کراچی: آئی جی سندھ جاوید عالم اوڈھو نے کہا ہے کہ کراچی میں رواں سال موبائل فون چھیننے کی وارداتوں میں اضافہ ہوا ہے، تاہم پولیس جرائم کی روک تھام کے لیے مختلف اقدامات کررہی ہے۔
انہوں نے بلوچستان سے منشیات کی مبینہ ترسیل اور کراچی میں اس کے پھیلاؤ کے پیش نظر منشیات کے خلاف بھی حکمت عملی تیار کرنے کا اعلان کیا۔
سندھ اسمبلی کی قائمہ کمیٹی کے اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے آئی جی سندھ نے بتایا کہ گزشتہ رات منشیات کے ایک بڑے سپلائر کو ہلاک کیا گیا ہے تاہم انہوں نے ہلاک ہونے والے شخص کا نام یا واقعے کی مزید تفصیلات بتانے سے گریز کیا۔
بلوچستان میں منشیات کی مبینہ فیکٹریوں کا معاملہ
جاوید عالم اوڈھو نے کہا کہ بلوچستان سے منشیات کی ترسیل کی اطلاعات سامنے آئی ہیں، اس حوالے سے وہ جلد آئی جی بلوچستان سے رابطہ کریں گے اور صوبے میں مبینہ طور پر قائم منشیات کی فیکٹریوں کے معاملے پر بات چیت کی جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ پولیس منشیات کے استعمال کی روک تھام کے لیے اینٹی نارکوٹکس فورس (اے این ایف) کے ساتھ مل کر اسکولوں میں بھی اقدامات کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔
میر رضا قتل کیس، جوڈیشل کمیشن کی تحقیقات جاری
کراچی کے تاجر میر رضا علی کے قتل کے معاملے پر آئی جی سندھ نے کہا کہ انہوں نے ان پولیس افسران سے بات کی ہے جن کے نام کراچی پولیس سرجن ڈاکٹر سمیعہ سید کو مبینہ دھمکیوں کے حوالے سے سامنے آئے ہیں تاہم جوڈیشل کمیشن کی تحقیقات جاری ہونے کے باعث وہ اس معاملے پر مزید تبصرہ نہیں کرسکتے۔
جاوید عالم اوڈھو کا کہنا تھا کہ کمیشن کے سامنے جو کچھ آئے گا، اسی کی بنیاد پر پولیس اس کیس کے بارے میں اپنا مؤقف پیش کرے گی۔
سندھ ہائیکورٹ کے جسٹس عمر سیال کی سربراہی میں قائم جوڈیشل کمیشن میر رضا کی موت کے حالات اور تحقیقات میں مبینہ غفلت کا جائزہ لے رہا ہے۔
کراچی میں مجموعی امن و امان بہتر ہوا، آئی جی سندھ
جاوید عالم اوڈھو نے کہا کہ کراچی میں مجموعی طور پر امن و امان کی صورتحال میں بہتری آئی ہے اور پولیس شہریوں کی جان و مال کے تحفظ اور جرائم پر قابو پانے کے لیے اپنی ذمہ داریاں انجام دے رہی ہے۔
تاہم انہوں نے موبائل فون چھیننے کی وارداتوں میں اضافے کو تشویش کا باعث قرار دیا اور کہا کہ پولیس اس مسئلے پر قابو پانے کے لیے اقدامات کررہی ہے۔ منشیات کی اسمگلنگ اور استعمال کے خلاف بھی حکمت عملی پر کام جاری ہے۔
کورنگی میں کرائم مانیٹرنگ اینڈ ٹاسک فورس سیل قائم
بعد ازاں آئی جی سندھ جاوید عالم اوڈھو نے کورنگی ایسوسی ایشن آف ٹریڈ اینڈ انڈسٹری میں کرائم مانیٹرنگ اینڈ ٹاسک فورس سیل کا افتتاح کیا۔
