پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سیکرٹری جنرل سلمان اکرم راجا کو گرفتاری کے بعد رہا کر دیا گیا۔ انہیں اسلام آباد کے علاقے نیلور سے گرفتار کیا گیا تھا۔
پاکستان تحریک انصاف کے سیکرٹری جنرل سلمان اکرم راجا نے کہا ہے کہ انہیں لطاف حسین ستی، اخلاق ستی اور دیگر ساتھیوں سمیت چار گھنٹے تک غیرمنصفانہ طور پر حراست میں رکھنے کے بعد رہا کردیا گیا۔
سلمان اکرم راجا نے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں کہا کہ انہیں اور ان کے ساتھیوں کو حراست میں رکھنے کا واحد مقصد مرحوم اعجاز ستی کی نماز جنازہ میں شرکت سے روکنا تھا۔
انہوں نے کہا کہ چار گھنٹے کی حراست کے بعد انہیں لطاف حسین ستی، اخلاق ستی اور دیگر ساتھیوں سمیت رہا کردیا گیا ہے۔
پی ٹی آئی سیکرٹری جنرل نے الزام عائد کیا کہ عوام کے خوف نے فیصلہ سازوں سے عقل اور سمجھ چھین لی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ انسانی حقوق بے معنی ہو کر رہ گئے ہیں۔
چار گھنٹے مجھے، لطاسب ستی صاحب، اخلاق ستی صاحب اور ہمارے متعدد دوستوں کو حبس بے جا میں رکھنے کے بعد رہا کر دیا گیا ہے۔ مقصد صرف اعجاز ستی مرحوم کے جنازے میں شرکت سے روکنا تھا۔ عوام کا خوف فیصلہ سازوں سے عقل و فہم چھین چکا ہے۔ انسانی حقوق بے معنی ہو چکے ہیں۔ دوستوں کا نیک تمناوں…
— salman akram raja (@salmanAraja) September 17, 2026
سلمان اکرم راجا نے اپنی رہائی کے بعد خیرخواہی اور نیک خواہشات کا اظہار کرنے والے دوستوں کا شکریہ بھی ادا کیا۔
قبل ازیں ترجمان اپوزیشن حسین احمد یوسفزئی نے ہم ڈیجیٹیل سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ پی ٹی آئی سیکرٹری جنرل سلمان اکرم راجا کو دیگر رہنماؤں کے ساتھ گرفتار کر لیا گیا ہے، وہ پارٹی کارکن اعجاز ستی کے جنازے میں شرکت کے لیے جا رہے تھے۔
پی ٹی آئی رہنماؤں نے الزام عائد کیا کہ پولیس نے جنازے میں شرکت کے لیے جانے والے پارٹی رہنماؤں اور کارکنوں کی نقل و حرکت میں رکاوٹیں ڈالیں اور متعدد افراد کو حراست میں لیا۔
پی ٹی آئی کے آفیشل ایکس اکاؤنٹ سے پوسٹ میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ اعجاز ستی کی نماز جنازہ میں شرکت کے لیے جانے والے پی ٹی آئی رہنماؤں اور کارکنوں کو پولیس نے حراست میں لے لیا ہے۔
پی ٹی آئی کے مطابق پارٹی کارکن اعجاز ستی کی نماز جنازہ میں شرکت کے لیے کوٹلی ستیاں جا رہے تھے کہ اس دوران پی ٹی آئی کے سیکرٹری جنرل سلمان اکرم راجا، میرہ کوٹلی ستیاں سے رکن قومی اسمبلی اور پارٹی کے نمائندے لطاف ستی سمیت دیگر افراد کو پولیس نے حراست میں لے کر اسلام آباد کے نیلور پولیس اسٹیشن منتقل کردیا۔
پی ٹی آئی کا کہنا تھا کہ اس سے پہلے اس کے کارکن اعجاز ستی کو شہید کیا گیا اور اب لوگوں کو ان کی نماز جنازہ میں شرکت سے روکنے کے لیے گرفتاریاں اور مبینہ اغوا کیے جا رہے ہیں۔
پارٹی نے رہنماؤں کی حراست کو غیرقانونی قرار دیتے ہوئے الزام عائد کیا کہ طاقت کے استعمال کے ذریعے کارکنوں اور رہنماؤں کو جنازے میں شرکت سے روکا جا رہا ہے۔
