نائن الیون واقعے کو 25 سال مکمل ہو گئے، یہ وہ تاریخ ہے جس نے افغانستان کو بدل کر رکھ دیا، خطے کا نقشہ تبدیل کیا اور عالمی سیاست کا رخ موڑ دیا۔
پالیسی رپورٹس، عسکری مہمات اور دیگر امدادی اعداد و شمار اس کہانی کا ایک رخ بیان کرتے ہیں، لیکن دوسری طرف وہ عام افغان شہری ہیں جنہوں نے اس طویل کرب ناک عرصے میں خود سے کیے گئے وعدوں کو ٹوٹتے ہوئے دیکھا۔
بشار خلجی* کی زندگی بھی اسی سفر کی عکاسی کرتی ہے۔ ان کے خاندان نے 1980 کی دہائی میں افغانستان کی خانہ جنگی کے دوران ملک چھوڑ دیا اور پاکستان میں بطور پناہ گزین ان کی پرورش ہوئی، تاہم ان کے خاندان کے افغانستان سے قریبی تعلقات بھی برقرار رہے۔
اور پھر ستمبر 2001 آ گیا۔۔!
نائن الیون واقعے کے بعد امریکا کی قیادت میں اتحادی افواج نے افغانستان پر حملہ کیا، طالبان کی پہلی حکومت کا خاتمہ کیا اور کابل میں ایک نئی جمہوری حکومت کی حمایت کی۔ اس کے بعد دو دہائیوں تک ریاست کی تشکیل، جمہوریت، خواتین کے حقوق اور سماجی تبدیلی کا ایک تجربہ جاری رہا، جس نے خلجی سمیت افغان نوجوانوں کی ایک نسل کے لیے نئے امکانات پیدا کیے۔
2004 میں 27 سالہ خلجی اپنے خاندان کے ساتھ افغانستان واپس آئے۔ انہیں یقین تھا کہ ان کا ملک خوشحال مستقبل کی جانب بڑھ رہا ہے۔ انہوں نے کابل یونیورسٹی سے انگریزی میں ڈگری حاصل کی اور دیہی علاقوں میں شہری اداروں کے قیام کے لیے کام کرنے والی ایک مغربی امداد سے چلنے والی این جی او میں ملازمت اختیار کرلی۔
آج نائن الیون واقعے کے 25 سال بعد خلجی کا خواب شرمندہ تعبیر ہونے کے بجائے ایک المناک انجام کے ساتھ اپنے نقطہ آغاز پر آگیا ہے۔ امریکی انخلا کے بعد 2021 میں طالبان دوبارہ اقتدار میں آئے۔ کابل میں قائم کیا گیا سیاسی نظام غیر ملکی سرمائے، فوجی طاقت اور سیاسی حمایت کے ساتھ انتہائی کمزور بنیادوں پر کھڑا تھا۔
زوال کی وجوہات
اس پُرامید عرصے کے دوران خلجی افغانستان میں آنے والی تبدیلی کے شدید حامی تھے۔ وہ ایک متحرک میڈیا، لاکھوں بچوں خصوصاً لڑکیوں کے اسکول جانے، یونیورسٹیوں کے پھیلاؤ اور بڑی تعداد میں خواتین کے پہلی بار افرادی قوت کا حصہ بننے کو افغانستان کی تبدیلی کی علامت قرار دیتے تھے۔ رائٹرز کے مطابق 2020 میں افغان افرادی قوت میں خواتین کا حصہ 16.5 فیصد تھا، جو اب محض 5 فیصد رہ گیا ہے۔
تاہم اس عرصے میں خلجی نے اس ترقی کی وقعت کا بھی بخوبی اندازہ لگا لیا تھا۔
جب وہ بڑے شہروں سے باہر دیہی اضلاع کا سفر کرتے تو انہیں بالکل مختلف حقیقت کا سامنا ہوتا۔ نظام میں سرایت کرتی ہوئی بدعنوانی، فرضی منصوبوں کے نام پر ضائع ہونے والی غیر ملکی امداد، کمزور حکومتی ادارے، شدید نسلی امتیاز اور دیہی علاقوں میں پائی جانے والی محرومی سے تقویت پاتی طالبان کی بڑھتی شورش۔
خلجی نے سال 2018 میں طالبان کی واپسی سے تین سال قبل مجھے بتایا تھا، ’’مرکزی حکومت کابل، قندھار، ہرات اور مزار شریف جیسے شہروں تک محدود تھی۔ افغانستان کے بیشتر دیہی علاقوں میں ریاست کمزور تھی۔‘‘
