بھارتی ویمن ٹیم نے ویمن ایشیا کپ 2026 کا فائنل جیتنے کے بعد صدر ایشین کرکٹ کونسل محسن نقوی سے ٹرافی لینے سے انکار کیا جس پر سوشل میڈیا صارفین بھارتی بورڈ کو کھل کر تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں۔
سری لنکا کے خلاف فائنل میں بھارتی ٹیم نے 72 رنز سے کامیابی حاصل کرکے ویمنز ایشیا کپ کا ٹائٹل آٹھویں مرتبہ جیتا تاہم ٹرافی کی تقریب کے موقع پر بھارتی ٹیم اسٹیج کی طرف آئی ہی نہیں۔
ٹیم کے اس رویے پر کوچ امول مزومدار نے صحافیوں کو بتایا کہ محسن نقوی سے ٹرافی وصول نہ کرنے کا فیصلہ بھارتی کرکٹ بورڈ کا تھا، کھلاڑیوں نے صرف اس پر عمل کیا۔
Watch: On Indian women’s cricket team did not accept the Women’s Asia Cup trophy from ACC Chair Mohsin Naqvi, BCCI Secretary Devajit Saikia says, “Trophy is a controversial thing in the Asia Cup, Our men’s team won the Asia Cup a year and a half ago. And our whole situation,… pic.twitter.com/2p5Q6bqS4L
— IANS (@ians_india) September 13, 2026
دوسری جانب سری لنکا کی کپتان چماری اتھاپتھو نے مہمانِ خصوصی محسن نقوی سے رنرز اپ کی انعامی رقم کا چیک وصول کیا جبکہ بھارتی ویمن ٹیم نے مینز ٹیم کے نقش قدم پر چلنے کا فیصلہ کیا جنہوں نے گزشتہ برس مردوں کے ایشیا کپ کے فائنل میں پاکستان کو شکست دینے کے بعد محسن نقوی سے ٹرافی وصول نہیں کی تھی۔
صدر ایشین کرکٹ کونسل، جو پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین اور وزیر داخلہ بھی ہیں، نے دیگر شخصیات کے ہمراہ اسٹیج پر کافی دیر انتظار بھی کیا جبکہ بھارتی ٹیم گراؤنڈ ایک کونے میں اپنی انتظامیہ کے ہمراہ موجود رہی اور دور سے تقریب کا مشاہدہ کرتی رہی۔
اہم ترین 🚨
انڈین ویمنز ٹیم کا ایشیا کپ فائنل جیتنے کے بعد محسن نقوی سے ٹرافی وصول کرنے سے انکار pic.twitter.com/ScjEjPDNEJ— Faisal Khan (@KaliwalYam) September 13, 2026
بھارتی ٹیم اور بورڈ کے اس فیصلے پر سوشل میڈیا پر بحث کافی گرم مگر تقسیم رہی جہاں بھارتی صارفین محسن نقوی کو جبکہ پاکستانی صارفین بھارتی کھلاڑیوں کو تنقید کا نشانہ بناتے رہے۔
ایکس پر ایک صارف نے بھارت کے اس اقدام کو کھیل کی جگہ سیاست کرنے اور اسپورٹس مین اسپرٹ کے منافی قرار دیا۔
کرکٹ کے میدان میں ایک بار پھر سیاست کا سایہ, بھارتی ویمنز ٹیم کا محسن نقوی سے ٹرافی لینے سے گریز, بھارتی ٹیم نے ایک بار پھر کرکٹ کو سیاست کی نذر کر دیا, ایک سال میں دوسری بار سپورٹس مین سپرٹ مخالف بھارتی رویہ, ذرائع اے سی سی بتاتے ہیں کہ ٹرافی دینے کا پروٹوکول مکمل طور پر طے تھا،…
— Qadir Khawaja (@iamqadirkhawaja) September 13, 2026
اسی طرح ایک اور صارف کا کہنا تھا کہ “بھارتی مینز ٹیم کی طرح ایشیا کپ جیتنے والی ویمنزکرکٹ ٹیم نے بھی اسپورٹسمین اسپرٹ کے منافی رویہ” اپنایا۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ آخر بھارت کو جب عقل آئے گی۔
