پاکستان ٹیلی ویژن (پی ٹی وی) کی رپورٹ کے مطابق خیبر پختونخوا کے ضلع کرم میں کارروائی کے دوران افغان خارجی عبید اللہ سعد سمیت 4 دہشت گرد ہلاک ہوگئے۔
سرکاری ٹی وی پر نشر ہونے والی ایک رپورٹ میں بتایا گیا کہ ضلع کرم میں 8 ستمبر کو خارجیوں کے خلاف کارروائی خفیہ اطلاعات پر کی گئی،ہلاک ہونے والا خارجی عبید اللہ سعد افغانستان کے صوبہ لوگر کے گاؤں شاہی قلعہ کا رہائشی اورپاکستان میں دہشتگردی کی متعدد کارروائیوں میں ملوث تھا۔
رپورٹ کے مطابق حکام کا کہنا ہے کہ ملک کے امن اور عوام کے جان و مال کے تحفظ پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا،ریاست دشمن عناصر کے خلاف کارروائیاں بلاامتیاز جاری رہیں گی۔
کرم میں سکیورٹی فورسز کا کامیاب انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن۔۔۔افغان خارجی عبید اللہ سعدسمیت 4 دہشتگرد جہنم واصل۔۔۔ہلاک خارجی افغانستان کے صوبہ لوگر کا رہائشی اور کالعدم فتنہ الخوارج سے وابستہ تھا۔۔۔ پاکستان میں دہشتگردی کی متعدد کارروائیوں میں ملوث تھا۔۔۔ pic.twitter.com/4WDmyyOw7R
— PTV News (@PTVNewsOfficial) September 11, 2026
وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی نے کرم میں کامیاب آپریشن پر سکیورٹی فورسز کی تعریف کی اور 4 دہشتگردوں کی ہلاکت پر ان کی صلاحیتوں کو سراہا۔
اپنے بیان میں محسن نقوی کا کہنا تھا کہ خیبرپختونخوا میں قیام امن کیلئے سکیورٹی فورسز کی کارروائیاں قابل تحسین ہیں، سکیورٹی فورسز کے بہادر سپوت ہمارا سرمایہ افتخار ہیں،قوم دہشتگردی کے خلاف جنگ میں سکیورٹی فورسز کے ساتھ کھڑی ہے۔
قبل ازیں پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق سکیورٹی فورسز نے 3 سے 5 ستمبر کے دوران خیبر پختونخوا کے مختلف علاقوں میں کامیاب آپریشنز، فورسز اور خوارجیوں کے درمیان ہونے والی متعدد جھڑپوں میں بھارتی حمایت یافتہ ‘فتنہ الخوارج’ سے تعلق رکھنے والے 21 خوارجی ہلاک کئے۔
آئی ایس پی آر نے اپنے بیان میں بتایا کہ شمالی وزیرستان میں پاک افغان سرحد پر 31 اگست اور یکم ستمبر کی درمیانی شب سکیورٹی فورسز کی کامیاب کارروائی کے بعد علاقے میں چھپے ہوئے مزید دس خوارجیوں کو ہلاک کیا گیا، اس کے ساتھ ہی دراندازی کی کوشش کرنے والے اور سکیورٹی فورسز کے ہاتھوں مؤثر طریقے سے ہلاک ہونے والے خوارجیوں کی کل تعداد 25 ہو گئی۔
بیان کے مطابق شمالی وزیرستان میں ہی ایک اور جھڑپ کے دوران سکیورٹی فورسز نے پاک افغان سرحد کے ساتھ خوارجیوں کے ایک اور گروہ کی نقل و حرکت کا سراغ لگایا، سکیورٹی فورسز کی ماہرانہ کارروائی کے نتیجے میں 7 خوارجی ہلاک کر دیے گئے۔
دریں اثناء مشترکہ آپریشنز کے دوران کوہاٹ اور ڈیرہ اسماعیل خان کے اضلاع میں 2 مختلف جھڑپوں میں مزید 4 خوارجیوں کو بھی مؤثر طریقے سے ہلاک کیا گیا۔
آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ پاک افغان سرحد پر پیش آنے والے ان مسلسل واقعات نے ایک بار پھر پاکستان کے اس مؤقف کی تصدیق کی ہے کہ افغان طالبان حکومت، اپنی سرپرستی میں کام کرنے والی دہشت گرد تنظیم کو سرحد پار دہشت گردی کے لیے افغان سرزمین استعمال کرنے سے روکنے میں بری طرح ناکام رہی ہے۔
پاکستان کی سکیورٹی فورسز ملک کی سرحدوں کے دفاع کے اپنے عزم پر ثابت قدم اور غیر متزلزل ہیں، علاقے میں موجود کسی بھی ممکنہ خوارجی کے خاتمے کے لیے کلیئرنس آپریشنز کیے جا رہے ہیں، وژن ‘عزمِ استحکام’ کے تحت ملک سے غیر ملکی سرپرستی اور حمایت یافتہ دہشت گردی کی لعنت کا خاتمہ یقینی بنایا جائے گا۔