پاکستان سے جڑے پشتون سرحدی علاقوں میں طالبان ایک متوازی حکومت چلا رہے تھے جبکہ دیگر علاقوں میں علاقائی جنگجوؤں کا اثر و رسوخ برقرار تھا۔
خلجی کے مطابق اگست 2021 میں افغان جمہوری حکومت کے زوال کی بڑی وجوہات دوحہ معاہدہ، امریکی انخلا کا طے شدہ شیڈول اور طالبان کی وقت کے ساتھ تیزی سے حکمت عملی تبدیل کرنا تھا۔
خلجی نے کہا، ’’جب امریکا نے دوحہ معاہدے پر دستخط کیے اور انخلا کا شیڈول جاری کیا تو امید کی جگہ خوف نے لے لی جبکہ اس دوران طالبان کے حوصلے بلند ہوتے گئے۔ مغرب نے ہمارے خواب اور ہماری کوششیں بیچ دیں اور ہمیں بے یار و مددگار چھوڑ دیا۔‘‘
لیکن زوال کی مزید وجوہات بھی تھیں۔ برسوں کی ادارہ جاتی کمزوری اور بدعنوانی نے ریاست کو اندر سے کھوکھلا کر دیا تھا۔اور جیسے ہی غیر ملکی حمایت ختم ہوئی، سیاسی نظام حیران کن رفتار سے زوال کا شکار ہوگیا۔
یہ سب افغانستان میں بین الاقوامی سطح پر کی جانے والی غیر معمولی سرمایہ کاری کے باوجود ہوا۔
2001 کے حملے کے بعد صرف امریکا نے افغان تعمیرِ نو، ریاست کی تشکیل اور سکیورٹی فورسز کی تربیت کے لیے 145 ارب ڈالر سے زیادہ مختص کیے۔ یہ اعداد و شمار افغانستان کی تعمیرِ نو کے لیے اسپیشل انسپکٹر جنرل فار افغانستان ری کنسٹرکشن (SIGAR) کی رپورٹ سے لیے گئے ہیں۔ امریکی محکمہ دفاع نے براہِ راست جنگی کارروائیوں پر مزید 837 ارب ڈالر خرچ کیے۔
اس جنگ میں 2 ہزار 443 امریکی فوجی اور 11 سو 44 اتحادی فوجی ہلاک ہوئے، جبکہ 20 ہزار 666 امریکی اہلکار زخمی ہوئے۔ SIGAR کے مطابق افغانوں کو اس سے کہیں زیادہ جانی نقصان اٹھانا پڑا۔ 2001 کے بعد کم از کم 66 ہزار افغان فوجی اور 48 ہزار سے زیادہ عام شہری ہلاک ہوئے جبکہ 75 ہزار شہری زخمی ہوئے۔ SIGAR کے مطابق حقیقی تعداد اس سے بھی کہیں زیادہ ہوسکتی ہے۔
بدعنوانی کے نظام کے باعث حکومتی اخراجات اور ملکی آمدن کے درمیان فرق مزید بڑھ گیا۔ ’’گھوسٹ سولجرز‘‘ کے نام پر تنخواہوں میں گھپلے، میرٹ کی دھجیاں اڑاتی ہوئی تقرریاں اور سپلائی چین میں بدعنوانی نے فوج کو کمزور کیا اور عام افغانوں کی نظر میں حکومت کی ساکھ کو بھی نقصان پہنچایا۔
خلجی نے بتایا ’’یہ اس سماجی اور سیاسی نظام کا زوال تھا جسے افغانوں نے دو دہائیوں میں تشکیل دیا تھالیکن صرف مغرب کو موردِ الزام ٹھہرانا غلط ہے۔ افغان حکمران اشرافیہ، جنہوں نے ملک لوٹا اور پھر فرار ہوگئے، بنیادی طور پر اس زوال کے ذمہ دار ہیں۔‘‘
طالبان کی واپسی
اگست 2021 میں افغان جمہوری حکومت کے خاتمے کے بعد بہت سے مبصرین کو ایک طویل خانہ جنگی کی توقع تھی لیکن اس کے بجائے طالبان نے تیزی سے اپنی گرفت مضبوط کی اور ایک انتہائی مرکزی، پشتون اکثریتی سنی حنفی مذہبی ریاست قائم کردی۔
