وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ گزشتہ مالی سال برطانیہ سے پاکستان کو 6.9 ارب ڈالر کی ترسیلات زر موصول ہوئیں جبکہ مجموعی طور پر پاکستان کو 41.6 ارب ڈالر کی ترسیلات زر آئیں، رواں مالی سال مجموعی ترسیلات زر تقریباً 44 ارب ڈالر رہنے کا تخمینہ ہے۔
لندن میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر خزانہ نے کہا کہ اپریل سے روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹ میں ماہانہ 300 ملین ڈالر سے زائد کی آمد ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کا فوکس اب امداد کے بجائے تجارت اور سرمایہ کاری پر ہے اور حکومت برطانیہ سے تجارت اور سرمایہ کاری کے بہاؤ کو مزید بڑھانے پر توجہ دے رہی ہے۔
محمد اورنگزیب نے کہا کہ تنازع کے باوجود خلیجی ممالک سے ترسیلات زر میں کمی کے بجائے اضافہ ہوا ہے، انہوں نے کہا کہ بیرون ملک مقیم پاکستانی ملکی معیشت میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔
پیٹرولیم ضروریات کے حوالے سے صورتحال
وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا کہ ستمبر تک پاکستان پیٹرولیم ضروریات کے حوالے سے کورڈ ہے جبکہ اکتوبر میں بھی صورتحال بہتر دکھائی دے رہی ہے۔ نومبر کی پیٹرولیم ضروریات کی منصوبہ بندی وزارت پیٹرولیم اور این سی سی ایم سی کر رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات مشکل ضرور ہیں لیکن پیٹرولیم ضروریات کے حوالے سے صورتحال کو مینیج کیا گیا ہے، ان کے مطابق مہنگائی ایک عالمی رجحان ہے اور پیٹرولیم قیمتوں سمیت عالمی عوامل اس پر اثرانداز ہو رہے ہیں۔
محمد اورنگزیب نے کہا کہ ناجائز منافع خوری کی روک تھام کے لیے ضلعی اور صوبائی انتظامیہ کے ساتھ مل کر اقدامات کیے جائیں گے۔
آئی ٹی ایکسپورٹس اور نوجوانوں کے لیے مواقع
وزیر خزانہ نے بتایا کہ گزشتہ سال پاکستان کی آئی ٹی ایکسپورٹ سروسز 4.6 ارب ڈالر رہیں، جن میں سے 1.6 ارب ڈالر فری لانسرز کے ذریعے آئے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت کا مقصد نوجوانوں کو صرف سرکاری نوکریاں دینا نہیں بلکہ انہیں ایسا ایکو سسٹم فراہم کرنا ہے جس کے ذریعے وہ روزگار اور کاروبار کے مواقع حاصل کرسکیں، نوجوانوں کو کنیکٹیویٹی، اپ اسکلنگ، ری اسکلنگ اور تعلیم کی سہولت دینا ہوگی۔
محمد اورنگزیب کے مطابق فائیو جی اسپیکٹرم کی نیلامی سے نوجوانوں کو بہتر کنیکٹیویٹی کے مواقع میسر آئیں گے۔
جی ایس پی پلس کی تجدید پاکستان کے لیے اہم ہے
وزیر خزانہ نے کہا کہ جی ایس پی پلس کی تجدید پاکستان کے لیے انتہائی اہم ہے۔ پاکستان GSP Plus کے نئے قواعد و ضوابط پر عمل درآمد کرے گا اور اس معاملے پر پوری حکومت کو مل کر کام کرنا ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان امداد کے بجائے تجارت اور سرمایہ کاری کے بہاؤ پر توجہ دے رہا ہے اور ملک ایکسپورٹ لیڈ گروتھ کی طرف جا رہا ہے۔
پاکستان کو 6 ارب ڈالر کی آرڈر بک موصول ہوئی، وزیر خزانہ
محمد اورنگزیب نے کہا کہ پاکستان نے 3 ارب ڈالر مانگے تھے لیکن 6 ارب ڈالر کی آرڈر بک موصول ہوئی، جس میں یورپی اور امریکی بلیو چپ سرمایہ کار شامل ہیں۔
🇵🇰📈 PAKISTAN’S ECONOMIC PUSH!
Finance Minister Muhammad Aurangzeb told London investors that Pakistan is advancing stability, structural reforms, privatization & investment.
✅ IMF reviews on schedule
📊 Reforms strengthening the economy & business climate. pic.twitter.com/bHBri62Itp— Strategic Vanguard ⚔️ (@StrategicVang) September 17, 2026
ان کے مطابق عالمی سرمایہ کار پاکستان کو آئی ایم ایف پروگرام سے آگے دیکھ رہے ہیں، سرمایہ کاروں نے پاکستان کو ساڑھے پانچ سال اور 10 سال کی مدت کے لیے فنانسنگ فراہم کی جبکہ پاکستان کو انتہائی مسابقتی شرح پر فنانسنگ ملی۔
وزیر خزانہ نے بتایا کہ آئی ایم ایف کے چوتھے جائزے کے لیے مذاکرات رواں ماہ کے آخر میں ہوں گے۔
امریکا اور برطانیہ سے تجارت و سرمایہ کاری پر بات چیت
محمد اورنگزیب نے کہا کہ امریکا کے ساتھ ٹیرف معاملات پر بات چیت جاری ہے اور بہتر فریم ورک ایگریمنٹ کے لیے مذاکرات ہو رہے ہیں، امریکی اداروں سے تجارت اور سرمایہ کاری کے لیے تعاون حاصل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت کا مقصد امداد پر انحصار کرنے کے بجائے تجارت اور سرمایہ کاری کو فروغ دینا ہے۔
وزیر خزانہ کے مطابق برطانیہ کے نئے ٹریڈ منسٹر انس سرور سے تجارت اور سرمایہ کاری پر بات ہوئی ہے، برطانیہ سے اشیا اور سروسز کی تجارت کو مزید آگے بڑھانے پر بھی گفتگو ہوئی جبکہ برطانوی ٹریڈ منسٹر کو پاکستان کے دورے کی دعوت دی ہے۔



