پاکستان میں نئے صوبوں اور انتظامی یونٹس کے قیام کا موضوع ایک بار پھر زیر بحث ہے۔ ملک کی آبادی پر مسلسل بڑھتا ہوا دباؤ، بڑے شہروں سے لے کر دور دراز علاقوں تک ناقص گورننس، صحت، تعلیم اور انصاف کی فراہمی میں مسلسل ناکامی جیسے مسائل کے پیشِ نظر نئے صوبے یا انتظامی یونٹس بنانے کی حامی حکومتی و سیاسی شخصیات مختلف فورمز پر اپنے خیالات کا کھل کر اظہار کررہی ہیں جبکہ دوسری جانب اس خیال کے مخالفین بھی ہیں جو ملک میں نئے صوبوں کی تشکیل یا کسی صوبے میں تقسیم کے حوالے سے انتہائی شدید موقف رکھتے ہیں۔
پاکستان کے مرکزی سیاسی رہنماؤں اور مختلف حکومتی نمائندوں کی جانب سے نئے صوبوں یا انتظامی یونٹس کے قیام کے حوالے سے حال ہی میں واضح بیانات دیے گئے ہیں جن میں سے چند پر نظر ڈالتے ہیں؛
”انتظامی یونٹس بن کر رہیں گے“

وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے آج (5 ستمبر کو) یونیورسٹی آف منیجمنٹ اینڈ ٹیکنالوجی لاہور میں نیشنل پالیسی ڈائیلاگ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ” مجھے بڑی امید ہے کہ انشاء اللہ تعالی اللہ تعالی یہ ایڈمنسٹریٹو یونٹ بن کر رہیں گے اور اس کو نہ تو کوئی ایک فرد واحد نہ کوئی ایک سیاسی جماعت اور نہ ہی نمائندے روک سکتے ہیں۔”
انہوں نے کہا کہ “پاکستان کے انتظامی نظام کو ختم کرنے کے بجائے اسے آئین کے دائرے میں رہتے ہوئے ’ری سیٹ‘ کرنے کی ضرورت ہے، اور اس عمل کا فیصلہ عوام کی مرضی سے ہونا چاہیے۔”
محسن نقوی نے کہا کہ ’ری سیٹ‘ سے ان کی مراد کسی ایک سیاسی جماعت، حکومت یا موجودہ سیاسی بندوبست میں تبدیلی نہیں بلکہ گزشتہ 79 برس سے چلنے والے انتظامی نظام کا جائزہ لینا ہے۔
”نئے صوبوں پر بات قبل از وقت ہے“

وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثناء اللہ نے 4 ستمبر کو جیو نیوز کے پروگرام آج شاہزیب خانزادہ کے ساتھ میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ان کی جماعت مسلم لیگ (ن) سمجھتی ہے کہ اس وقت نئے صوبوں پر بات قبل از وقت ہے۔
رانا ثنا نے 3 ستمبر کو سندھ اسمبلی سے منظور کی جانے والے قرار داد پر کہا کہ ایسی قرار دادیں پہلے بھی منظور ہوچکی ہیں، صوبوں کے معاملے میں کل جو حدت اورشدت پیدا کی گئی وہ غیرضروری تھی، سندھ اسمبلی میں تقریرکے دوران قومی اسمبلی کو غیرضروری طورپرنشانہ بنایا گیا۔
واضح رہے کہ وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے تاحال ملک میں نئے صوبوں یا انتظامی یونٹس کے قیام کے حوالے سے کوئی بیان سامنے نہیں آیا ہے۔
”پاکستان کو 15 چھوٹے صوبوں میں تقسیم کردیا جائے یا مقامی حکومتیں بااختیار بنائیں“

وفاقی وزیرِ منصوبہ بندی احسن اقبال نے 2 ستمبر کو اسلام آباد میں پبلک پالیسی اور انتظامی اصلاحات پر مشاورتی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کا موجودہ دو سطح حکومتی نظام (وفاق اور صوبے) 18ویں آئینی ترمیم کے بعد صوبائی دارالحکومتوں تک محدود ہو کر رہ گیا ہے، جس کی وجہ سے عام آدمی کو صحت، تعلیم اور انصاف کے لیے اب بھی سو فیصد صوبائی مرکز کا مرہونِ منت رہنا پڑتا ہے۔
انہوں نے ایک حل پیش کرتے ہوئے کہا کہ یا تو ترکیہ اور ایران کی طرز پر پاکستان کو 15 چھوٹے صوبوں میں تقسیم کر دیا جائے تاکہ بیوروکریسی اور وزرا کی رسائی آسان ہو، یا پھر تمام 160 اضلاع کو بذریعہ مقامی حکومتیں مکمل طور پر بااختیار بنایا جائے۔
”سندھ کو 3 حصوں میں تقسیم کرنے میں کیا مسئلہ ہے“

وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے آج (5 ستمبر کو) کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں نئے صوبوں کے ناموں سے کوئی مسئلہ نہیں،اصل جنگ وسائل کی تقسیم اور اختیارات کی ہے،سندھ کو 3حصوں میں تقسیم کرنے میں کیا مسئلہ ہے؟کیا 7 اضلاع بنانے سے کراچی ٹوٹ گیا؟
انہوں نے واضح کیا کہ ایم کیو ایم انتظامی صوبے بنانے کے موقف سے پیچھے نہیں ہٹی،ہم لسانی بنیاد پر تقسیم کے خلاف ہیں۔ذوالفقار علی بھٹو کے آئین میں 27 ترامیم کر چکے ہیں، سندھ کو 3حصوں میں تقسیم کرنے میں کیا مسئلہ ہے؟ پورا ملک کہہ رہا ہے کہ نظام مکمل طور پر گل سڑ چکا ہے،مسائل کے حل کے لیے بیٹھ کر بات کی جائے۔
”اختیارات نچلی سطح تک منتقل کرنا ضروری ہیں“

