پاکستان نے مکہ مکرمہ پر یمن کے حوثیوں کے حملے شدید مذمت کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ پاکستان حرمین الشریفین کے تحفظ کے لئے سعودی عرب کے ساتھ ہے، حوثیوں کو اپنی سرگرمیاں روکنا ہوں گی۔
ترجمان دفتر خارجہ ترجمان سجاد حیدر نے ہفتہ وار پریس بریفنگ کے دوران کہا کہ مکہ مکرمہ کو نشانہ بنانے کی کوشش ایک گھناؤنا اور انتہائی تشویشناک اقدام ہے، جس سے دنیا بھر کے مسلمانوں کے جذبات مجروح ہوئے۔
انہوں نے کہا کہ وزیراعظم نے مقامات مقدسہ پر حملوں کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے، پاکستان سعودی عرب کی خودمختاری اور علاقائی سلامتی کی مکمل حمایت کرتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان مشرق وسطی کی بدلتی صورتحال کا باریک بینی سے جائزہ لے رہا ہے۔ پاکستان ڈائیلاگ اور سفارت کاری کی حمایت جاری رکھے گا۔
ترجمان نے بتایا کہ بھارتی بحری جہاز نے 15 ستمبر 2026 کو پاک نیوی مشق سی اسپارک 26 کے دوران پاکستانی خصوصی اقتصادی زون میں جارحانہ نقل و حرکت کرکے بین الاقوامی قانون اور دوطرفہ معاہدے کی سنگین خلاف ورزی کی، اس واقعے پر بھارت کے ناظم الامور کو گزشتہ رات دفتر خارجہ طلب کیا گیا، آج نئی دہلی میں پاکستانی ناظم الامور بھی بھارتی وزارت خارجہ میں احتجاج کریں گے۔
ترجمان نے مزید کہا کہ بھارتی اقدام سے خطے میں کشیدگی بڑھنے کا شدید خطرہ پیدا ہو گیا ہے ، بھارت غیر ذمہ دارانہ اقدامات سے گریز کرے جو عدم استحکام کا باعث بن سکتے ہیں۔
ترجمان نے کہا کہ پاکستان کے لئے 47 برس بعد امریکہ ایران کو ایک میز پر بٹھانا بڑی کامیابی تھی، پاکستان سمجھتا ہے کہ آئی ایم او یو پو عمل سے امن اور استحکام ممکن ہو سکتا ہے۔
مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے حوالے سے ترجمان کا کہنا تھا کہ مکہ معاہدہ جاری تعاون اور دو طرفہ اشتراک کو مزید تقویت دیتا ہے ، مکہ معاہدے کے سیکرٹری جنرل کے حوالے سے ابھی فیصلہ نہیں ہوا۔
انہوں نے کہا کہ امن و استحکام کا فروغ پاکستان اور پورے خطے کے مفاد میں ہے، قطر اور ترکی نے افغانستان کے ساتھ ثالثی کیلئے مثبت کردار ادا کیا، دوست ممالک کی کوششوں کے باوجود افغان ردعمل منفی رہا، پاکستان افغانستان سے دہشتگردی نہ ہونے کی یقین دہانی چاہتا ہے۔ چین سمیت تمام علاقائی ممالک خطے میں امن کے خواہاں ہیں، ہمارا مقصد خطے میں امن و استحکام ہے۔
سجاد حیدر کا کہنا تھا کہ اسلام آباد میں ایس سی او اجلاس میں بھارت کی نمائندگی ناظم الامور نے کی تھی، امید ہے اگلے سال اسلام آباد میں ایس سی او اجلاس میں بھی بھارت کی نمائندگی ہو گی۔
ترجمان نے کہا کہ ترکی، سعودی عرب اور پاکستان کے دفاعی تعاون کو سیاحت تک بڑھانے پر غور ہونا چاہیے، تینوں ممالک کے درمیان سیاحتی تعاون پر اہم پیش رفت ہو سکتی ہے۔
سکھ یاتریوں کے حوالے سے بات کرتے ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ پاکستانی سکھ شہریوں کو بھارت جانے سے روکے جانے کی خبریں غلط ہیں، بھارت نے واہگہ بارڈر بند کیا اور پاکستانی شہریوں کے لیے ویزا بھی مشکل بنا رکھا ہے، رواں برس پاکستان نے صرف ویساکھی کے لیے 2800 سے زیادہ ویزے جاری کیے، کرتار پور راہداری پاکستان نے نہیں بلکہ بھارت نے بند کر رکھی ہے، پاکستان کرتارپور راہداری سے سکھ یاتریوں کو خوش آمدید کہنے کیلئے مکمل تیار ہے۔
ترجمان سجاد حیدر نے مزید بتایا کہ لبنانی وزیر خارجہ نے دورہ پاکستان کے موقع پر وزیراعظم شہباز شریف نے لبنان کی خودمختاری اور علاقائی سلامتی کی حمایت کا اعادہ کیا، پاک لبنان ایم او یو کے تحت سزا یافتہ مجرم سزائیں اپنے اپنے ملک میں مکمل کریں گے۔
ترجمان نے بتایا کہ مسئلہ کشمیر کی طرح فلسطین کے معاملے پر پاکستان کی پالیسی بلکل واضح ہے، پاکستان 4 جون 1967 کی سرحدوں کے مطابق آزاد فلسطین کا حامی ہے۔ لبنان اور شام کو بھی اسرائیلی جارحیت کا سامنا ہے، اکھنڈ بھارت کی طرح گریٹر اسرائیل والی توسیع پسندانہ پالیسی اور نظرئیے پر عمل کیا جا رہا ہے۔



