کراچی: سینئر وزیر سندھ شرجیل میمن نے وزیر دفاع خواجہ آصف کے بیان کو مایوس کن قرار دیتے ہوئے وفاقی حکومت سے وضاحت طلب کر لی۔
سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے وزیر دفاع خواجہ آصف کے بیان پر ردعمل میں کہا کہ وفاقی حکومت واضح کرے کہ خواجہ آصف کا بیان حکومتی پالیسی ہے یا ان کی ذاتی رائے؟ وفاقی وزرا کی بیان بازی صوبے کے خلاف سیاسی جارحیت کے مترادف ہے۔
انہوں خواجہ آصف کے بیان پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ خواجہ آصف بیان بازی سے پہلے تاریخ، آئین اور پارلیمانی ریکارڈ کا مطالعہ کریں۔ پیپلز پارٹی کا موقف دو رخی نہیں بلکہ دوٹوک، اصولی اور آئینی ہے۔
سینئر وزیر سندھ کے مطابق پنجاب اسمبلی سرائیکی صوبے کے حق میں دو مرتبہ قرارداد منظور کرچکی ہے، جبکہ سندھ اسمبلی سندھ کے اندر مزید صوبے بنانے کے خلاف 8 مرتبہ قراردادیں منظور کرچکی ہیں۔
انہوں نے (ن) لیگ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے اتحادیوں کو خوش کرے مگر سندھ کو قربانی کا بکرا نہ بنائے۔ جبکہ پیپلز پارٹی نے ہمیشہ وفاق اور آئین کو بالادست رکھنے کی سیاست کی ہے۔
سینئر صوبائی وزیر نے واضح کیا کہ پیپلز پارٹی وفاق اور جمہوری نظام کو مضبوط بنانے کے لیے اپنا کردار ادا کرتی رہے گی۔
خواجہ آصف نے کیا کہا؟
اس سے قبل وزیر دفاع خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی ناگزیر ہے جبکہ انہوں نے نئے صوبوں کے معاملے پر پیپلز پارٹی کے متضاد مؤقف پر بھی تنقید کی تھی۔
ان کا کہنا تھا کہ پنجاب میں سرائیکی صوبے پر پیپلز پارٹی حمایت یا نرم گوشہ رکھتی ہے جبکہ انتظامی یونٹس کی بات پر سندھو دیش کی بات شروع ہو جاتی ہے۔
خواجہ آصف کا یہ بیان گزشتہ روز متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کو سندھودیش اور پاکستان میں تمام علیحدگی پسند تحریکوں کے خلاف سندھ اسمبلی میں ایک قرارداد پیش کرنے کی اجازت نہ ملنے کے بعد سامنے آیا تھا۔
ان کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی کی پالیسی کے پیچھے کچھ اور دیکھتا ہوں جس کی تشریح وقت آنے پر کروں گا۔


