میں حکومت یہی کہتی رہی کہ ہمیں دو دن کا وقت دے دیں۔
ان کا کہنا تھا کہ اس کے باوجود جماعت اسلامی نے مشاورت کے بعد فیصلہ کیا کہ اگر حکومت کے پاس لیوی ختم کرنے کا اعلان موجود ہے اور وہ ٹھوس طور پر کوئی چیز بتا سکتی ہے تو جماعت اسلامی کو بھی احتجاج کرنے کا کوئی شوق نہیں۔
انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی یہ تمام کام اس لیے کر رہی ہے کہ حکومت مطالبہ پورا کر دے، لیکن یہ نہیں ہو سکتا کہ لیوی ختم نہ کی جائے اور زبانی جمع خرچ کیا جائے کہ کل بتائیں گے، پرسوں بتائیں گے یا دس دن بعد بتائیں گے۔
ان کے مطابق حکومت کی ٹیم اگر کسی تجویز کے ساتھ آتی ہے تو بات ہو گی، لیکن اگر کوئی تجویز نہیں ہو گی تو بات بھی نہیں ہو گی۔
حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ حکومت کی ٹیم آنے کی صورت میں لیاقت بلوچ مذاکرات کو ہیڈ کریں گے۔
“ہم کسی کے لیے کنٹینر لگانے کے حق میں نہیں”
امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ وہ کسی کے لیے بھی کنٹینر لگانے کے حق میں نہیں، احتجاج سب کا حق ہے، تحریک انصاف کا کیا پلان ہے، یہ ہمیں معلوم نہیں، ہمارا پلان ہمارے پاس ہے اور ہم اسلام آباد پہنچیں گے۔
حافظ نعیم الرحمان نے واضح کیا کہ تحریک انصاف کے احتجاج کا اپنا پلان ہے اور جماعت اسلامی کا اپنا پلان ہے۔
انہوں نے بتایا کہ مارچ کے اعلان کے بعد لاہور کا دھرنا ختم کرنا بھی جماعت اسلامی کی حکمت عملی کا حصہ تھا۔
ان کا کہنا تھا کہ جب وہ بہت چھوٹے تھے تب بھی سنتے تھے کہ احتجاج کرنے والوں سے آہنی ہاتھ سے نمٹا جائے گا، تاہم احتجاج سب کا حق ہے۔



