پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل(پی ایم ڈی سی) نے افغان میڈیکل و ڈینٹل طلبہ سے متعلق اہم فیصلہ کرتے ہوئے پاکستان میں زیرتعلیم افغان طلبہ کو افغانستان واپس جانے کی ہدایت کردی۔
پی ایم ڈی سی کی جانب سے یکم ستمبر 2026 کو جاری مراسلے میں میڈیکل کالجز کو افغان طلبہ کی واپسی کیلئے انتظامی کارروائی مکمل کرنے کا حکم دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ متعلقہ ادارے افغان طلبہ کو مطلوبہ نو آبجیکشن سرٹیفکیٹ (این او سی) جاری کریں۔

موجودہ تعلیمی سیشن میں افغان شہریوں کے میڈیکل، ڈینٹل داخلے پر پابندی عائد کردی گئی ہے، افغان شہریوں کو میڈیکل و ڈینٹل اداروں میں پلیسمنٹ، ٹرانسفر اور مائیگریشن کی اجازت نہیں ہو گی۔
پی ایم ڈی سی کی جانب سے مزید کہا گیا ہے کہ افغان شہریوں کو کسی بھی قسم کی سہولت فراہم نہ کی جائے، میڈیکل و ڈینٹل ادارے سابقہ ہدایات پر سختی سے عملدرآمد کریں۔
تعمیلی رپورٹ جمع نہ کرانے والے اداروں کو 3 روز میں مکمل تفصیلات فراہم کرنے کا کہا گیا ہے ، ہدایات پر عمل نہ کرنے، معلومات چھپانے یا غیر مجاز سہولت کاری پر کارروائی ہو گی، پی ایم ڈی سی کے مطابق خلاف ورزی پر پی ایم ڈی سی ایکٹ 2022 کے تحت ریگولیٹری کارروائی ہوسکتی ہے۔
’افغان طلبہ کے تعلیمی حقوق کا تحفظ کیا جائے‘
وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں افغان سفارتخانے نے پی ایم ڈی سی کے فیصلے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ تعلیم جیسے اہم شعبے کو سیاسی اختلافات سے محفوظ رکھا جانا چاہیے۔
سفارتخانے کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ’ہم سمجھتے ہیں کہ اس اقدام کا اُن افغان طلبہ کی تعلیمی پیش رفت اور مستقبل پر گہرا اثر پڑے گا، جنہوں نے قانونی اور طے شدہ طریقہ کار کے تحت اپنی تعلیم کا آغاز کیا تھا اور برسوں کی لگن، وقت اور نمایاں مالی و ذاتی سرمایہ کاری کے بعد اب اپنے متعلقہ تعلیمی پروگراموں کی تکمیل کے مرحلے میں ہیں۔‘
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ’اسلام آباد میں افغانستان کا سفارتخانہ پاکستان کے تعلیمی حکام اور متعلقہ بین الاقوامی طبی، تعلیمی، انسانی اور پیشہ ورانہ اداروں سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ افغان طلبہ کے تعلیمی حقوق کے تحفظ پر مناسب توجہ دیں اور اس بات کو یقینی بنائیں کہ وہ بغیر کسی رکاوٹ یا غیر ضروری مشکلات کے اپنی تعلیم مکمل کر سکیں۔‘
ایمنسٹی انٹرنیشنل کا اظہار تشویش
انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے فیصلے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس کے خاص طور پر افغان طالبات پر سنگین اثرات مرتب ہوں گے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ بہت سی طالبات پہلے ہی افغانستان میں طالبان کی جانب سے جاری صنفی بنیادوں پر امتیازی سلوک اور جبر کے باعث اعلیٰ تعلیم کے حصول سے محروم ہو چکی ہیں، اور اب انہیں تعلیم اور پیشے کو آگے بڑھانے کے چند باقی ماندہ راستوں میں سے ایک کے بھی ختم ہو جانے کے خدشے کا سامنا ہے۔
ایمنسٹی کے بیان میں کہا گیا ہے کہ بین الاقوامی انسانی حقوق کے قوانین کے تحت پاکستان کی ذمہ داری ہے کہ وہ قومی پس منظر کی بنیاد پر کسی بھی قسم کے امتیاز کے بغیر تعلیم کے لیے سہولیات فراہم کرے۔
