وزیر مملکت برائے قانون و انصاف بیرسٹرعقیل ملک نے کہا ہے کہ آئندہ آنے والی ترمیم 28ویں آئینی ترمیم ہے، تاہم اس سے قبل تمام سیاسی جماعتوں میں اتفاقِ رائے ضروری ہے۔
وزیرمملکت نے کہا کہ آئینی ترمیم کیلئے پیپلز پارٹی کے بغیر ہمارے پاس ووٹ پورے نہیں جبکہ اپوزیشن اگر آئینی ترمیم کے لیے ووٹ دینا چاہے تواس سے بات کی جاسکتی ہے۔
بیرسٹرعقیل ملک نے سیاسی قیادت کے بیرون ملک ایک ساتھ موجود ہونے کے حوالے سے کہا کہ مختلف سیاسی رہنماؤں کا بیرون ملک اکٹھے ہونا صرف حسنِ اتفاق ہے۔
صدر آصف علی زرداری خاندانی مصروفیات کے باعث بیرون ملک موجود ہیں، جبکہ وزیر داخلہ چیئرمین پاکستان کرکٹ بورڈ کی حیثیت سے بیرون ملک موجود تھے۔
نئے صوبوں کے قیام سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے وزیر مملکت برائے قانون وانصاف نے کہا کہ صوبے ضرور بنانے چاہئیں اور وہ نئے صوبے بنانے کے حامی ہیں۔
تاہم ان کا کہنا تھا کہ نئے صوبوں کے قیام کے ساتھ انتظامی امورمیں اصلاحات بھی ضروری ہیں کیونکہ صرف نئے صوبے بنانا کافی نہیں بلکہ بہتر حکمرانی اورمؤثرانتظامی نظام بھی ناگزیر ہے۔
انہوں نے کہا کہ ملک میں کرپشن کا خاتمہ اسی وقت ممکن ہوگا جب سرکاری محکموں میں بنیادی اصلاحات لائی جائیں گی۔
ان کا کہنا تھا کہ سوال یہ ہے کہ کیا ہر ادارے میں رشوت کا نظام نہیں چل رہا؟ جب تک جیب میں ہاتھ نہ ڈالیں، کام نہیں ہوتا۔
بیرسٹرعقیل ملک کے مطابق یہ صورتحال اس بات کی متقاضی ہے کہ نظام میں بنیادی تبدیلیاں اور اصلاحات کی جائیں۔
وزیرمملکت نے کہا کہ پاکستان کو80 سال سے اللہ کے بھروسے چلایا جا رہا ہے، اب اصلاحات کا وقت ہے، ان کے مطابق ملک کو درپیش مسائل کے مستقل حل کیلئے ادارہ جاتی اورانتظامی اصلاحات ناگزیر ہیں۔
28ویں آئینی ترمیم کے حوالے سے انہوں نے واضح کیا کہ کسی بھی آئینی ترمیم کو آگے بڑھانے کے لیے سیاسی جماعتوں کے درمیان اتفاقِ رائے پیدا کرنا ضروری ہے۔
عقیل ملک نے مزید کہا کہ حکومت کے پاس پیپلز پارٹی کے بغیر آئینی ترمیم کے لیے مطلوبہ ووٹ پورے نہیں ہیں، اس لیے سیاسی جماعتوں سے مشاورت اور بات چیت کے ذریعے آگے بڑھنا ہوگا۔
