ایران نے آبنائے ہرمز کے باہر ایک نیا ممنوعہ بحری زون قائم کرنے کا اعلان کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اس علاقے میں داخل ہونے والے ہر بحری جہاز کو پابندیوں کی فہرست میں شامل کردیا جائے گا۔
ایران کی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کے سیکریٹری محسن رضائی نے ایرانی سرکاری نشریاتی ادارے پریس ٹی وی کو دیے گئے انٹرویو میں کہا کہ نیا بحری زون آئندہ چند روز میں قائم کیا جائے گا جو امریکی بحریہ کی قائم کردہ ناکہ بندی کی حد سے شروع ہو کر خلیج کے مختلف حصوں تک پھیلے گا۔
محسن رضائی نے کہا کہ ایران اور عمان آئندہ چند روز میں آبنائے ہرمز سے متعلق ایک نئے بحری راستے کے معاہدے پر دستخط کریں گے، جس کے داخلی اور خارجی راستے ایران کے کنٹرول میں ہوں گے۔
<blockquote class=”twitter-tweet”><p lang=”en” dir=”ltr”>Chief of General Staff of the Iranian Armed Forces, Major General Ali Abdollahi, says the Iranian nation will never surrender, and the future will witness the definite decline of American power.<br><br>Follow Press TV on Telegram: <a href=”https://t.co/GHI09iA8ru”>https://t.co/GHI09iA8ru</a> <a href=”https://t.co/7Dp1P0X8ol”>pic.twitter.com/7Dp1P0X8ol</a></p>— Press TV 🔻 (@PressTV) <a href=”https://x.com/PressTV/status/2096637048895557964?ref_src=twsrc%5Etfw”>September 6, 2026</a></blockquote> <script async src=”https://platform.x.com/widgets.js” charset=”utf-8″></script>
انہوں نے دعویٰ کیا کہ آبنائے ہرمز ’مکمل طور پر بند‘ ہے اور مسلح افواج کے کنٹرول میں ہے۔ ان کے بقول امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا یہ کہنا کہ آبنائے ہرمز کھلی ہے ’بڑا جھوٹ‘ ہے۔
ایرانی عہدیدار نے بتایا کہ آبنائے ہرمز کی بندش سے قبل روزانہ 100 سے زائد بحری جہاز اس راستے سے گزرتے تھے، جو 10 کروڑ ٹن سے زیادہ سامان لے جاتے تھے، تاہم اب صرف 7 یا 8 جہاز ایران کے لیے ضروری اشیا لے کر آبنائے سے گزر رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ امریکا بھاری اخراجات کے باوجود 5 سے 6 بحری جہاز آبنائے سے گزارنے کی کوشش کر رہا ہے، تاہم ’عموماً یہ جہاز نشانہ بن جاتے ہیں‘۔ محسن رضائی نے کہا کہ ایران نے ان جہازوں کو غرق کرنے سے گریز کیا کیونکہ ان میں تیل موجود ہے اور ایسا کرنے سے خطے کے ماحول کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔
محسن رضائی نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ “48 گھنٹے پہلے ہم نے پہلی بار ایک امریکی بحری جہاز کے اوپر سے نئے اینٹی شپ میزائل کا کامیاب تجربہ کیا” جس سے خوفزدہ ہو کر امریکی وہاں سے بھاگ گئے۔ تاہم انہوں نے جہاز کا نام یا تجربے کی جگہ کے بارے میں بات نہیں کی۔
دوسری جانب انہوں نے ایران میں امریکی معاشی ناکہ بندی کے باعث بڑے پیمانے پر قحط کی اطلاعات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے طویل عرصے سے اس صورتحال کی تیاری کر رکھی ہے اور خوراک و دیگر ضروری اشیا کے وافر ذخائر موجود ہیں۔
ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی 28 فروری کو ایران پر امریکی اور اسرائیلی حملوں کے بعد بڑھ گئی تھی۔ تہران نے بھی اسرائیل اور خطے میں امریکی مفادات کو میزائل اور ڈرون حملوں کا نشانہ بنایا۔
جون میں پاکستان اور قطر کی ثالثی میں ایران اور امریکا نے ایک یادداشتِ مفاہمت پر دستخط کیے تھے، جس میں جنگ بندی، آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے اور معاشی پابندیوں سے متعلق اقدامات شامل تھے۔ تاہم دونوں ممالک ایک دوسرے پر اس معاہدے پر عمل نہ کرنے کے الزامات عائد کرتے رہے ہیں اور آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت اور پابندیوں کے معاملے پر کشیدگی برقرار ہے۔