کابل میں اہم وزرا، جن میں ملا عبدالغنی برادر، سراج الدین حقانی، ملا محمد یعقوب اور امیر خان متقی شامل ہیں، انتظامیہ، سکیورٹی، معاشی پالیسی اور خارجہ تعلقات کے اہم شعبے سنبھالتے ہیں۔
تاہم حتمی اختیار بتدریج دارالحکومت سے طالبان کے انتہائی قدامت پسند سپریم لیڈر ہیبت اللہ اخوندزادہ کی جانب منتقل ہوگیا، جو قندھار میں مقیم ہیں۔
اخوندزادہ نے سیاسی اور مذہبی طاقت اپنے گرد اور اپنے قابلِ اعتماد مذہبی علما کے ایک محدود حلقے میں مرکوز کرلی ہے۔ انہوں نے ریاستی اداروں اور سکیورٹی کے ڈھانچوں میں اپنے وفادار افراد تعینات کیے اور اس کے نتیجے میں ایسا نظام وجود میں آیا جو بین الاقوامی حمایت یافتہ سابق جمہوری حکومت سے بنیادی طور پر مختلف ہے۔
طالبان قیادت نے واضح کردیا ہے کہ یہ انتظام مستقل نوعیت کا ہے، جس کے باعث مغربی ممالک طویل عرصے سے جس جامع حکومت کے قیام کا مطالبہ کررہے ہیں اس کا امکان تقریباً ختم ہوگیا ہے۔

یوں افغانستان نائن الیون کے بعد کے دور میں ایک انتہائی حیران کن تبدیلی کے ساتھ دوبارہ وہیں پہنچ گیا ہے۔ 25 سال قبل امریکی قیادت میں ہونے والے حملے کے ذریعے کابل سے نکالے جانے والی تحریک ایک بار پھر ملک پر حکمران ہے جبکہ عالمی طاقتوں نے دو دہائیوں میں جس جمہوری حکومت کو تشکیل دیا تھا، وہ ختم ہوچکی ہے۔
خلجی کے لیے یہ تبدیلی ذاتی نوعیت کی بھی ہے۔
وہ کابل میں اس لیے نہیں رہتے کہ انہوں نے طالبان کے افغانستان کو قبول کرلیا ہے بلکہ ان کے وہاں رہنے کی وجہ ان کے بیمار والدین ہیں جنہیں وہ چھوڑ کر کہیں نہیں جاسکتے۔ ان کے دو بھائی یورپ سے اپنے خاندان کی مالی مدد کرتے ہیں جبکہ خلجی اسی شہر میں موجود ہیں جو طالبان کا گڑھ ہے۔
خلجی نے کہا، ’’میری طرح لاکھوں افغان یہاں پھنسے ہوئے ہیں، ہم نے 20 سال ایک ملک کی تعمیر میں گزارے اور پھر اسے ایک ایسی جگہ میں بدلتے دیکھا جسے ہم پہچان بھی نہیں سکتے۔‘‘
طالبان کے دور میں زندگی
امریکی انخلا کے ساتھ اس کی ’دہشت گردی کے خلاف جنگ‘ ختم ہوگئی اور بڑے پیمانے پر لڑائی میں نمایاں کمی آئی کیونکہ اب طالبان ریاست کو کنٹرول کرتے ہیں لیکن میدانِ جنگ میں تشدد کے خاتمے سے وسیع پیمانے پر استحکام نہیں آسکا۔
آج افغانستان پہلے سے زیادہ غریب، دنیا سے کٹا ہوا اور بنیادی طور پر تبدیل شدہ ملک ہے، جہاں شدید معاشی مشکلات اور انسانی بحران موجود ہے۔
2021 میں طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد افغانستان کو وہ غیر ملکی گرانٹس ملنا بند ہوگئیں جو پہلے سرکاری اخراجات کا 75 فیصد پورا کرتی تھیں۔مرکزی بینک کے اثاثے منجمد ہونے اور بین الاقوامی امداد معطل ہونے سے اقتصادی بحران مزید سنگین ہوگیا۔
2026 تک انٹرنیشنل ریسکیو کمیٹی کے مطابق 21.9 ملین افراد، یعنی ملک کی تقریباً نصف آبادی کو فوری امداد کی ضرورت ہے۔ کمیٹی کے مطابق امداد میں کمی، موسمیاتی بحران اور ایران و پاکستان سے لاکھوں افغان پناہ گزینوں کی جبری واپسی نے پہلے سے کمزور عوامی انفرااسٹرکچر پر شدید دباؤ ڈال دیا ہے۔