بھارتی مینز ٹیم کی طرح ایشیا کپ جیتنے والی ویمنزکرکٹ ٹیم نے بھی اسپورٹسمین اسپرٹ کے منافی رویہ اپناتے ہوئے ایشین کرکٹ کونسل کے چیئرمین محسن نقوی سے ٹرافی وصول کرنے سے انکار کیا تو ٹرافی ضبط کر لی گئی،نجانے بھارت کو کب عقل آئے گی،کھیلوں میں سیاست کو ہرگز شامل نہیں کرنا چاہیے
— Saleem Khaliq (@saleemkhaliq) September 13, 2026
کھیلوں کے معروف پاکستانی تجزیہ کار ڈاکٹر نعمان اعجاز نے مؤقف اپنایا کہ “بھارت کا ‘اسپورٹنگ’ رویہ کرکٹ کے لیے نقصان دہ ہے۔”
ان کا کہنا تھا کہ بھارت نے کرکٹ کے میدان وہ تھیٹر بنا دیا ہے جہاں وہ اپنی ریاستی حکمتِ عملی کا مظاہرہ کرتا ہے۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بھارت نے نہ صرف ‘کھیل سیاست سے بالاتر ہے’ کے تصور کو کچل دیا بلکہ اس طرح کے روہے کو بار بار دہرایا، جیسے ٹاس کے وقت مصافحے سے انکار، یا ستمبر 2025 میں محسن نقوی کے ہاتھوں ایشیا کپ وصول کرنے کے بجائے مرد کھلاڑیوں کا جان بوجھ کر پوڈیم چھوڑ دینا۔
India’s Unsporting Attitude Hurting Cricket
That cricket should have become the theatre in which India performs its statecraft is, one suspects, neither accidental nor especially novel.
What is dispiriting is the brazenness with which the old pretence, sport standing somewhere… pic.twitter.com/6NL3r4KKn8
— Dr. Nauman Niaz (@DrNaumanNiaz) September 13, 2026
بھارتی صارفین بھی اپنے بورڈ اور ٹیم کو نشانہ بنانے میں پیچھے نہیں رہے۔
ایک صارف نے اس موقع کو شرمناک قرار دیتے ہوئے ایکس پر لکھا کہ “یہ سراسر منافقت ہے”۔ انہوں ںے سوال اٹھایا کہ چین کیساتھ کشیدگی کے دوران بھارتی فوجیوں کے مارے جانے کے بعد جب چینی صدر شی نے بھارت کا دورہ کیا تو انہیں پُرتپاک استقبال ملا۔۔۔ “لیکن جب کرکٹ کی بات آتی ہے تو اچانک یاد آجاتی ہے کہ قومی وقار اور عزت نفس پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔ بی سی سی آئی کو شرم آنی چاہیے۔”
Absolute hypocrisy, there was no problem when President Xi visited India and received a warm welcome, despite the tensions and the sacrifice of more than 40+ of our soldiers. But when it comes to cricket, suddenly national pride and ego become non negotiable. What a shame bcci?
— Mallikarjun (@mallikarjun070) September 14, 2026
ایک اور بھارتی صارف نے پوسٹ کی کہ “اس حد تک کھیل کی روح کے منافی رویہ دکھانے کے قابل صرف ہم ہی ہیں۔ اگر ہمیں پاکستان سے کوئی سروکار نہیں رکھنا تھا، تو پھر ٹورنامنٹ میں شرکت ہی کیوں کی؟
Only we are capable of this level of unsportsmanlike behaviour
If we wanted to have nothing to do with Pakistan, why sign up for the tournament?
India break silence on refusing to accept Women’s Asia Cup trophy from Pakistan’s Mohsin Naqvihttps://t.co/8oSYTVdXxb
-via inshorts pic.twitter.com/v0GPmjMgbA— Grouchy Maxx (@softgrowl) September 14, 2026
