وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے اعلان کیا ہے کہ وہ منگل کی شام لاہور میں اپنی ’سڑکوں پر تحریک‘ دوبارہ شروع کریں گے۔
انہوں نے پنجاب پولیس پر راستے بند کرنے، پارٹی کارکنوں کو گرفتار کرنے اور انہیں بغیر سکیورٹی کے شہر میں گھمانے کا الزام عائد کرتے ہوئے گزشتہ روز کے واقعات کو منصوبہ بندی کے تحت کارروائی قرار دیا۔
ویڈیو پیغام میں سہیل آفریدی نے کہا کہ وہ اب بھی لاہور میں موجود ہیں اور منگل کو شام 5 بجے دوبارہ سڑکوں پر نکلیں گے۔
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے کہا کہ پیر کو لاہور میں احتجاج یا سرگرمی کیلئے پارٹی کی جانب سے کوئی باضابطہ کال نہیں دی گئی تھی، اس کے باوجود بڑی تعداد میں لوگ سڑکوں پر نکل آئے۔
ان کا کہنا تھا کہ ہم نے کسی کو نہیں بتایا تھا کہ کہاں جانا ہے لیکن لاہور کے عوام خود سڑکوں پر نکل آئے۔
سہیل آفریدی نے الزام عائد کیا کہ پنجاب پولیس نے مظاہرین کے لیے راستے بند کر دیے جبکہ جن علاقوں سے وہ گزر رہے تھے وہاں لائٹس بھی بند کردی گئیں۔
انہوں نے مزید الزام لگایا کہ احتجاج میں شریک افراد کی گاڑیوں کو پیٹرول کی فراہمی روکنے کیلئے پیٹرول پمپس بند کرائے گئے اور پمپ مالکان کو مظاہرین کی گاڑیوں میں ایندھن فراہم کرنے سے روکا گیا۔
کارکنوں کو گرفتار کرنے کا الزام
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کے مطابق جس مقام پر ان کے گروپ نے قیام کیا تھا وہاں لگائے گئے خیمے بھی ہٹا دیے گئے اور وہاں پہنچنے والے کارکنوں کو گرفتار کیا گیا۔
سہیل آفریدی نے دعویٰ کیا کہ گرفتار کارکنوں کو پولیس وینز میں منتقل کیا گیا، جس پر انہوں نے احتجاجاً ایک پولیس وین پر کھڑے ہوکر احتجاج کیا۔
ان کا کہنا تھا کہ پولیس نے بعد میں مذاکرات اور کارکنوں کی رہائی کی پیشکش کی تاہم وعدے کے باوجود انہیں رہا نہیں کیا گیا۔
پولیس نے مجھے اغوا کرکے لاہور کی سڑکوں پر گھمایا
سہیل آفریدی نے الزام عائد کیا کہ جب انہوں نے احتجاجاً ایک پولیس وین میں بیٹھنے کی کوشش کی تو پولیس اہلکار انہیں وہاں سے لے گئے۔
انہوں نے اس واقعے کو ’اغوا‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ پولیس انہیں تقریباً 15 منٹ تک لاہور کی سڑکوں پر بغیر سکیورٹی کے گھماتی رہی اور بعد میں راستے میں چھوڑ دیا گیا۔
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کا کہنا تھا کہ انہیں اس طرح بغیر سکیورٹی کے شہر میں گھمانا ایک بڑا سکیورٹی رسک تھا۔
پولیس سیاسی ہو گئی، منصوبہ بندی کے تحت کارروائی کی گئی
سہیل آفریدی نے الزام عائد کیا کہ لاہور میں پیش آنے والے واقعات کسی اتفاق کا نتیجہ نہیں بلکہ ایک منصوبہ بندی کے تحت کی جانے والی سازش کا حصہ تھے۔
انہوں نے حکومت کی جانب سے حالیہ بیانات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ تاثر دیا گیا تھا کہ حکومت کو بھارت کے بجائے پاکستان کے دیگر تین صوبوں سے خطرہ ہے، سہیل آفریدی نے الزام عائد کیا کہ ’مسلط کرپٹ گروپ‘ پاکستان کو توڑنا چاہتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے پہلے ہی کہا تھا کہ انہیں سکیورٹی کا خطرہ نہیں بلکہ ’سکیورٹی ہی سے خطرہ‘ ہے، سہیل آفریدی نے پنجاب پولیس پر سیاسی ہونے کا الزام لگاتے ہوئے اسے شدید تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ پولیس اس قدر ’زہریلی‘ ہوچکی ہے کہ اہلکاروں نے مناسب طرز عمل کا احساس کھو دیا ہے۔
انہوں نے پنجاب حکومت اور پولیس پر سنگین الزامات عائد کرتے ہوئے کہا کہ پنجاب کے جعلی حکمرانوں اور ان کے درباری پولیس اہلکاروں کے ہاتھ پہلے ہی خون سے رنگے ہوئے ہیں۔
کمزور حربوں سے تحریک نہیں رکے گی
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ ان کی تحریک کو روکنے کیلئے استعمال کیے جانے والے ’گھٹیا حربے‘ کامیاب نہیں ہوں گے۔
انہوں نے کہا کہ لاہور کے شہری پیر کو کسی سیاسی کال کے بغیر سڑکوں پر نکلے اور آج بھی عوام سڑکوں پر آئیں گے۔ سہیل آفریدی نے پنجاب حکومت اور پولیس کو ’ہوش کے ناخن لینے‘ کا مشورہ دیتے ہوئے خبردار کیا کہ اگر ان کا طرز عمل تبدیل نہ ہوا تو خیبرپختونخوا اسمبلی کے جاری اجلاس کے بعد ’مضبوط ردعمل‘ دیا جائے گا۔