انٹرنیشنل ریسکیو کمیٹی کے افغانستان پروگرام کے ڈائریکٹر بوستان فہیم نے ایک بیان میں کہا ’’جس وقت افغانستان میں غذائی بحران تاریخ کی بدترین سطح پر پہنچا، عین اسی وقت دنیا نے اس بحران سے نمٹنے کے لیے درکار مالی امداد کم کردی۔‘‘

آج تقریباً تین چوتھائی افغان شدید غذائی اور معاشی عدم تحفظ کا شکار ہیں۔ اگرچہ طالبان نے کسٹمز وصولیوں اور کان کنی سے حاصل ہونے والی رائلٹی کے ذریعے ملکی آمدن میں اضافہ کیا ہے تاہم 2024 میں فی کس آمدن 416.9 ڈالر تھی۔
طالبان حکومت کی جانب سے پوست کی کاشت پر پابندی نے بھی دیہی افغانستان کو تبدیل کردیا ہے۔ پابندی سے پوست کی پیداوار میں نمایاں کمی تو آئی لیکن اس سے لاکھوں غریب دیہی خاندانوں کی آمدن کا ایک بڑا ذریعہ ختم ہوگیا اور پہلے ہی غربت کا شکار علاقوں کو ایک اور معاشی دھچکا لگا۔
خلجی جیسے لوگوں کے لیے معاشی بحران ایک خاموش لیکن ناقابل برداشت بوجھ بن چکا ہے۔
خلجی نے خبردار کیا ’طالبان کے جبر میں لوگ کھل کر اپنی بات نہیں کہہ سکتے۔ عوامی غم و غصے کا ایک آتش فشاں تیار ہورہا ہے جو ایک دن پھٹ جائے گا۔ لیکن کسی بھی قسم کا شدید ردعمل مزید تشدد کو جنم دے گا، اور پانچ دہائیوں سے جاری خانہ جنگی کے بعد افغان اس تنازع سے مکمل طور پر تھک چکے ہیں۔‘‘
سماجی گھٹن
معاشی مشکلات کے ساتھ ساتھ وسیع پیمانے پر سماجی پابندیاں بھی عائد کی گئی ہیں۔
طالبان کے دور میں خواتین اور لڑکیوں کو پابندیوں کے ایک وسیع نظام کا سامنا ہے، جسے انسانی حقوق کی تنظیموں اور اقوام متحدہ کے اداروں نے ’صنفی امتیاز پر مبنی نظام‘ قرار دیا ہے۔
طالبان انتظامیہ کی جانب سے جاری کیے گئے درجنوں مذہبی احکامات کے تحت لڑکیوں کی ثانوی اور اعلیٰ تعلیم پر پابندی ہے، خواتین کو زیادہ تر ملازمتوں سے روک دیا گیا ہے اور انہیں کسی مرد رشتہ دار (محرم) کے بغیر نقل و حرکت کی اجازت نہیں۔ خواتین پر منظم جبر کے باعث انٹرنیشنل کرمنل کورٹ نے طالبان کے سپریم لیڈر ہیبت اللہ اخوندزادہ اور ان کے اہم ساتھی چیف جسٹس عبدالحکیم حقانی کے وارنٹ گرفتاری جاری کیے ہیں۔

خلجی کے لیے یہ تنزلی ذاتی نوعیت کی ہے۔ کراچی میں اپنی دو بہنوں کے ساتھ تعلیم حاصل کرنے والے خلجی اب اپنے تین بچوں، جن میں دو کم عمر بیٹیاں بھی شامل ہیں، کے مستقبل کے بارے میں فکر مند ہیں۔
اگرچہ ان کی اہلیہ تعلیم یافتہ ہیں اور گھر میں بچوں کے مطالعے کے لیے کتابیں خریدتی ہیں لیکن خواتین کے حقوق کی مجموعی صورتحال میں آنے والی گراوٹ انہیں پریشان کرتی ہے۔
خلجی نے سوال کیا ’’ہماری نصف آبادی کا کیا ہوگا؟ چند سال بعد ہمارے اسپتالوں میں خواتین نرسیں اور ڈاکٹر بھی نہیں ہوں گی، دوسرے شعبوں کی تو بات ہی چھوڑ دیں۔‘‘
اکثر عوامی سطح پر اختلافِ رائے کے اظہار کو سخت جبر کا سامنا کرنا پڑتا ہے، جس کے باعث صحافی، انسانی حقوق کے کارکن اور سول سوسائٹی کے ارکان شدید پابندیوں میں کام کررہے ہیں۔