اس موقع پر انہوں نے کہا کہ نیا سیل پولیس اور صنعتی و کاروباری برادری کے درمیان رابطہ مزید مضبوط بنانے میں مدد دے گا۔
“Karachi sees a slight rise in mobile phone snatching incidents this year,” said Javed Alam Odho – DIG Sindh Police.#TOKReports #Karachi #DIGPolice #Pakistan #MobileSnatching pic.twitter.com/R41ziCjJDT
— Times of Karachi (@TOKCityOfLights) September 16, 2026
آئی جی سندھ کے مطابق صنعتی علاقوں میں تاجروں اور کاروباری افراد کا تحفظ اور امن و امان برقرار رکھنا سندھ پولیس کی ترجیحات میں شامل ہے۔ پولیس اور کاروباری برادری کے درمیان مؤثر رابطے سے جرائم کی روک تھام اور عوامی تحفظ کو بہتر بنانے میں مدد مل سکتی ہے۔
پولیس سرجن کا دھمکیوں اور نگرانی کا بیان
واضح رہے کہ پولیس سرجن ڈاکٹر سمیعہ سید نے منگل کو جوڈیشل کمیشن کے سامنے بیان دیتے ہوئے الزام عائد کیا تھا کہ میر رضا کے پہلے پوسٹ مارٹم کی رپورٹ میں موجود تضادات کی نشاندہی کرنے کے بعد انہیں دھمکیوں اور نگرانی کا سامنا کرنا پڑا۔
ڈاکٹر سمیعہ کے مطابق دو روز تک موٹر سائیکل سواروں نے ان کا تعاقب کیا جبکہ ان کے خاندان اور رہائش گاہ سے متعلق معلومات سوشل میڈیا پر شیئر کی گئیں۔ انہوں نے کمیشن کو بتایا کہ اس معاملے پر انہوں نے نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (NCCIA) میں بھی شکایت درج کرائی تھی۔
یہ الزامات جوڈیشل کمیشن کے سامنے بیان کیے گئے ہیں اور کمیشن کی جانب سے ان کی حتمی تصدیق یا متعلقہ افسران کے خلاف کوئی حتمی نتیجہ سامنے نہیں آیا۔
دوسرے پوسٹ مارٹم میں متعدد زخم سامنے آئے
میر رضا علی 28 جولائی کو لاپتا ہوئے تھے اور اگلے روز ان کی لاش گلستان جوہر سے ملی تھی، ان کے جسم پر گولی لگنے کا زخم موجود تھا۔ میر رضا کے اہل خانہ نے واقعے کو قتل قرار دیتے ہوئے خودکشی کے ابتدائی تاثر کو مسترد کیا تھا۔
ڈاکٹر سمیعہ سید نے پہلے میڈیکو لیگل معائنے کی رپورٹ اور دستیاب تصاویر میں مبینہ تضادات کی نشاندہی کی، جس کے بعد لاش قبر سے نکال کر دوبارہ پوسٹ مارٹم کیا گیا۔
دوسرے پوسٹ مارٹم میں متعدد زخم سامنے آئے اور پولیس سرجن کے بیان کے مطابق اس معائنے کے نتائج نے خودکشی کے امکان کو مسترد کیا۔
ڈاکٹر سمیعہ نے کمیشن کو یہ بھی بتایا کہ جب انہوں نے پہلے پوسٹ مارٹم پر پولیس افسر کے سامنے تحفظات کا اظہار کیا تو انہیں مبینہ طور پر کہا گیا کہ اگر وہ خودکشی سے متعلق نتائج کی مخالفت نہ کریں تو تفتیش کے دوران پولیس ان کے ساتھ نرمی برتے گی۔
انہوں نے ڈی آئی جی کرائم اینڈ انویسٹی گیشن عامر فاروقی پر بھی اپنے نتائج پر اثرانداز ہونے کی کوشش کا الزام عائد کیا۔ یہ بھی کمیشن کے سامنے لگائے گئے الزامات ہیں، جن پر ابھی کوئی حتمی عدالتی فیصلہ سامنے نہیں آیا۔



