یمن کے حوثیوں کی جانب سے اہم ساحلی علاقوں پر قبضے اور سعودی حمایت یافتہ فورسز کو پیچھے دھکیلنے کے چند روز بعد امریکی حکام اور حوثی رہنماؤں کے درمیان عمان میں مبینہ خفیہ ملاقات کا انکشاف سامنے آیا ہے۔
خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق امریکی حکام نے اتوار کے روز مسقط میں امریکی سفارتخانے میں یمن کے حوثیوں کے نمائندوں سے ملاقات کی۔
رپورٹ کے مطابق ملاقات میں امریکی وفد کی نمائندگی سفارتخانے کے حکام نے کی جبکہ حوثی وفد میں مسقط میں مقیم سینئر عہدیدار محمد عبدالسلام شامل تھے، جن کا نام امریکی پابندیوں کا شکار افراد کی فہرست میں بھی موجود ہے۔ ایک ذریعے نے وفد میں سینیئر حوثی رہنما عبدالملک العجری کی موجودگی کی بھی تصدیق کی ہے۔
میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا کہ حوثیوں نے امریکا کو 2025 کی جنگ بندی برقرار رہنے کی یقین دہانی کراتے ہوئے کہا کہ بحیرۂ احمر میں امریکی بحری جہازوں پر حملے نہیں کئے جائیں گے، سعودی عرب سے منسلک جہاز ہمارا ہدف ہیں۔
🔴 US officials met representatives of Yemen’s Houthis in Oman over the weekend, Reuters reports, citing five sources familiar with the matter
🔴 The Houthis told US officials that they had no intention of attacking American vessels and that they were committed to the 2025 ceasefire with the US, two sources said
— Al Arabiya English (@AlArabiya_Eng) September 16, 2026
اس سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ہفتے کے روز کہا تھا کہ حوثیوں نے ان کی انتظامیہ سے فون پر رابطہ کرکے امریکا سے یمن کی جنگ سے دور رہنے کی درخواست کی تھی۔
ترک نیوز ایجنسی انادولو کے مطابق امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے یمن کے حوثیوں سے براہِ راست رابطے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ واشنگٹن حوثیوں کے ساتھ براہِ راست رابطے میں ہے ، اس کے علاوہ ہم امارات، سعودی اور خطے کے دیگر فریقوں کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہیں۔ اور صورتحال پر گہری نظر رکھی ہے۔
یاد رہے کہ امریکا نے مارچ 2025 میں حوثیوں کو غیرملکی دہشتگرد تنظیم قرار دیا تھا۔ امریکی نائب صدر کا بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب یمنی حکومتی فورسز اور حوثیوں کے درمیان لڑائی میں شدت آ رہی ہے، جبکہ حوثی گروپ کی جانب سے سعودی عرب میں توانائی کے تنصیبات کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے۔
واضح رہے کہ یمن میں جاری کشیدگی میں گزشتہ ہفتے اس وقت اچانک تیزی آئی تھی جب حوثیوں نے یمن کے بحیرہ احمر کے ساحلی علاقوں، بشمول المُخا اور باب المندب کے دہانے پر واقع اہم ترین پیرم جزیرے پر کنٹرول حاصل کر لیا تھا۔
یمن کے دارالحکومت صنعا پر بھی 2014 سے حوثیوں کا کنٹرول ہے۔ حالیہ لڑائی شروع ہونے کے بعد حوثیوں نے بحیرہ احمر میں سعودی عرب کے جہازوں کے گزرنے پر پابندی کا اعلان کر رکھا ہے۔



