11 ستمبر 2001 کی صبح امریکی شہر نیویارک کے مشرقی ساحل پر بالکل معمول کے مطابق شروع ہوئی۔
آسمان صاف تھا، لوگ اپنے اپنے کام میں مصروف یا دفاتر جا رہے تھے، نیویارک کی پہچان ورلڈ ٹریڈ سینٹر ہمیشہ کی طرح ہزاروں افراد سے بھرا ہوا تھا۔
کسی کو اس بات کا اندازہ بھی نہیں تھا کہ اگلے چند گھنٹے تاریخ کا رخ ہمیشہ کے لیے بدل دیں گے۔
صبح 8 بج کر 46 منٹ پر امیریکن ایئرلائنز کی پرواز ورلڈ ٹریڈ سینٹر کے شمالی ٹاور سے ٹکرا گئی۔
ابتدا میں اسے صرف ایک حادثہ سمجھا گیا۔
لیکن صرف 17 منٹ بعد، 9 بج کر 3 منٹ پر، یونائیٹڈ ایئرلائنز کی پرواز جنوبی ٹاور سے جا ٹکرائی جو یہ ظاہر کرنے کے لیے کافی تھا کہ یہ کوئی حادثہ نہیں بلکہ منظم حملہ تھا۔
9 بج کر 37 منٹ پر ایک اور طیارہ امریکی محکمہ دفاع پینٹاگون کی بیرونی دیوار سے جا ٹکرایا۔
جبکہ اسی دوران ایک چوتھا مسافر طیارہ، امریکی ریاست پنسلوینیا کے ایک دیہی علاقے میں گر کر تباہ ہو گیا۔
تحقیقات کے مطابق اس پرواز کے مسافروں نے ہائی جیکرز کا مقابلہ کیا اور ممکنہ طور پر امریکی صدر کی رہائش گاہ وائٹ ہاوس کو اس حملے کا نشانہ بننے سے بچا لیا۔
ادھر نیویارک میں صبح 9 بج کر 59 منٹ پر جنوبی ٹاور زمین بوس ہو گیا، اور 10 بج کر 28 منٹ پر شمالی ٹاور بھی گر گیا۔
چند ہی منٹوں میں مین ہٹن کی معروف سکائی لائن ہمیشہ کے لیے بدل گئی۔
ان حملوں کے بعد امریکی صدر جارج ڈبلیو بش نے ‘دہشت گردی کے خلاف جنگ’ شروع کی جس کو انہوں نے وار آن ٹیرر کا نام دیا اور پھر افغانستان، عراق، یمن، صومالیہ اور اسی طرح مشرق وسطی کے کئی اور ممالک امریکی اور نیٹو حملوں کا نشانہ بنے۔
آج 25 سال گزرنے کے بعد بھی اس صبح کو تاریخ کے ایک اہم ترین دن کے طور پر یاد کیا جاتا ہے جس نے دنیا کی تاریخ بدل دی۔ شاید ہمیشہ کے لیے۔



