کراچی کے معروف کاروباری مرکز گُل پلازہ شاپنگ مال میں آتشزدگی کی تحقیقات کرنے والے عدالتی کمیشن نے سانحے کو بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی، فائر بریگیڈ، سول ڈیفنس اور ضلعی انتظامیہ سمیت متعدد سرکاری اداروں کی مشترکہ غفلت اور نظام کی ناکامی قرار دیا ہے۔
جسٹس آغا فیصل کی سربراہی میں قائم جوڈیشل کمیشن کی 78 صفحات پر مشتمل رپورٹ میں حادثے میں فریقین کی ذمہ داریوں کا تعین کیا گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق گُل پلازہ کو خطرناک عمارت قرار دیے جانے اور فائر سیفٹی قوانین کی مسلسل خلاف ورزیوں کے باوجود عمارت میں تجارتی سرگرمیاں جاری رہیں۔ اور گل پلازہ کی انتظامیہ نے معلوم نقائص دور نہیں کیے، 2024 اور 2025 کی سول ڈیفنس کی رپورٹ میں فائر سیفٹی آلات کی عدم موجودگی پائی گئی۔
رواں سال 17 جنوری کو کراچی کے ایم اے جناح روڈ پر واقع معروف شاپنگ سینٹر گل پلازہ میں آگ لگی تھی، یہ آگ 3 روز تک آگ بھڑکتی رہی ، اس سانحے میں 73 سے زائد لوگ جاں بحق ہوئے تھے جبکہ پلازہ مکمل طور پر جل کر خاکستر ہو گیا تھا۔
گل پلازہ کے سانحے میں تمام افراد بری طرح جھلس گئے تھے ، مرنے والے تمام افراد کی باقیات ملی تھیں ، کوئی بھی لاش صحیح حالت میں نہیں تھی۔
یہ سانحہ کراچی کی حالیہ تاریخ میں تجارتی عمارت میں پیش آنے والی مہلک ترین آتشزدگیوں میں شمار ہوتا ہے۔ سانحے کے بعد سندھ حکومت نے گل پلازہ کے باقی ماندہ ڈھانچے کو منہدم کرنے کا حکم دیا تھا، جبکہ عدالتی کمیشن کی سفارشات پر عملدرآمد کی نگرانی کے لیے اعلیٰ سطح کمیٹی بھی قائم کی گئی تھی۔
کمیشن رپورٹ کے دپیاچے میں جسٹس آغا فیصل نے مصطفی زیدی کا شعر ’’میں کس کے ہاتھ پہ اپنا لہو تلاش کروں، تمام شہر نے پہنے ہوئے ہیں دستانے‘‘ بھی شامل کیا ہے۔
جوڈیشل کمیشن کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سول ڈیفنس کی رپورٹ میں عمارت میں آتش گیر مادے کی موجودگی کی نشاندہی بھی کی گئی تھی، آگ کی اطلاع فائر بریگیڈ کو دینے میں انتہائی غیر دانشمندانہ تاخیر کی گئی، بجلی منقطع کرنے سے اندھیرا ہوا اور بالائی منزلوں سے باہر نکلنے کے امکانات مزید کم ہوئے۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ عمارت میں اسپیکر سسٹم موجود ہونے کے باوجود استعمال نہیں کیا گیا، گل پلازہ کے ریگولرائزڈ پلان میں 1102 دکانیں تھیں لیکن دکانوں کی اصل تعداد 1153 تھی جن میں بڑی مقدار میں آتش گیر سامان موجود تھا۔
رپورٹ کے مطابق فائر بریگیڈ کے اپنے رسپانس کے معیار کے برعکس پہنچنے میں تاخیر ہوئی، عمارت میں تقریباً 35 سے 40 منٹ بعد مؤثر فائر فائٹنگ شروع ہوئی، پانی کی کمی، ری فلنگ نے فائر فائٹنگ اور ریسکیو کام کو متاثر کیا، فائر اسٹیشنز پر پانی ہونے کے دعوے کے باوجود ابتدائی مرحلے پر پانی کی مؤثر فراہمی نہ ہونا اہم انتظامی سوال ہے۔
رپورٹ کے مطابق 2024 اور 2025 میں سامنے آنے والی نقائص کو دور کرنے کے لیے کارروائی نہیں کی گئی، سول ڈیفنس کی ناکامی خطرے سے لاعلمی نہیں، عملدرآمد نہ کروانے کی ناکامی ہے، سندھ بلڈنگ کنڑول اتھارٹی کی شکایت کی بنیاد پر معائنے کے مؤقف سے ذمہ داری سے نہیں بچ سکتا۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اہلکار آگ لگنے کے بعد پہنچے لیکن تب بھی ریسکیو کا مؤثر موقع باقی تھا، سوا گیارہ سے 11 بجکر 20 منٹ تک ریسکیو ممکن تھا، ساڑھے 11 بجے تک ریمپ سے عمارت میں رسائی بھی ممکن تھی لیکن ریسکیو 1122 نے دستیاب وقت کو بڑے پیمانے کے آپریشن میں تبدیل نہیں کیا۔
رپورٹ کے مطابق لوگ صرف آگ سے نہیں، تاخیر، اندھیرے، بند راستوں کے باعث زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھے، بروقت استعمال نہ کیے جانے والے ریسکیو مواقع کے باعث جانی نقصان ہوا، غیر فعال حفاظتی نظام، غیر مؤثر آڈٹ، بکھری ہوئی ادارہ جاتی ذمہ داری بھی جانی نقصان کا باعث بنا۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ قانون کے تحت بجلی تنصیبات اور آلات کا معائنہ باقاعدگی سے ہونا تھا، الیکٹرک انسپکٹر کے بیان کے مطابق گل پلازہ کا کوئی باقاعدہ برقی معائنہ نہیں ہوا، ذمہ داری کسی ایک ادارے یا ایک حکومت تک محدود نہیں، متعدد ادوار میں قانونی اختیارات، آڈٹ کا نظام، بلڈنگ کنٹرول، فائر فائٹنگ اور ایمرجنسی ریسپانس کے ادارے موجود تھے، یہ نظام مجموعی طور پر مؤثر انداز میں کام نہیں کر سکا۔



