کراچی میں گُل پلازہ آتشزدگی کیس میں پولیس نے چالان عدالت میں جمع کرا دیا جس میں گُل پلازہ ایسوسی ایشن کو ذمہ دار جبکہ کے ایم سی، فائر بریگیڈ اور سول ڈیفنس کو غفلت کا مرتکب قرار نہیں دیا گیا۔
پولیس کے مطابق چالان میں گُل پلازہ میں فائر سیفٹی انتظامات سے متعلق سوالات اٹھائے گئے اور عمارت کی انتظامیہ کی مبینہ غفلت کو سامنے رکھا گیا ہے۔ دکانوں اور عمارت میں حفاظتی انتظامات سے متعلق بیانات بھی چالان کا حصہ بنائے گئے ہیں۔
تفتیش کے دوران پولیس نے مختلف شواہد جمع کیے جن میں سی سی ٹی وی فوٹیج، این وی آر، یو ایس بی اور ڈی وی آر ریکارڈنگز شامل ہیں، جبکہ چالان میں 87 گواہوں کو بھی شامل کیا گیا ہے۔
پولیس کے مطابق فرانزک رپورٹ میں برآمد ہونے والی اشیا میں کسی دھماکا خیز مواد کی موجودگی نہیں ملی اور نہ ہی آتش گیر مائع کے آثار پائے گئے، تاہم بعض اشیا پر جلے ہوئے مواد سے مطابقت رکھنے والی باقیات کی نشاندہی ہوئی۔
پولیس نے چالان مزید قانونی کارروائی اور عدالتی احکامات کے لیے عدالت میں پیش کردیا ہے۔
گُل پلازہ میں آگ کیسے لگی؟
گُل پلازہ میں آگ 17 جنوری 2026 کی رات کو لگی تھی، جسے مکمل طور پر بجھانے میں تقریباً 2 روز لگے۔آتشزدگی کے نتیجے میں 70 سے زائد افراد جاں بحق ہوئے جبکہ عمارت کے بعض حصے منہدم ہوگئے اور پلازہ کو شدید نقصان پہنچا۔
عدالتی کمیشن کی رپورٹ میں کیا کہا گیا؟
واقعے کی تحقیقات کے لیے سندھ حکومت نے فروری 2026 میں سندھ ہائیکورٹ کے جسٹس آغا فیصل کی سربراہی میں عدالتی کمیشن قائم کیا تھا۔
کمیشن نے اپنی سیل شدہ رپورٹ اور مکمل ریکارڈ اپریل میں محکمہ قانون کو جمع کرایا، جبکہ 78 صفحات پر مشتمل رپورٹ 30 اگست کو منظر عام پر آئی۔ رپورٹ جاری کیے جانے کے وقت اس پر دستخط نہیں تھے۔
عدالتی کمیشن نے آتشزدگی کی ذمہ داری کسی ایک فرد، محکمے یا ادارے پر عائد نہیں کی بلکہ اسے صوبائی اور مقامی حکومتی نظام کی ’’نظامی اور مجموعی ناکامی‘‘ قرار دیا۔
رپورٹ کے مطابق متعلقہ قانونی اور انتظامی طریقہ کار پہلے سے موجود تھے، تاہم ان پر مؤثر انداز میں عمل درآمد نہیں کیا گیا۔
کمیشن نے KMC، فائر بریگیڈ، سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی (SBCA)، ریسکیو 1122، محکمہ سول ڈیفنس، ضلعی انتظامیہ اور دیگر متعلقہ اداروں میں ادارہ جاتی خامیوں کی نشاندہی کی۔
رپورٹ میں کہا گیا کہ اتنے بڑے واقعے سے نمٹنے کے لیے ہنگامی ردعمل کا نظام مناسب تربیت، باہمی رابطے اور ضروری آلات سے پوری طرح لیس نہیں تھا، جبکہ فائر سیفٹی، بلڈنگ کنٹرول اور معائنے سے متعلق موجودہ تقاضوں پر بھی مؤثر عمل درآمد نہیں کیا گیا۔
عدالتی کمیشن کے مطابق بلڈنگ کنٹرول سے متعلق ریکارڈ نامکمل یا غیر واضح تھے اور ماضی کے آڈٹ اور معائنوں کے باوجود اصلاحی اقدامات نہیں کیے گئے۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ باہمی رابطے کے طریقہ کار بڑی حد تک کاغذوں تک محدود رہے۔
