انسداد دہشتگردی عدالت اسلام آباد نے دارالحکومت کے سیکٹر ایف 10 میں کشمیر کے حوالے سے مظاہرے کے خلاف درج مقدمے میں گرفتار تمام 96 ملزمان بشمول سینیٹر مشتاق احمد کی ضمانت بعد از گرفتاری کی درخواستیں منظور کرلیں۔
ان کے خلاف پولیس نے 31 جولائی کو اسلام آباد کے سیکٹر ایف 10 میں آزاد جموں و کشمیر کے حوالے سے احتجاجی مظاہرہ کرنے کے بعد تھانہ شالیمار میں دہشتگردی کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا تھا، جس میں کشمیری طلبا کی بڑی تعداد گرفتار کی گئی تھی۔
عدالت نے تمام ملزمان کو 5،5 ہزار روپے کے مچلکوں کے عوض ضمانت پر رہا کرنے کا حکم دیا۔ ضمانت کی درخواستوں پر سماعت انسداد دہشتگردی عدالت کے جج ابوالحسنات محمد ذوالقرنین نے کی۔
سینیٹر مشتاق احمد خان اور کشمیر یکجہتی جلسے کے بعد گرفتار کیے گئے تمام کشمیری طلبہ کی ضمانت منظور کر لی گئی۔
تمام کو آج عدالت میں پیش کیا گیا، جہاں عدالت نے ان کی ضمانت کی درخواستیں منظور کر لیں۔
الحمدللہ، بڑی قانونی پیش رفت-
~ایڈمن pic.twitter.com/VoTmfQ3Vol
— Senator Mushtaq Ahmad Khan | سینیٹر مشتاق احمد خان (@SenatorMushtaq) September 7, 2026
سماعت کے دوران سرکاری وکیل راجا نوید حسین کیانی عدالت میں پیش ہوئے جبکہ ملزمان کی جانب سے جے کے چیمبر اسلام آباد سے منسلک وکلا نے پیروی کی۔ سینیٹر مشتاق احمد خان کی جانب سے وکیل عمران شفیق عدالت میں پیش ہوئے۔
سماعت کے دوران جج ابوالحسنات محمد ذوالقرنین نے سینیٹر مشتاق احمد خان کے وکیل سے کہا کہ وہ انتظار کررہے تھے، دیر سے مت آیا کریں۔
عدالت نے سینیٹر مشتاق احمد خان، رضی طاہر اور دیگر ملزمان کی ضمانتیں بھی منظور کرلیں۔
تھانہ شالیمار میں درج ایف آئی آر میں سینیٹر مشتاق اور دیگر پر اشتعال انگیز تقاریر کرنے اور نعرے لگانے، روڈ بلاک کرنے، زبردستی دکانیں بند کرانے، میڈیا، سرکاری، اور پرائیوٹ گاڑیاں توڑنے، اور پولیس اہلکاروں کی وردیاں پھاڑنے اور ہیلمٹ چھیننے کے الزامات لگائے گئے ہیں۔