The Pakistan Medical and Dental Council’s decision requiring Afghan medical students in Pakistan to return to Afghanistan is patently discriminatory and arbitrary in nature. The consequences of this decision are especially severe for female students, many of whom have already…
— Amnesty International South Asia, Regional Office (@amnestysasia) September 8, 2026
پی ایم ڈی سی کے فیصلے پر ردعمل
سابق وفاقی وزیر مشاہد حسین سید نے حکومت سے اس فیصلے کو واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔
Yes, this is RIGHT demand: PMDC must revoke its shortsighted & politically-motivated decision to deprive Afghan students of their legitimate quest for Education which also negates Pakistan’s own track record of once being a model humanitarian host! Slamming doors is WRONG Policy! https://t.co/XIETftjZcV
— Mushahid Hussain Sayed (@Mushahid) September 8, 2026
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر پوسٹ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پی ایم ڈی سی کو چاہیے کہ وہ اپنے دور اندیشی سے عاری اور سیاسی محرکات پر مبنی فیصلے کو واپس لے، جس کے ذریعے افغان طلبہ کو تعلیم کے حصول کی ان کی جائز کوشش سے محروم کیا جا رہا ہے۔ یہ فیصلہ پاکستان کے اپنے ماضی کے اُس انسانی ہمدردی پر مبنی کردار کے بھی منافی ہے، جب پاکستان ایک مثالی میزبان ملک کے طور پر سامنے آیا تھا۔ دروازے بند کرنا غلط پالیسی ہے!
افغانستان میں پاکستان کے سابق سفیر منصوراحمد خان کا بھی اس فیصلے پر ردعمل سامنے آیا ہے ۔
ایکس پر پوسٹ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میں پی ایم ڈی سی سے درخواست کرتا ہوں کہ وہ افغان طلبہ کے میڈیکل کالجز اور یونیورسٹیوں میں داخلوں سے متعلق اپنے فیصلے پر انسانی ہمدردی اور دونوں ممالک کے عوام کے درمیان تہذیبی و تاریخی تعلقات کو مدنظر رکھتے ہوئے نظرِ ثانی کرے۔
ان طلبہ کو اپنی متعلقہ ڈگریاں مکمل کرنے کی اجازت دی جائے اور ان کی تعلیم مکمل ہوتے ہی انہیں افغانستان واپس بھیجنے کا انتظام کیا جائے۔
I request @PMDC to reconsider its decision on Afghan students in medical colleges and universities on humanitarian grounds and civilizational relations between the peoples of the two countries. A more humane and practical approach can be to allow the students to complete their… pic.twitter.com/RxCT0LEGAg
— Mansoor Ahmad Khan (@ambmansoorkhan) September 8, 2026
وکیل اور انسانی حقوق کی کارکن منیزہ کاکڑ نے حکومتی فیصلے کو ظالمانہ اور ناانصافی پر مبنی قرار دیا ہے۔
ایکس پر پوسٹ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ افغان میڈیکل طلبہ کو اپنی تعلیم ادھوری چھوڑ کر افغانستان واپس جانے پر مجبور کرنا ایک ظالمانہ اور انتہائی ناانصافی پر مبنی اقدام ہے۔ بالخصوص طالبات کے لیے،یہ فیصلہ ڈاکٹر بننے کے ان کے خواب کو مستقل طور پر تباہ کر سکتا ہے۔ پی ایم ڈی سی کو چاہیے کہ وہ یہ فیصلہ واپس لے اور افغان طلبہ کو اپنی میڈیکل ڈگریاں مکمل کرنے کی اجازت دے۔
Forcing Afghan medical students to abandon their education and return to Afghanistan is cruel and deeply unjust. For female students,this decision may permanently destroy their dream of becoming doctors.PMDC must withdraw it & allow them to complete the degrees.#LetAfghansLearn pic.twitter.com/DrqSmkHs7u
— Moniza Kakar (@Moni_Kakar) September 8, 2026