تحریک انصاف کے ورکر اعجاز ستی شہید کے نماز جنازہ میں شرکت کے لیے کوٹلی ستیاں جاتے ہوئے تحریک انصاف کے سیکرٹری جنرل سلمان اکرم راجہ، مری – کوٹلی ستیاں سے حقیقی MNA لطاسب ستی اور دیگر کو غیرقانونی طور پر اغوا کر کے تھانہ نیلور اسلام آباد میں منتقل کر دیا گیا
پہلے ہمارے ورکر کو…
— PTI (@PTIofficial) September 17, 2026
پی ٹی آئی کی جانب سے جاری بیان میں حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ملک پر مسلط کیا گیا ’’مافیا‘‘ اخلاقیات سے عاری ہے اور اقتدار کے نشے میں اسلامی اصول بھی فراموش کرچکا ہے۔
تاہم، پی ٹی آئی کے بیان میں پولیس کی جانب سے سلمان اکرم راجا، لطاسب ستی اور دیگر افراد کو حراست میں لینے کی قانونی وجہ یا ان کے خلاف کسی مقدمے کی تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔ اس بارے میں پولیس کی جانب سے ابھی کوئی تفصیل جاری نہیں کی گئی ہے۔
سلمان اکرم راجہ سیکرٹری جنرل پاکستان تحریک انصاف اعجاز ستی شہید کے جنازہ میں شرکت کرنے کے لئے جارہے تھے،راستے میں اسلام آباد پولیس نے ان کو روک لیا ہے اور ان کو غیر قانونی طور پر اس وقت نیلور پولیس اسٹیشن اسلام آباد میں رکھا ہوا ہے
— Shaukat Basra (@sh_basra) September 17, 2026
پی ٹی آئی پنجاب کے ڈپٹی انفارمیشن سیکریٹری شوکت بسرا نے بھی ایکس پر اپنی پوسٹ میں کہا کہ اعجاز ستی کی نماز جنازہ میں شرکت کے لیے جا رہے تھے کہ راستے میں اسلام آباد پولیس نے انہیں روک لیا۔
سلمان اکرم راجا کی گرفتاری پر بیرسٹر گوہر کا ردعمل
چیئرمین پاکستان تحریک انصاف بیرسٹر گوہر نے سوشل میڈیا پر کہا تھا کہ پی ٹی آئی کے سیکرٹری جنرل سلمان اکرم راجا کو پولیس نے حراست میں لے رکھا ہے اور وہ گزشتہ دو گھنٹے سے پولیس اسٹیشن میں موجود ہیں۔
بیرسٹر گوہر نے کہا کہ انہیں ایڈووکیٹ شوکت بسرا کے ذریعے اطلاع ملی ہے کہ پولیس نے سلمان اکرم راجہ کو حراست میں لے لیا ہے، انہوں نے پی ٹی آئی سیکرٹری جنرل کی گرفتاری کی شدید مذمت کرتے ہوئے ان کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا۔
I have just been informed by Shaukat Basra Adv that Secretary General PTI Salman Akram Raja has been detained at police station by the police for the last two hours. I strongly condemned this and called upon his immediate release. For the last few days about 700 workers have been… pic.twitter.com/e5zRGTvU1q
— Barrister Gohar Khan (@BarristerGohar) September 17, 2026
چیئرمین پی ٹی آئی نے دعویٰ کیا کہ گزشتہ چند روز کے دوران تقریباً 700 پی ٹی آئی کارکنوں کو گرفتار کیا جاچکا ہے جبکہ ارکان قومی اسمبلی اور ارکان صوبائی اسمبلی کے خلاف بھی گرفتاری کے وارنٹ جاری کیے گئے ہیں۔
بیرسٹر گوہر نے ان کارروائیوں کو غیرقانونی قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ سلسلہ اب ختم ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ’’ایک ریاست، دو دستور نامنظور‘‘۔
