چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ ہمارا لانگ مارچ برقرار ہے، سہیل آفریدی وزیراعلیٰ رہیں گے، انہیں بانی پی ٹی آئی کی حمایت حاصل ہے۔ پی ٹی آئی کا صوبائی اسمبلی تحلیل کرنے کا کوئی ارادہ نہیں۔
چیئرمین پی ٹی آئی کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب پاکستان تحریک انصاف نے 27 ستمبر کا اسلام آباد مارچ 4 اکتوبر تک موخر کر دیا ہے۔ پی ٹی آئی کے مطالبات میں بانی پی ٹی آئی عمران خان، ان کے اہلِ خانہ اور تمام زیرِ حراست سیاسی کارکنوں کی رہائی شامل ہے۔
چیئرمین پاکستان تحریک انصاف بیرسٹر گوہر، سینیٹر علامہ ناصر عباس او سینیٹر ذیشان اخونزادہ نے پیپلز پارٹی کے رہنما نیئر بخاری سے ملاقات کی جس میں موجودہ سیاسی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر کا کہنا تھا کہ صوبائی خودمختاری آئین کے مطابق ہونی چاہیے، کچھ چیزیں چل رہی ہیں جن کا اندیشہ ہے، ایسے اندیشوں کا ختم ہونا ضروری ہے۔
پیپلز پارٹی کو آل پارٹیز کانفرنس کے حوالے سے تجویز
انہوں نے مزید کہا کہ آل پارٹیز کانفرنس کے حوالے سے کچھ کر رہے ہیں ، ہم نے تجاویز پیپلز پارٹی کے سامنے رکھی ہیں، ایک دو دن میں پیپلز پارٹی سے مثبت جواب مل جائے گا۔ ہمارے پاس کوئی ہدایات نہیں آئیں، پیپلز پارٹی کے پاس اپوزیشن کی حیثیت سے آئے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ملک، سکیورٹی اور سیاسی استحکام کے لیے کچھ چیزیں ضروری ہیں، جمہوریت کی مضبوطی کے لیے سیاسی جماعتوں کا کردار اہم ہے، اس ملک کا مقدر مضبوط جمہوریت ہے۔ جمہوریت میں صوبائی اختیار کی بھی بہت اہمیت ہے۔
اس موقع پر نیئر بخاری نے کہا کہ اپوزیشن رہنما ہمارے دفتر آئے، اپوزیشن نے آل پارٹیز کانفرنس کی تجویز دی، آل پارٹیز کانفرنس کرانا جمہوری عمل ہے، بحران جنم لیتے ہیں تو سیاسی جماعتیں مل کر بیٹھتی ہیں۔ پیپلز پارٹی آئینی و جمہوری معاملات پر سیاسی جماعتوں کے ساتھ رابطے اور مشاورت کو اہم سمجھتی ہے۔
بلاول بھٹو کے موقف سے آگاہ کر دیا جائے گا، نیئر بخاری
نیئر بخاری نے کہا کہ تحریک تحفظ آئین پاکستان کی جانب سے آل پارٹیز کانفرنس کی تجویز کا پیغام بلاول بھٹو زرداری تک پہنچایا جائے گا۔ بلاول بھٹو کا جو بھی موقف ہو گا، تحریک تحفظ آئین پاکستان کے وفد کو اس سے آگاہ کر دیا جائے گا۔
علاوہ ازیں اپوزیشن رہنما علامہ ناصر عباس نے کہا کہ مشکل وقت ہے، ناامیدی پھیل چکی ہے ، سب کو مل بیٹھنے کی ضرورت ہے۔



