پاکستان تحریک انصاف کے رہنما و وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے مسلم لیگ ن کو کھلا سیاسی چیلنج دیتے ہوئے کہا ہے کہ ن لیگ پنجاب کے کسی بھی شہر کا انتخاب کرے، پی ٹی آئی اپنی پسند کا شہر منتخب کرلے، جبکہ جلسے کا دن، تاریخ اور وقت بھی ن لیگ طے کرلے۔
سہیل آفریدی نے اپنے بیان میں کہا کہ دونوں جماعتوں کو مکمل اور یکساں سیاسی میدان فراہم کیا جائے، اگر ن لیگ کا جلسہ عوامی شرکت کے لحاظ سے پی ٹی آئی کے جلسے سے بڑا ثابت ہوا تو وہ سیاست چھوڑنے کے لیے تیار ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اگر پی ٹی آئی کا جلسہ بڑا ہوا تو مسلم لیگ ن کو پنجاب کے عوام کے سامنے اپنے عوامی مینڈیٹ، سیاسی کارکنوں پر مبینہ ظلم و تشدد، طرز حکمرانی اور کارکردگی سے متعلق سوالات کا جواب دینا ہوگا۔
سہیل آفریدی کے مطابق ن لیگ کو عوام سے معذرت کرنے کے ساتھ اپنی سیاسی حکمت عملی اور قیادت پر بھی نظرثانی کرنا ہوگی۔
’’عوامی طاقت سے فیصلہ ہونے دیں‘‘
پی ٹی آئی رہنما نے کہا کہ مسلم لیگ ن کو اپنی حکومت کی کارکردگی اور پنجاب کے عوام میں مقبولیت پر اعتماد ہے تو اسے یہ چیلنج قبول کرنے میں کوئی ہچکچاہٹ نہیں ہونی چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ ن کے لیے سب سے بڑا سیاسی امتحان مریم نواز کی حکومت کی کارکردگی ہے، ان کے بقول اگر ن لیگ کو اپنی حکومت کی کارکردگی اور عوامی مقبولیت پر اعتماد ہے تو سیاسی میدان میں آکر عوام کی طاقت سے فیصلہ ہونے دیا جائے۔
سہیل آفریدی نے کہا کہ فیصلہ دعوؤں، سرکاری اعداد و شمار یا میڈیا بیانات سے نہیں بلکہ جلسوں میں عوام کی شرکت اور عوامی ردعمل سے ہونا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ چیلنج واضح طور پر سامنے رکھ دیا ہے اور اب پنجاب کے عوام فیصلہ کریں گے۔
میں ساری نون لیگ کو ایک کھلا سیاسی چیلنج دیتا ہوں۔
پنجاب کے کسی بھی شہر کا انتخاب نون لیگ خود کرے، جبکہ تحریک انصاف کے لیے بھی وہ اپنی مرضی کا کوئی بھی شہر منتخب کر لے۔ دن، تاریخ اور وقت بھی نون لیگ خود طے کرے۔ شرط صرف یہ ہے کہ دونوں جماعتوں کو مکمل اور یکساں لیول پلیئنگ فیلڈ دی…
— Sohail Afridi (@SohailAfridiISF) September 17, 2026
سہیل آفریدی نے اپنے بیان میں 8 فروری کے عام انتخابات کا حوالہ دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ پنجاب کے عوام نے اس موقع پر پی ٹی آئی کو دو تہائی اکثریت دی تھی۔
سہیل آفریدی کا دورہ لاہور
خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے ستمبر میں پی ٹی آئی کی پنجاب میں عوامی رابطہ مہم کے سلسلے میں لاہور کا دورہ کیا۔ پی ٹی آئی کے مطابق دورے کا مقصد 27 ستمبر کے احتجاج کے لیے کارکنوں کو متحرک کرنا اور پنجاب کی پارٹی قیادت و کارکنوں سے رابطے کرنا تھا۔
لاہور میں قیام کے دوران سہیل آفریدی نے پی ٹی آئی رہنماؤں اور پنجاب کے پارلیمانی نمائندوں سے ملاقاتیں کیں جبکہ مختلف مقامات پر کارکنوں سے خطاب بھی کیا، ان کی زیر صدارت پنجاب کے پارلیمینٹیرینز کا اجلاس بھی ہوا جس میں اسٹریٹ موومنٹ کے سلسلے میں عوامی رابطہ جاری رکھنے پر اتفاق کیا گیا۔
دورے کے دوران پنجاب پولیس اور پی ٹی آئی کارکنوں کے درمیان کشیدگی بھی سامنے آئی، سہیل آفریدی نے پولیس پر کارکنوں کی گرفتاریوں، راستوں کی
بندش اور مبینہ رکاوٹوں کے الزامات عائد کیے جبکہ پنجاب حکومت کی جانب سے ان الزامات کو سیاسی بیان بازی قرار دیا گیا۔
سہیل آفریدی نے لاہور سے روانگی کے موقع پر بھی کارکنوں سے خطاب کیا اور 27 ستمبر کے احتجاج کی تیاریوں کا ذکر کیا۔



