وفاقی حکومت نے اعلان کیا ہے کہ موٹر سائیکل والے ہفتے میں ایک بار اور گاڑی والے ہر 10 دن میں ایک بار فیول سبسڈی حاصل کرسکتے ہیں، گاڑی کے لیے 10 لیٹر اور بائیک کے لیے 5 لیٹر کا ٹوکن ہوگا۔
وفاقی وزیر انفارمیشن ٹیکنالوجی شزا فاطمہ نے وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ اور وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک کے ہمراہ اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے فیول سبسڈی سے متعلق تفصیلات سے آگاہ کیا۔
شزا فاطمہ کا اپنی گفتگو میں کہنا تھا کہ خطے میں جنگ اورعالمی صورتحال کی وجہ سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بڑھتی ہیں،وزیراعظم نے غریب طبقے کیلئے پیٹرولیم مصنوعات پرخصوصی ریلیف کااعلان کیا،موٹرسائیکل سواروں کو20لیٹر اورچھوٹی گاڑیوں کو30لیٹر ماہانہ فیول پرریلیف دیا گیا،کوشش ہے زیادہ سے زیادہ لوگ وزیراعظم پیکج سے فائدہ اٹھائیں۔
وفاقی وزیرآئی ٹی نے مزید بتایا کہ 9771 پرپیغام بھیج کرپروگرام میں نام رجسٹرکیا جا سکتا ہے،800 سی سی گاڑیوں اورموٹرسائیکل سواروں کیلئے100روپے فی لیٹر رعایت دی گئی ہے،کوشش ہے کہ پیٹرول پمپوں پرلوگوں کا رش نہ لگے۔
انہوں نے واضح کیا کہ حکومت کوئی شناختی کارڈ نہیں مانگ رہی، موٹرسائیکل والے ہفتے میں ایک بار فیول سبسڈی حاصل کرسکتے ہیں،ہرشخص کے پاس اسمارٹ فون نہیں اس لیے ایپ نہیں بنائی ،جس نمبرسے میسج کریں وہ شناختی کارڈ اورسم شہری کےنام پرہونی چاہیے۔
اس موقع پر وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ کا کہنا تھا کہ اسلام آباد میں آج رات 12بجے کے بعد سبسڈی کا اجرا ہوگا،وزارت خزانہ کے ساتھ تمام ادارے مل کرکام کر رہےہیں ،خصوصی اسکیم کااجرا مستحق لوگوں کے لیے ہے،یہ منفرد اسکیم ہے،اپوزیشن کا کام تجویزدینا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ پیٹرولیم لیوی کم کرتے توامیر لوگ بھی سبسڈی سے فائدہ اٹھاتے،وزیراعظم نے مستحق افراد کیلئے خصوصی ریلیف سکیم کا اجراء کیا،ایسا نظام پہلے کبھی نہیں متعارف کروایا گیا۔
وفاقی وزیرپیٹرولیم علی پرویز ملک نے کہا کہ وزیراعظم نے 130ارب روپے کی سبسڈی دی ہے، لیوی سےبڑھ کر 100روپے فی لیٹر ریلیف دیا، ہم نے تمام وزرائے اعلیٰ سے مشاورت کی ،سب کواکٹھا کرکے ٹارگٹڈ ریلیف کا نظام ترتیب دیا گیا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ خواہشات کی بنیاد پرنظام نہیں چلتا،وزیراعظم نے غریب طبقے کوسبسڈی دی ہے، معاملات کوحل کرنے کی کوشش کررہےہیں،عوام کوجتنا تحفظ اور ریلیف دے سکتے ہیں دیں گے۔
خصوصی ریلیف اسکیم کیا ہے؟
وزیراعظم شہباز شریف نے گزشتہ روز مشرق وسطیٰ میں حالیہ کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں مسلسل اضافے کے پیش نظر عوام پر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کا بوجھ کم کرنے کے لیے خصوصی ریلیف اسکیم کا اعلان کیا۔
وزیراعظم نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں کہا کہ تیل کی قیمتوں میں اضافے سے عوام پر پڑنے والے بوجھ کا حکومت کو مکمل احساس ہے، مشکل کی اس گھڑی میں عوام کو تنہا نہیں چھوڑیں گے۔
شہباز شریف نے ریلیف اسکیم کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ خصوصی ریلیف اسکیم کے تحت موٹرسائیکل، رکشہ، چنگچی اور 800 سی سی تک کی چھوٹی گاڑیاں استعمال کرنے والوں کو پیٹرول پر فی لیٹر 100 روپے کا ریلیف فراہم کیا جائے گا۔
وزیراعظم نے کہا کہ موٹرسائیکل، رکشہ اور چنگچی سمیت دو اور تین پہیوں والی سواریوں کے لیے ماہانہ 20 لیٹر پیٹرول پر فی لیٹر 100 روپے کا ریلیف دیا جائے گا، جس سے انہیں ماہانہ 2 ہزار روپے تک فائدہ ہوگا۔ اسی طرح 800 سی سی تک کی چھوٹی گاڑیوں کے مالکان کو ماہانہ 30 لیٹر پیٹرول پر فی لیٹر 100 روپے کا ریلیف فراہم کیا جائے گا یعنی انہیں ماہانہ 3 ہزار روپے تک کا فائدہ حاصل ہو گا۔
وزیراعظم نے کہا کہ اسلام آباد کی حدود میں خصوصی ریلیف اسکیم کا اطلاق آج سے کردیا جائے گا جبکہ پورے پاکستان بشمول آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان میں اس کا اطلاق بدھ اور جمعرات کی درمیانی شب سے ہوگا۔
شہباز شریف کے بیان کے مطابق خصوصی ریلیف اسکیم کے لیے رجسٹریشن کا عمل آج سے شروع کردیا گیا ہے، اسکیم کے طریقہ کار اور رجسٹریشن سے متعلق تفصیلات آگاہی مہم کے ذریعے عوام تک پہنچائی جائیں گی۔
وزیراعظم نے موٹرسائیکل، رکشہ اور چھوٹی گاڑیوں سے متعلق معلومات کی فراہمی میں تعاون پر صوبائی حکومتوں کا بھی شکریہ ادا کیا۔
حکومت کی جانب سے یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور عالمی توانائی منڈی میں غیر یقینی صورتحال کے باعث خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں اتار چڑھاؤ دیکھا جا رہا ہے۔
مشرق وسطی میں حالیہ کشیدگی اور اسکے باعث عالمی منڈی میں بڑھتی ہوئی تیل کی قیمتوں کا عوام پر بوجھ بڑھنے کا فوری نوٹس لیتے ہوئے وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف کی جانب سے ایک خصوصی ریلیف سکیم کا اجراء کر دیا گیا ہے.