کمیشن نے اموات میں اضافے کی وجوہات میں بند راستوں، کھڑکیوں کے مسدود ہونے، مناسب فائر سیفٹی نظام کی عدم موجودگی، معلوم حفاظتی خامیوں کو دور نہ کرنے، آڈٹ رپورٹس پر عمل درآمد نہ ہونے، کمزور ہنگامی امدادی انتظامات اور ریسکیو کارروائی میں تاخیر اور رکاوٹوں کی نشاندہی کی۔
رپورٹ کے مطابق عمارت کی عملاً انتظامیہ چلانے والے افراد، مالکان، قابضین اور تجارتی آپریٹرز پر مادی ذمہ داری عائد ہوتی ہے، تاہم کمیشن نے سانحے کو صرف انہی کی ذمہ داری تک محدود نہیں کیا بلکہ ناکامیوں کو ادارہ جاتی اور کئی سطحوں پر موجود قرار دیا۔
آگ لگنے کی وجہ سے متعلق رپورٹ میں کہا گیا کہ کمیشن کے سامنے پیش کیے گئے شواہد مسلسل اس جانب اشارہ کرتے رہے کہ دکان نمبر 193 میں بچے ماچس کی تیلیوں سے کھیل رہے تھے اور انہیں جلانے سے آگ بھڑکی۔ رپورٹ کے مطابق اس مؤقف کی تصدیق ایس ایس پی ساؤتھ نے بھی کی جبکہ کراچی کمشنر کی جانب سے کی گئی الگ انکوائری میں بھی اسے تقویت ملنے کی اطلاع دی گئی۔
گُل پلازہ مالکان کا مؤقف
3 ستمبر کو گُل پلازہ اونرز ایسوسی ایشن نے کہا تھا کہ سانحے کو 8 ماہ گزرنے کے باوجود پلازہ کی تعمیر نو شروع نہیں ہوسکی۔ایسوسی ایشن نے متاثرہ 850 دکانوں کے مالکان کے لیے 8 ماہ کا کرایہ دینے اور پلازہ کی تعمیر نو کے لیے حکومت کی جانب سے واضح ٹائم لائن مقرر کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔
مالکان کی ایسوسی ایشن کے نمائندوں کا کہنا تھا کہ 850 دکان مالکان کو حکومتی معاوضے سے محروم رکھا گیا اور انہیں کوئی مالی امداد نہیں ملی۔ایسوسی ایشن کے مطابق معاوضے کا انتظام کراچی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (KCCI) کے ذریعے کیا گیا اور رقم بنیادی طور پر کرایہ دار دکانداروں میں تقسیم کی گئی۔
ایسوسی ایشن کا کہنا تھا کہ معاوضے کے لیے 8.5 ارب روپے مختص کیے گئے، جن میں سے 5.35 ارب روپے متاثرین اور کرایہ دار دکانداروں میں تقسیم ہوئے، جبکہ دکان مالکان کو کچھ نہیں ملا۔
گُل پلازہ اونرز ایسوسی ایشن کے جنرل سیکریٹری عارف قادری نے دعویٰ کیا تھا کہ آگ جان بوجھ کر لگائی گئی، تاہم یہ ایسوسی ایشن کا مؤقف ہے اور پولیس کے چالان یا عدالتی کمیشن کی رپورٹ میں اسے ثابت شدہ وجہ قرار نہیں دیا گیا۔
ایسوسی ایشن نے یہ بھی بتایا تھا کہ گُل پلازہ میں 2016 میں بھی آگ لگی تھی جس سے 21 دکانیں تباہ ہوئی تھیں اور ان متاثرہ دکان مالکان کو تاحال معاوضہ نہ ملنے کا دعویٰ کیا گیا۔
ایسوسی ایشن کے چیئرمین محمد اسماعیل نے KCCI کو دکان مالکان کی مؤثر نمائندگی نہ کرنے پر تنقید کا نشانہ بنایا، جبکہ ایسوسی ایشن کے مطابق پلازہ کی تقریباً 1200 دکانوں کے مالکان کو کسی قسم کی مدد نہیں ملی۔
گُل پلازہ اونرز ایسوسی ایشن کے صدر یعقوب سندھ نے دکانوں کی مجموعی مالیت تقریباً 200 ارب روپے بتاتے ہوئے حکومتی معاوضے کے طریقہ کار کو مربوط حکمت عملی سے محروم قرار دیا۔

