حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ایک بار پھر اضافہ کردیا۔
حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ایک بار پھر اضافہ کردیا، جس کے تحت پیٹرول کی قیمت میں 3 روپے 5 پیسے جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 5 روپے 37 پیسے فی لیٹر اضافہ کیا گیا ہے۔
پیٹرولیم ڈویژن کے نوٹیفکیشن کے مطابق پیٹرول کی نئی قیمت 370 روپے 80 پیسے فی لیٹر مقرر کردی گئی ہے، جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت 398 روپے 4 پیسے فی لیٹر ہوگئی ہے۔
نوٹیفکیشن کے مطابق پٹرولیم مصنوعات کی نئی قیمتوں کا اطلاق 11 ستمبر 2026 سے ہوگا۔
تین دن میں پیٹرول 12 اور ڈیزل 16 روپے سے زائد مہنگا
پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ اضافے کا موازنہ کیا جائے تو 8 ستمبر کو پیٹرول کی قیمت 358.77 روپے اور ڈیزل کی قیمت 381.77 روپے فی لیٹر تھی۔
11 ستمبر کی نئی قیمتوں کے مطابق پیٹرول تین دن میں مجموعی طور پر 12 روپے 3 پیسے مہنگا ہوا جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 16 روپے 27 پیسے فی لیٹر اضافہ ہوا۔
یوں 8 ستمبر کی قیمت کے مقابلے میں پیٹرول کی قیمت میں تقریباً 3.35 فیصد جبکہ ڈیزل کی قیمت میں تقریباً 4.26 فیصد اضافہ بنتا ہے۔
عالمی منڈی میں بھی خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر سے اوپر
پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے دوران عالمی منڈی میں بھی خام تیل کی قیمتوں میں تیزی دیکھی جارہی ہے۔
رائٹرز کے مطابق 10 ستمبر کو برینٹ خام تیل کی قیمت 106.60 ڈالر فی بیرل جبکہ امریکی خام تیل ڈبلیو ٹی آئی 101.21 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گیا۔ دونوں بینچ مارکس میں ایک ہی روز تقریباً 5 فیصد اضافہ ہوا۔
عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں اضافے کی بڑی وجوہات مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی، آبنائے ہرمز اور دیگر اہم سمندری راستوں میں تیل کی ترسیل کو لاحق خطرات اور عالمی سپلائی میں ممکنہ رکاوٹوں کے خدشات ہیں۔ 8 ستمبر کو بھی برینٹ خام تیل تقریباً 97.92 ڈالر اور ڈبلیو ٹی آئی 93.03 ڈالر فی بیرل پر بند ہوا تھا۔
عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں حالیہ تیزی سے پاکستان جیسے درآمدی ایندھن پر انحصار کرنے والے ممالک کے لیے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں، درآمدی بل اور مہنگائی پر مزید دباؤ بڑھنے کا خدشہ ہے۔



