اسلام آباد: وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک کی زیر صدارت پیٹرولیم ڈیلرز اور پمپ ایسوسی ایشنز کا اہم اجلاس ہوا، جس میں وزیراعظم کی فیول ریلیف اسکیم پر عملدرآمد اور پیٹرولیم ڈیلرز کو درپیش مختلف امور کا جائزہ لیا گیا۔
اجلاس میں پیٹرولیم ڈیلرز اور پمپ تنظیموں نے حکومتی فیول ریلیف اسکیم کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسکیم پر مؤثر عملدرآمد کے لیے حکومت کو مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی۔
وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نے پیٹرولیم ڈیلرز کی جانب سے تعاون کو سراہتے ہوئے کہا کہ اسکیم کو کامیاب بنانے کے لیے تمام اسٹیک ہولڈرز کے درمیان قریبی رابطہ اور مؤثر تعاون ضروری ہے۔
اجلاس کے دوران پیٹرولیم ڈیلرز کو فیول ریلیف اسکیم کے تحت عملدرآمد کے طریقہ کار، کلیمز کی ادائیگی، رقوم کی واپسی اور دیگر اہم پہلوؤں پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ ڈیلرز کی جانب سے اسکیم سے متعلق تحفظات اور مختلف امور بھی اجلاس میں زیر بحث آئے۔
اسٹیٹ بینک حکام نے اجلاس کو بتایا کہ فیول ریلیف اسکیم کے تحت پیٹرولیم ڈیلرز کی جانب سے جمع کرائے جانے والے کلیمز 48 گھنٹوں کے اندر پراسیس کرنے کی کوشش کی جائے گی۔
اسٹیٹ بینک نے یقین دہانی کرائی کہ اسکیم کے تحت پیٹرولیم ڈیلرز کو بروقت رقوم کی واپسی یقینی بنائی جائے گی۔
وزارت آئی ٹی کے حکام نے اجلاس کو بتایا کہ پیٹرول پمپس کو فیول ریلیف اسکیم کے حوالے سے سہولت فراہم کرنے کے لیے خصوصی کنٹرول روم قائم کیا گیا ہے، جہاں سے متعلقہ مسائل کے حل اور رہنمائی کے لیے معاونت فراہم کی جائے گی۔
وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نے بتایا کہ فیول ریلیف اسکیم کے لیے تین ماہ کے فنڈز مختص کیے گئے ہیں، جبکہ پہلے ماہ کے لیے 25 ارب روپے اسٹیٹ بینک کو فراہم بھی کر دیے گئے ہیں۔
علی پرویز ملک نے کہا کہ وزیراعظم کی فیول ریلیف اسکیم عوام کو ریلیف کی فراہمی کے لیے اہم اقدام ہے، اس کے مؤثر اور شفاف عملدرآمد کے لیے تمام متعلقہ اداروں اور ڈیلرز کے درمیان مسلسل رابطہ ضروری ہے۔
اجلاس میں سیکریٹری پیٹرولیم، وزارت آئی ٹی، اوگرا، اسٹیٹ بینک اور پیٹرولیم ڈیلرز و پمپ ایسوسی ایشنز کے نمائندگان نے شرکت کی۔