پاکستان تحریک انصاف کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجا نے 21 اگست کو سسٹینیبل ڈیولپمنٹ پالیسی انسٹیٹیوٹ اور میڈیا گروپ کے زیرِ اہتمام اسلام آباد میں منعقدہ قومی سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ گورننس کا اصل مسئلہ نئے جغرافیائی نقشے بنانا نہیں بلکہ موجودہ دفاتر اور بیوروکریسی کو عوام کے سامنے جوابدہ بنانا ہے۔
انہوں نے وضاحت کی کہ اگر آپ مزید 10 یا 12 نئے صوبے بنا بھی دیں لیکن اختیارات صرف نئے صوبائی دارالحکومتوں اور اعلیٰ بیوروکریسی تک ہی محدود رہیں، تو عام شہری کے مسائل جوں کے توں رہیں گے۔
”سندھ کو ٹکڑے ٹکڑے کرنے کی بات بھی نہ کرنا“

وزیر اعلیٰ سید مراد علی شاہ نے 3ستمبر کو سندھ اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انتہائی پرجوش انداز میں کہا کہ” قومی اسمبلی کو خبردار کرتے ہیں سندھ کو ٹکڑے کرنے کی بات بھی نہ کرنا۔”
ان کا مزید کہناتھاکہ “صوبے آبادی کے حساب سے نہیں بلکہ ضرورت اور انتظامی تقاضوں کے مطابق بنتے ہیں اور سندھ ایک متحد صوبے کی حیثیت سے پاکستان میں شامل ہوا تھا۔”
مراد علی شاہ نے کہا کہ صوبہ سندھ نے پاکستان بنانے میں تاریخی کردار ادا کیا اور سندھ پاکستان کے قیام کے وقت ایک متحد صوبے کے طور پر پاکستان کا حصہ بنا تھا۔ یہ کہنا کہ آبادی تین کروڑ سے بڑھ کر 25 کروڑ ہو گئی، اس لیے مزید صوبے بننے چاہئیں، درست دلیل نہیں۔
”جان بھی دے دیں گے“

صوبائی وزیر و پیپلز پارٹی کے رہنما سعید غنی نے 3 ستمبر کو سندھ اسمبلی کے اجلاس سے جذباتی تقریر کی، اس دوران انہوں نے کہا کہ اسمبلی کی رکنیت، یہ وزارت، یہ سیاست، یہ ہماری زندگی سندھ کی وحدانیت سے بڑھ کر نہیں ہے۔ سندھ کی تقسیم کی بات ہو گی تو وزارت، ممبر شپ، سیاست کو لات ماریں گے اور وقت پڑا تو جان بھی دے دیں گے۔
انہوں نے کہا کہ اگر پنجاب اسمبلی نیا صوبہ بنانے کا فیصلہ کرتی ہے تو پیپلز پارٹی اس کے ساتھ کھڑی ہوگی، اسی طرح خیبرپختونخوا اسمبلی کی جانب سے نئے صوبے کے قیام کی حمایت کی گئی تو اس فیصلے کی بھی حمایت کی جائے گی۔
”بااختیار بلدیاتی نظام بنادیں، شعبدے بازی ختم ہوجائے گی“

امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان نے 2 ستمبر کو اسلام آباد میں جماعتِ اسلامی کے مرکزی میڈیا سیل اور سینیٹ میں پارلیمانی رپورٹرز کے ساتھ “ملکی معاشی و آئینی بحران اور بلدیاتی اختیارات” کے موضوع پر منعقدہ میڈیا بریفنگ میں کہا کہ ان کا کہنا تھا کہ صرف نئے صوبے کا نعرہ لگا دینے سے عوام کے مسائل حل نہیں ہوں گے۔
انہوں نے کہا کہ اگر کراچی جیسے بڑے شہر کو بااختیار بلدیاتی نظام کے تحت اس کے جائز مالی و انتظامی حقوق نہیں دیے جاتے، تو نئے یونٹس کی بحث صرف سیاسی شعبدہ بازی بن کر رہ جائے گی۔
حافظ نعیم کا کہنا تھا کہ فارم 45 کی پیداوار حکومت کے پاس نئے صوبوں یا انتظامی یونٹس کے قیام جیسے حساس فیصلے کا کوئی اخلاقی و سیاسی جواز نہیں اور پہلے آرٹیکل 140-A کے تحت مقامی حکومتوں کو بااختیار بنایا جائے۔
پاکستان میں نئے صوبوں یا انتظامی یونٹس کے قیام کا معاملہ سیاسی مفادات کی وجہ سے پیچیدگی کا شکار نظر آتا ہے۔ ایک طرف جہاں سندھ اسمبلی سے منظور ہونے والی اکثریتی قرارداد اور پاکستان پیپلز پارٹی کا مؤقف صوبے کی ‘تقسیم’ کے خلاف واضح بیانیہ ہے، وہی دوسری جانب ایم کیو ایم اور دیگر اتحادی جماعتیں انتظامی اصلاحات کے لیے آئینی ترمیم پر زور دے رہی ہیں۔ حتمی طور پر آئین کے آرٹیکل 239 کی شقوں کے پیشِ نظر اس مسئلے کا حل سیاسی کشمکش کے بجائے تمام قومی دھاروں کے مابین ڈائیلاگ اور مقامی حکومتی کے نظام کو آئینی تحفظ کے ساتھ بااختیار بنانے میں ہی ممکن ہے۔
