برطانیہ میں ایک شخص نے اپنی اہلیہ کو نشہ آور دوا دے کر 20 سال سے زائد عرصے تک بار بار زیادتی کا نشانہ بنانے کا اعتراف کرلیا۔
خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق شمالی انگلینڈ سے تعلق رکھنے والے لگ بھگ 60 سالہ شخص نے مانچسٹر کی مقامی عدالت میں 45 الزامات میں اعتراف جرم کیا۔
پراسیکیوشن کے مطابق ملزم اور متاثرہ خاتون کی شادی 40 سال قبل ہوئی تھی۔ اس دوران شوہر کی جانب سے مبینہ جرائم کا سلسلہ 22 سال پہلے 2004 میں شروع ہوا اور 2025 تک جاری رہا۔
ملزم نے 2004 سے 2025 کے دوران اہلیہ کو بے ہوش کرنے کے لیے نشہ آور مواد دینے، بے ہوشی کی حالت میں ریپ کرنے، اور اہلیہ کی مرضی کے بغیر ان کی نجی تصاویر شیئر کرنے کے الزامات تسلیم کیے۔
استغاثہ نے عدالت کو مزید بتایا کہ خاتون کو اس کے اپنے گھر میں شوہر کی جانب سے نشہ دیے جانے کے بعد بے ہوشی کی حالت میں بار بار زیادتی اور جنسی تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔
اس مقدمے میں مزید 12 افراد بھی نامزد ہیں جن کی عمریں 28 سے 74 سال کے درمیان ہیں۔ ان افراد پر 2018 سے 2025 کے دوران متاثرہ خاتون کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کے الزامات ہیں۔ تمام ملزمان نے ان الزامات سے انکار کیا ہے۔
گریٹر مانچسٹر پولیس کے اسسٹنٹ چیف کانسٹیبل رک جیکسن نے کہا کہ پولیس کی توجہ اس ’’ہولناک‘‘ سلسلہ وار زیادتی کا شکار خاتون کی مدد پر مرکوز ہے اور یہ ایک انتہائی پیچیدہ تفتیشی کیس ہے۔
انہوں نے کہا کہ مقدمے کی متاثرہ خاتون کو ماہرین کی جانب سے ضروری معاونت فراہم کرنے کا سلسلہ جاری ہے۔
دیگر 12 ملزمان کے خلاف مقدمے کی سماعت بھی اسی عدالت میں ہوگی، جو کئی ماہ تک جاری رہنے کی توقع ہے۔
یاد رہے کہ 2022 میں برطانیہ میں ایسے ہی ایک کیس میں ملزم کو 11 سال قید کی سزا سنائی گئی تھی۔
ملزم ایک برطانوی خاتون کا شوہر تھا جو 2011 سے 2016 تک اپنی اہلیہ کو نشہ آور مواد دے کر زیادتی کا نشانہ بناتا رہا۔
خاتون کے مطابق شوہر نے ان کے سامنے اعتراف کیا کہ وہ ان کی چائے میں نشہ آور مواد ملا دیتا اور ان کے بے ہوش ہونے کے بعد زیادتی کرتا اور ان کی نازیبا تصاویر اور ویڈیوز بناتا۔
یہ خاتون اب ایک اور متاثرہ خاتون کیساتھ مل کر اس طرح کے جرائم کے خلاف آگاہی مہم چلا رہی ہیں۔
