امریکا نے سعودی عرب کو جدید ایف-35 لڑاکا طیاروں کی ممکنہ فروخت کی منظوری دے دی، معاہدے کی مجموعی مالیت 24.3 ارب ڈالر بتائی گئی ہے۔
امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق مجوزہ معاہدے کے تحت سعودی عرب کو 48 ایف-35 لائٹننگ ٹو لڑاکا طیارے فراہم کیے جائیں گے جبکہ پیکیج میں 49 پراٹ اینڈ وٹنی انجنز، کمیونیکیشن آلات، اسپیئر پارٹس، تربیت اور دیگر معاون سامان بھی شامل ہوگا۔
رائٹرز کے مطابق امریکی محکمہ خارجہ کا کہنا ہے کہ مجوزہ دفاعی فروخت سعودی عرب کی سلامتی مضبوط بنانے اور خطرات سے نمٹنے کی صلاحیت میں اضافے میں معاون ہوگی۔ امریکی حکام کے مطابق اس سازوسامان اور معاونت کی فروخت خطے میں فوجی توازن کو تبدیل نہیں کرے گی۔
رائٹرز کے مطابق ایف-35 طیاروں کی مجوزہ فروخت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب سعودی عرب مشرق وسطیٰ کی جنگ کے پھیلاؤ کے باعث خطے میں بڑھتے ہوئے سکیورٹی خطرات سے دوچار ہے۔
حوثیوں کے سعودی عرب پر مسلسل حملے
سعودی عرب کو ایف-35 کی فروخت کی منظوری ایک ایسے وقت میں دی گئی ہے جب یمن کے حوثیوں اور سعودی عرب کے درمیان حملوں میں حالیہ دنوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔
17 ستمبر کو سعودی سول ڈیفنس کے مطابق طائف میں حوثیوں کی جانب سے بھیجا گیا ڈرون فضا میں تباہ کردیا گیا، تاہم ڈرون کا ملبہ گرنے سے ایک یمنی شہری جاں بحق جبکہ ایک سعودی شہری اور ایک پاکستانی شہری زخمی ہوگئے۔ پاکستانی شہری کی حالت تشویشناک بتائی گئی ہے۔ حملے کے نتیجے میں بعض عمارتوں اور گاڑیوں کو بھی نقصان پہنچا۔
رائٹرز کے مطابق طائف واقعہ رواں ماہ سعودی عرب میں حوثی حملوں کے بعد رپورٹ ہونے والی پہلی ہلاکت ہے جبکہ سعودی حکام اس سے قبل حوثی حملوں میں 80 سے زائد افراد کے زخمی ہونے کی اطلاع دے چکے ہیں۔
اس سے ایک روز قبل سعودی عرب نے دعویٰ کیا تھا کہ حوثیوں کی جانب سے مکہ مکرمہ کی طرف بھیجا گیا ڈرون سعودی فضائی دفاع نے تباہ کردیا تھا۔ حوثیوں نے مکہ کو نشانہ بنانے کے سعودی دعوے کی تردید کرتے ہوئے اسے جھوٹ قرار دیا تھا۔
سعودی عرب اور حوثیوں میں کشیدگی کیوں بڑھی؟
رائٹرز کے مطابق سعودی عرب اور ایران کے حمایت یافتہ حوثیوں کے درمیان حالیہ کشیدگی یمن میں کئی سال سے جاری تنازع کے دوبارہ شدت اختیار کرنے کا نتیجہ ہے۔ حوثیوں نے حالیہ دنوں میں سعودی علاقوں پر میزائل اور ڈرون حملے کیے جبکہ سعودی اور اتحادی طیاروں نے یمن میں حوثی اہداف کو نشانہ بنایا۔
حالیہ کشیدگی کا ایک اہم پہلو بحیرہ احمر اور آبنائے باب المندب بھی ہے، حوثیوں کی مغربی یمن اور باب المندب کے اطراف پیش قدمی نے عالمی بحری تجارت اور تیل کی ترسیل کے لیے بھی نئے خدشات پیدا کیے ہیں۔
رائٹرز کے مطابق سعودی عرب اور حوثیوں کے درمیان تازہ لڑائی ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب خطے میں جاری وسیع تر جنگ نے عالمی تیل کی سپلائی کو پہلے ہی خطرات سے دوچار کر رکھا ہے۔
ایف-35 معاہدہ کیوں اہم ہے؟
ایف-35 دنیا کے جدید ترین کثیرالمقاصد لڑاکا طیاروں میں شمار ہوتا ہے۔ سعودی عرب کو 48 طیاروں کی مجوزہ فروخت مکمل ہونے کی صورت میں سعودی فضائیہ کی جدید لڑاکا صلاحیت میں نمایاں اضافہ حاصل ہوگا۔
تاہم امریکی محکمہ خارجہ نے واضح کیا ہے کہ مجوزہ فروخت خطے میں فوجی توازن تبدیل نہیں کرے گی، یہ بھی واضح رہے کہ محکمہ خارجہ کی منظوری ممکنہ فروخت کی منظوری ہے، حتمی معاہدے اور اس کی تکمیل کے لیے مزید قانونی اور انتظامی مراحل درکار ہوں گے۔



