گوجرانوالہ: امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان نے 20ستمبر کو اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ کا اعلان کردیا۔
گوجرانوالہ میں جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمان نے پی ٹی آئی سمیت دیگر سیاسی جماعتوں کو لانگ مارچ میں شمولیت کی دعوت دی۔
اپنے خطاب میں انہوں نے حکمرانوں کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ گوجرانوالہ کے تاریخی مقام پر آج عوام کا سمندر نظر آ رہا ہے، حکمران سمجھ جائیں کہ جب عوام کا یہ سمندر سڑکوں پر آیا تو وہ اسے برداشت نہیں کر پائیں گے۔
حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ آج پاکستان کے مسائل پر کوئی بولنے والا نہیں، تاہم جماعت اسلامی کے کارکنوں نے حکمرانوں کے خلاف طاقتور آواز بلند کی ہے۔ جماعت اسلامی پاکستان کے غریب عوام کے لیے امید کا پیغام ہے اور اس نے ان لوگوں کو للکارا ہے جو 79 سال سے عوام کا حق مار رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ عوام کے آج کے حالات کا ذمہ دار ایک چھوٹا سا طبقہ ہے جو انگریزوں کے بنائے ہوئے جاگیرداروں اور وڈیروں پر مشتمل ہے۔ یہ غلام در غلام ہیں اور قوم کو بھی غلام سمجھتے ہیں۔ آج بھی بغیر حفاظتی اقدامات کے انسانوں کو غلام بنا کر کام کروایا جا رہا ہے، جبکہ مافیاز کی اولادیں اعلیٰ تعلیمی اداروں میں پڑھتی ہیں اور غریبوں کا استحصال کیا جاتا ہے۔
امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ بچے، نوجوان اور بوڑھے آج بھی بھٹوں پر مزدوری کرنے پر مجبور ہیں۔ نواز شریف کی ملوں میں کام کرنے والے مزدوروں کو بھی حقوق نہیں ملتے اور ان کی شوگر ملوں میں کام کرنے والے مزدور رجسٹرڈ تک نہیں ہوتے۔ مائیں اور بہنیں بھی مزدوری کرنے پر مجبور ہیں۔
حافظ نعیم الرحمان نے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کو بھی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ خاتون ہونے کے باوجود وہ خواتین کا استحصال کر رہی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پنجاب میں خواتین سے زیادتی کے 6500 مقدمات رپورٹ ہوئے ہیں۔
انہوں نے الزام عائد کیا کہ مریم نواز لندن میں عوام کے پیسوں سے عیاشی کر رہی ہیں اور انہیں چیلنج ہے کہ لندن کے پورے اخراجات قوم کے سامنے ظاہر کریں۔ حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ مریم نواز، ان کے چچا اور والد غریبوں کا استحصال کرتے ہیں اور ٹیکس ریٹرن اور گوشواروں میں اپنی آمدن ایک عام کاروباری شخص سے بھی کم ظاہر کرتے ہیں۔
پیٹرولیم قیمتوں اور ٹیکسز پر حکومت کو تنقید
حافظ نعیم الرحمان نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں پر بات کرتے ہوئے کہا کہ حکمران عالمی مارکیٹ میں قیمتوں میں اضافے کو جواز بناتے ہیں، ہم عالمی مارکیٹ کی بات سمجھتے ہیں، لیکن حکومت یہ بتائے کہ پٹرول پر لیوی اور بھاری ٹیکسز کیوں عائد ہیں۔
انہوں نے کہا کہ مقامی تیل کی قیمت بھی درآمدی تیل کے برابر وصول کی جاتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سود کی شرح میں صرف تین فیصد کمی سے لیوی سے کہیں زیادہ آمدنی حاصل ہوسکتی ہے۔
اسٹیٹ بینک کی خودمختاری پر بھی سوال اٹھا دیا
امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ حکومتی مافیا بینکوں کے مافیا کے ساتھ مل کر سود ادا کرتا ہے، جبکہ حکمران کہتے ہیں کہ اسٹیٹ بینک آزاد اور خودمختار ہوگیا ہے۔ یہ جھوٹ ہے کہ اسٹیٹ بینک خودمختار ہے۔
انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی، مسلم لیگ ن اور پیپلزپارٹی سمیت سب نے مل کر اسٹیٹ بینک کو خودمختار بنایا۔ حکمران بینکوں، چینی، آٹے اور آئی پی پیز مافیا کے خلاف کارروائی نہیں کرسکتے۔
حافظ نعیم الرحمان نے حکمرانوں کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ حکمرانو سمجھ جاؤ، جب عوام کا سمندر آیا تو تم اسے برداشت نہیں کر پاؤ گے۔