وزیر اعظم نے سکیم کا اجراء کرتے ہوئے کہا ہے کہ تیل کی قیمتوں میں…
— Prime Minister’s Office (@PakPMO) September 13, 2026
پیٹرول کی قیمتوں میں اضافے کا اثر بالخصوص موٹرسائیکل، رکشہ اور چھوٹی گاڑیاں استعمال کرنے والے کم اور متوسط آمدنی والے طبقات کے سفری اخراجات پر پڑتا ہے، جس کے پیش نظر حکومت نے براہ راست پیٹرول ریلیف دینے کا فیصلہ کیا ہے۔
رجسٹریشن کا ڈیجیٹل طریقہ کار کیا ہے؟
وزیراعظم شہباز شریف کی خصوصی ریلیف اسکیم کے تحت رجسٹریشن اور فیول ٹوکن کے حصول کے لیے جدید ڈیجیٹل نظام متعارف کرا دیا گیا ہے۔
وزارت آئی ٹی و ٹیلی کمیونیکیشن نے وزیراعظم کی خصوصی ریلیف اسکیم کے لیے جامع اور خودکار ڈیجیٹل سسٹم تیار کیا ہے، جس کے ذریعے شہری گھر بیٹھے رجسٹریشن کا عمل مکمل کر سکیں گے۔
حکومت کی جانب سے جاری تفصیلات کے مطابق وزیراعظم خصوصی ریلیف اسکیم کی رجسٹریشن کا مکمل طریقہ کار pmfuelrelief.pk پر دستیاب ہے۔

شہری اپنے نام پر رجسٹرڈ موبائل سم سے مقررہ فارمیٹ کے مطابق ایس ایم ایس ارسال کرکے رجسٹریشن کرا سکتے ہیں، کامیاب رجسٹریشن کی صورت میں شہری کو تصدیقی جواب موصول ہوگا۔
رجسٹریشن مکمل ہونے کے بعد فیول ٹوکن کے حصول کے لیے موبائل فون سے TOK لکھ کر 9771 پر ایس ایم ایس کرنا ہوگا۔
حکام کے مطابق درخواست کی تصدیق اور کامیابی کی صورت میں شہری کو موبائل فون پر فیول ٹوکن موصول ہوگا، جسے متعلقہ پٹرول پمپ پر دکھا کر تصدیق کے بعد رعایتی نرخ پر پٹرول حاصل کیا جا سکے گا۔
پاکستان میں پیٹرولیم قیمتوں کا پس منظر
ملک میں اس وقت پیٹرول کی قیمت 375 روپے 82 پیسے فی لیٹر ہے جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت 403 روپے 32 پیسے فی لیٹر ہے، جس میں آج مزید رد وبدل کیا جائے گا۔
پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا تعین عموماً عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت، ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر، درآمدی لاگت، پیٹرولیم لیوی اور دیگر ٹیکسز و اخراجات کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا جاتا ہے۔ حکومت عام طور پر ہر پندرہ روز بعد پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا جائزہ لیتی ہے۔
عالمی منڈی میں خام تیل مہنگا ہونے کی صورت میں پاکستان کے درآمدی بل پر دباؤ بڑھتا ہے، جس کے نتیجے میں مقامی سطح پر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بڑھتی ہیں، اس کے برعکس عالمی قیمتوں میں کمی یا روپے کی قدر میں بہتری کی صورت میں قیمتوں میں کمی کی گنجائش پیدا ہوتی ہے۔
پاکستان اپنی پیٹرولیم ضروریات کا ایک بڑا حصہ درآمد کرتا ہے، اس لیے عالمی منڈی میں ہونے والی تبدیلیاں براہِ راست مقامی قیمتوں اور بالواسطہ طور پر ٹرانسپورٹ، اشیائے خورونوش اور دیگر ضروریات زندگی کے اخراجات کو متاثر کرتی ہیں۔
اسی تناظر میں وزیراعظم کی جانب سے 800 سی سی تک کی گاڑیوں، موٹرسائیکلوں، رکشوں اور چنگچی کے لیے فی لیٹر 100 روپے ریلیف دینے کا اعلان کم آمدنی اور روزمرہ سفر کے لیے ان گاڑیوں پر انحصار کرنے والے شہریوں کے لیے فوری ریلیف دینے کی کوشش ہے۔