مذہبی اور نسلی اقلیتوں کو بھی منظم طور پر نظر انداز کیا جارہا ہے۔ افغانستان کی آبادی کا تقریباً 15 فیصد شیعہ ہزارہ برادری پر مشتمل ہے۔ عدالتوں، یونیورسٹیوں اور سیکنڈری اسکولوں سے شیعہ جعفری فقہ کو ہٹا دیا گیا ہے، جبکہ یونیورسٹی کے طلبہ کو سنی حنفی فقہ کی پابندی کا تحریری حلف دینے پر مجبور کیا جاتا ہے۔
اسی طرح سلفی (اہل حدیث) برادریوں کو بھی سخت نگرانی کا سامنا ہے۔ طالبان انہیں شک کی نگاہ سے دیکھتے ہیں کیونکہ ان کے اہم حریف، داعش خراسان (ISKP) کے نظریات بھی ان سے ملتے جلتے ہیں۔
کنڑ کے ایک سلفی رہنما نے حال ہی میں مجھے بتایا ’’اگر طالبان کے سپاہی کسی سلفی کو لمبی روایتی داڑھی کے ساتھ دیکھتے تو اسے سڑک پر گھیر کر زبانی ہراساں کرتے ہیں۔‘‘
افغانستان سے علاقائی دہشت گردی کے خطرات
طالبان کے اقتدار پر مضبوط کنٹرول اور مغرب سے افغانستان کی تنہائی نے ایک ایسا ماحول پیدا کر دیا ہے جہاں عسکریت پسند گروہ کسی بیرونی انسدادِ دہشت گردی کی نگرانی کے بغیر کام کر رہے ہیں۔
نائن الیون کے 25 سال بعد بھی القاعدہ سرگرم ہے لیکن عالمی جہادی سرگرمیاں اب کسی ایک تنظیم، قیادت یا جغرافیائی مرکز کے گرد نہیں گھومتیں۔ اس کی شاخیں اور حریف تنظیمیں اب افغانستان کی سرحدوں سے دور تنازعات کو ہوا دے رہی ہیں۔
جنوبی ایشیا کی سینئر تجزیہ کار پرل پانڈیا کہیں ہیں ’’اگر نائن الیون سے آغاز کریں تو افغانستان اس لیے مرکز میں تھا کیونکہ طالبان القاعدہ کو پناہ دے رہے تھے۔ 25 سال بعد طالبان دوبارہ اقتدار میں ہیں، لیکن جہادی منظرنامہ بہت مختلف ہے۔ افغانستان کے اندر متعدد عسکریت پسند گروہ اپنے اپنے ایجنڈے پر عمل پیرا ہیں جبکہ جنوبی اور وسطی ایشیا کے ہمسایہ ممالک کو بھی بڑھتے ہوئے خطرات کا سامنا ہے۔‘‘
طالبان کی فتح نے پاکستانی عسکریت پسند گروہوں، جیسے تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) اور حافظ گل بہادر کی قیادت والے اتحاد المجاہدین پاکستان (آئی ایم پی)، کو نئی توانائی، نظریاتی تقویت اور سرحد پار محفوظ پناہ گاہیں فراہم کی ہیں۔ یہ حمایت ماضی کی فوجی کارروائیوں، جیسے آپریشن ضربِ عضب، کے نتیجے میں حاصل ہونے والی سکیورٹی کامیابیوں کو ختم کرنے کا خطرہ رکھتی ہے۔
اگرچہ یہ گروہ مغربی دارالحکومتوں کے بجائے اسلام آباد کو نشانہ بناتے ہیں لیکن افغانستان میں ان کی موجودگی نے پاکستان اور افغانستان کے باہمی تعلقات کو شدید متاثر کیا ہے۔ بڑھتی ہوئی کشیدگی کے نتیجے میں پاکستان کی جانب سے سرحد پار فضائی حملے، تجارتی پابندیوں میں سختی اور ستمبر 2023 کے بعد پاکستان سے 25 لاکھ سے زیادہ افغانوں کی بے دخلی ہوئی ہے۔
ٹی ٹی پی پاکستان کے لیے بدستور ایک بڑا سکیورٹی خطرہ ہے۔ ACLED کے اعداد و شمار کے مطابق 2026 میں اب تک ٹی ٹی پی کی کارروائیوں کی تعداد 2025 کے اسی عرصے کی سطح سے بھی تجاوز کرچکی ہے، جبکہ 2025 پاکستان کے لیے ایک دہائی سے زائد عرصے کے مہلک ترین برسوں میں شامل تھا۔
