کراچی:سندھ اسمبلی نے رینجرز کے اختیارات میں توسیع کے حوالے سے قرارداد سمیت متعدد بل متفقہ طور پر منظور کر لیے۔
سندھ اسمبلی نے کراچی میں فاطمہ یونیورسٹی کے قیام کا بل متفقہ طور پر منظور کرلیا جبکہ ایگرا یونیورسٹی کے ترمیمی بل سمیت بینظیر بھٹو شہید ہیومن ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ بورڈ کا ترمیمی بل بھی متفقہ طور پر منظور کرلیا گیا۔
سندھ اسمبلی کے اجلاس میں بینظیر بھٹو شہید ہیومن ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ بورڈ کا ترمیمی بل وزیر قانون سندھ ضیا الحسن لنجار نے پیش کیا، جسے ایوان نے متفقہ طور پر منظور کرلیا۔
قائداعظم کو خراج عقیدت پیش کرنے کی قرارداد متفقہ طور پر منظور
سندھ اسمبلی نے بانیٔ پاکستان قائداعظم محمد علی جناح کو خراج عقیدت پیش کرنے کی قرارداد متفقہ طور پر منظور کرلی۔
قرارداد کے متن میں کہا گیا ہے کہ قائداعظم محمد علی جناح کی تاریخی قیادت میں پاکستان کے قیام کے لیے جدوجہد کی گئی۔ قیام پاکستان کے لیے قائداعظم کی بے مثال سیاسی جدوجہد اور قیادت پر انہیں خراج عقیدت پیش کرتے ہیں۔
قرارداد میں کہا گیا کہ قائداعظم محمد علی جناح کی قیادت میں برصغیر کے مسلمانوں نے ایک آزاد وطن کے حصول کے لیے تاریخی جدوجہد کی اور ان کی قیادت کے نتیجے میں پاکستان معرضِ وجود میں آیا۔
ایوان نے قائداعظم کی خدمات اور قیام پاکستان کے لیے ان کی جدوجہد کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے قرارداد متفقہ طور پر منظور کرلی۔
اجلاس میں رینجرز کے اختیارات میں ایک سال کی توسیع سے متعلق قرارداد بھی متفقہ طور پر منظور کی گئی۔
سندھ اسمبلی میں رینجرز کے اختیارات میں ایک سال کی توسیع سے متعلق منظور کی گئی قرارداد میں کہا گیا ہے کہ ٹارگٹ کلنگ اور اسٹریٹ کرائم میں کمی رینجرز کی مؤثر کارروائیوں کا نتیجہ ہے۔
قرارداد کے متن کے مطابق کالعدم تنظیموں کی سرگرمیاں اور مفرور ملزمان اب بھی سیکیورٹی کے لیے خطرہ ہیں، جس کے باعث عوامی امن، جان و مال کے تحفظ اور شہر میں امن و امان برقرار رکھنے کے لیے رینجرز کی موجودگی ضروری ہے۔
قرارداد میں کہا گیا ہے کہ رینجرز نے پولیس کے ساتھ مل کر انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز میں اہم کردار ادا کیا اور جرائم پیشہ عناصر کے خلاف کارروائیوں کے نتیجے میں امن و امان کی صورتحال میں بہتری آئی۔
قرارداد کے مطابق شہریوں کے جان و مال کے تحفظ، امن عامہ برقرار رکھنے اور سیکیورٹی خطرات سے نمٹنے کے لیے رینجرز کا کردار بدستور اہم ہے، اسی تناظر میں سندھ اسمبلی نے رینجرز کے اختیارات میں ایک سال کی توسیع کی قرارداد متفقہ طور پر منظور کی۔
بجلی، گیس اور پانی کے مسائل پر شرجیل میمن کا اظہار تشویش
سینئر وزیر سندھ شرجیل انعام میمن نے بجلی، گیس اور پانی کی فراہمی کے مسائل پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔
شرجیل میمن نے کہا کہ کے الیکٹرک، حیسکو اور دیگر ادارے ناکام ہوچکے ہیں، صرف محکمہ بنانے اور بل وصول کرنے سے محکمہ نہیں بنتا۔ شہریوں کو پانی، گیس اور بجلی کے بنیادی مسائل کا سامنا ہے۔
انہوں نے کہا کہ مسئلہ صرف بجلی تک محدود نہیں بلکہ گیس اور پانی کے شعبوں میں بھی یہی صورتحال ہے۔ سندھ کو گیس اور پانی بھی پورا نہیں دیا جارہا، جبکہ گیس کی سپلائی میں بھی صوبے کو امتیازی سلوک کا سامنا ہے۔
سینئر وزیر سندھ نے سوال اٹھایا کہ کون بجلی کا بل دے رہا ہے اور کون نہیں دے رہا، کیا اس حوالے سے کوئی میکانزم موجود ہے؟
شرجیل میمن کا کہنا تھا کہ شدید گرمی والے علاقوں میں 18،18 گھنٹے لوڈشیڈنگ کی جارہی ہے، جیکب آباد میں شدید گرمی پڑتی ہے اور ایسے علاقوں میں طویل لوڈشیڈنگ شہریوں کے لیے مزید مشکلات پیدا کررہی ہے۔
واضح رہے کہ سندھ میں بجلی، گیس اور پانی کی فراہمی کے مسائل طویل عرصے سے سیاسی اور عوامی سطح پر زیر بحث رہے ہیں، سندھ حکومت بالخصوص بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں اور گیس کی فراہمی کے نظام پر متعدد مرتبہ تحفظات کا اظہار کرچکی ہے۔
دوسری جانب کراچی میں نئی جامعات کے قیام اور اعلیٰ تعلیم کے فروغ سے متعلق قانون سازی کو صوبے میں تعلیمی مواقع بڑھانے کی کوششوں کا حصہ قرار دیا جا رہا ہے۔



