اسلام آباد: سپریم کورٹ سے سزا معطلی اور رہائی کا حکم ملنے کے بعد دوبارہ گرفتار کیے جانے والے ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کو انسداد دہشت گردی کی عدالت میں پیش کردیا گیا، عدالت نے دونوں کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا۔
انسداد دہشت گردی عدالت کے جج ابوالحسنات ذوالقرنین نے کیس کی سماعت کی، جس دوران پولیس نے ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کے 30 روزہ جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی۔
عدالت نے پولیس کی جسمانی ریمانڈ کی درخواست مسترد کرتے ہوئے دونوں کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیجنے کا حکم دے دیا۔بعد ازاں اسلام آباد پولیس ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کو دوبارہ اڈیالہ جیل لے گئی۔
واضح رہے کہ ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کے خلاف تھانہ کوہسار میں مقدمہ درج ہے۔پولیس ذرائع کے مطابق مقدمے میں ریاست مخالف بیانیہ، اشتعال انگیزی اور کار سرکار میں مداخلت کی دفعات شامل ہیں۔
شیریں مزاری کا ردعمل
سابق وفاقی وزیر شیریں مزاری نے سوشل میڈیا بیان میں دعویٰ کیا کہ ایمان مزاری اور ہادی چٹھہ کو اڈیالہ جیل کے اندر سے ہی پولیس نے اپنی تحویل میں لیا،
کیونکہ اہل خانہ ابھی انہیں رہا کرانے کے لیے جیل نہیں پہنچے تھے اور کاغذی کارروائی مکمل نہیں ہوئی تھی۔
They actually took them from inside Adiala because we had not yet gone to get them released as paper work was not complete! Once again totally illegal to take somebody from inside the jail in this manner but then there has never been due process observed for Imaan and Hadi. https://t.co/VaizYeTkyf
— Shireen Mazari (@ShireenMazari1) September 17, 2026
شیریں مزاری نے اس اقدام کو غیرقانونی قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایمان اور ہادی کے معاملے میں پہلے بھی قانونی طریقہ کار کی پاسداری نہیں کی گئی۔
سپریم کورٹ نے آج ہی رہائی کا حکم دیا تھا
ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کو آج ہی سپریم کورٹ سے بڑا ریلیف ملا تھا۔ جسٹس نعیم اختر افغان اور جسٹس اشتیاق ابراہیم پر مشتمل دو رکنی بینچ نے دونوں کی سزائیں معطل کرتے ہوئے اسلام آباد ہائی کورٹ میں زیر سماعت مقدمے کے حتمی فیصلے تک ضمانت پر رہائی کا حکم دیا تھا۔
سپریم کورٹ نے دونوں کو دو، دو لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض ضمانت دی تھی، عدالت نے قرار دیا کہ سزا معطلی کا ریلیف اسلام آباد ہائی کورٹ کے حتمی فیصلے تک برقرار رہے گا۔
اس سے قبل اسلام آباد کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن عدالت نے 24 جنوری کو سوشل میڈیا پوسٹس سے متعلق مقدمے میں دونوں کو مجموعی طور پر 17،17 سال قید کی سزا سنائی تھی۔ سزائیں پیکا کی مختلف دفعات کے تحت سنائی گئی تھیں۔
سپریم کورٹ کے حکم کے بعد دونوں کی اڈیالہ جیل سے رہائی متوقع تھی، تاہم رہائی سے قبل ہی انہیں ایک دوسرے مقدمے میں دوبارہ حراست میں لے لیا گیا اور بعد ازاں انسداد دہشت گردی عدالت میں پیش کیا گیا۔
دوبارہ گرفتاری کے بعد نیا عدالتی مرحلہ
رہائی کے حکم کے بعد نئے مقدمے میں دوبارہ گرفتاری کے نتیجے میں ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کو انسداد دہشت گردی عدالت کے سامنے پیش کیا گیا، جہاں پولیس نے 30 روزہ جسمانی ریمانڈ مانگا، تاہم عدالت نے استدعا مسترد کرتے ہوئے دونوں کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا۔
BREAKING: Imaan Mazari and Hadi Ali Chattha have been REARRESTED moments before their release from Adiala Jail, hours after the Supreme Court suspended their sentences and ordered their release. Islamabad Police reportedly took the couple into custody outside the jail and… https://t.co/MC5kdnf6vg
— Alifya Sohail (@AlifyaSohail) September 17, 2026
تازہ پیش رفت کے بعد سپریم کورٹ کی جانب سے سزا معطلی اور ضمانت پر رہائی کا حکم اپنی جگہ موجود ہے جبکہ تھانہ کوہسار کے مقدمے میں انسداد دہشت گردی عدالت کی کارروائی الگ قانونی معاملے کے طور پر آگے بڑھے گی۔