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی ایک حالیہ رپورٹ نے ان گروہوں کے درمیان بڑھتے ہوئے روابط کو بے نقاب کیا ہے۔ القاعدہ کے پروپیگنڈا ادارے ’’السحاب‘‘ نے پاکستانی ریاستی اہداف پر ٹی ٹی پی کے حملوں کی کھلے عام تعریف کی۔ رپورٹ میں یہ بھی انکشاف کیا گیا کہ برصغیر میں القاعدہ (AQIS) گل بہادر کے آئی ایم پی کے لیے عملی معاونت کا بنیادی ڈھانچہ فراہم کرتی ہے اور سکیورٹی اہلکاروں پر ہونے والے تباہ کن خودکش حملوں کے پیچھے بھی یہی نیٹ ورک ہے۔
25 سال بعد
نائن الیون کے 25 سال بعد بنیادی سوال صرف یہ نہیں کہ امریکا کی قیادت میں ہونے والی مداخلت کامیاب ہوئی یا ناکام۔ سوال یہ ہے کہ اس تجربے کے خاتمے کے بعد کیا باقی بچا ہے؟
حال ہی میں اسلام آباد کا دورہ کرنے والے ایک یورپی عہدیدار نے کہا کہ مغرب کی افغانستان میں دلچسپی بڑی حد تک ختم ہوچکی ہے، جو اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ افغانستان عالمی ترجیحات میں کس حد تک پیچھے چلا گیا ہے۔
تاہم بین الاقوامی روابط مکمل طور پر ختم نہیں ہوئے۔ کئی مغربی حکومتیں اب بھی طالبان کے ساتھ محدود تکنیکی رابطے برقرار رکھی ہوئی ہیں، جن میں جرمنی کی جانب سے تارکین وطن کی واپسی کے عمل کو تیز کرنے کے لیے طالبان کے ساتھ رابطہ بھی شامل ہے۔
معاشی مفادات بھی برقرار ہیں۔ اسی ہفتے افغانستان نے سعودی عرب کی ڈیلٹا انٹرنیشنل انرجی کے ساتھ 200 ملین ڈالر کا ہائیڈروکاربن تلاش کرنے کا معاہدہ کیا ہے، جس کے تحت ملک کے مغربی حصے میں 22 ہزار مربع کلومیٹر کے علاقے میں تیل اور گیس کے ذخائر تلاش کیے جائیں گے۔

تاہم خلجی جیسے عام افغانوں کے لیے آگے بڑھنے کا راستہ موجود نہیں۔ ان کا سفر خود افغانستان کے سفر کی عکاسی کرتا ہے: بے دخلی، واپسی، اُمید، تعمیرِ نو، مایوسی اور پھر زوال۔
نائن الیون کے 25 سال بعد بھی وہ کابل میں موجود ہیں اور جس روشن مستقبل کے لیے اُن سے وعدے کیے گئے تھے، وہ اسے اپنی نظروں سے اوجھل ہوتا دیکھ رہے ہیں جبکہ دنیا جس تحریک کو شکست دینا چاہتی تھی وہ ایک بار پھر افغانستان کے موجودہ حالات کا تعین کررہی ہے۔
آخرکار طالبان کے زیرِ اقتدار افغانستان کا سفر یہ ظاہر کرتا ہے کہ کسی علاقے پر مکمل کنٹرول طویل المدت سیاسی استحکام کے مترادف نہیں۔ کوئی حکومت زمین پر قبضہ برقرار رکھ سکتی ہے اور طاقت کے ذریعے اختلافِ رائے کو دبا سکتی ہے لیکن وہ مستقل خوشحالی یا حقیقی امن قائم نہیں کرسکتی۔
جب تک افغانستان میں ایسی حکومت قائم نہیں ہوتی جس کی قانونی حیثیت اپنے عوام کی رضامندی اور نظام میں ان شمولیت پر مبنی ہو، تب تک بظاہر نظر آنے والا استحکام عارضی ہی رہے گا۔ خلجی کی طرح لاکھوں افغان اسی بے یقینی میں زندگی گزار رہے ہیں اور اس مسلط کردہ استحکام کے اندر چھپے تضادات کے لاوے کے پھٹنے کا انتظار کررہے ہیں۔
* تحفظ کے پیش نظر اس نوجوان کا نام تبدیل کردیا گیا ہے۔
