اسرائیلی وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے ایران کو ایک بار پھر دھمکی دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ایران نے اسرائیل پر حملہ کیا تو اسرائیل ایران کے توانائی، فوجی اور شہری انفرااسٹرکچر کو نشانہ بنائے گا۔
رائٹرز کے مطابق اسرائیلی وزیر دفاع نے جمعرات کو وزارت دفاع کے ملازمین سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ایرانی حملے کی صورت میں اسرائیل کو ایران پر حملے کی موجودہ تمام پابندیوں سے آزادی حاصل ہوجائے گی۔
ایران کے توانائی مراکز بھی نشانے پر ہوں گے
اسرائیل کاٹز نے کہا کہ ایران کی جانب سے کسی بھی حملے کے جواب میں اسرائیل ایران کے قومی، فوجی اور شہری انفرااسٹرکچر کو شدید نقصان پہنچائے گا، جس میں توانائی کا بنیادی ڈھانچہ بھی شامل ہوگا۔
انہوں نے خبردار کیا کہ اسرائیل ایران کو ’’پتھر کے دور اور تاریکی‘‘ میں واپس پہنچا دے گا، کاٹز کے مطابق اسرائیل دفاعی اور جارحانہ دونوں محاذوں پر مختلف ممکنہ صورتحال کے لیے تیار ہے اور اسرائیلی فوج کارروائی کے لیے تیار ہے۔
خطے میں کشیدگی اچانک دوبارہ بڑھ گئی
اسرائیلی وزیر دفاع کی تازہ دھمکی ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان حالیہ دنوں میں شدید فوجی جھڑپیں ہوئی ہیں۔ رائٹرز کے مطابق رواں ہفتے امریکا اور ایران کے درمیان جولائی کے بعد سب سے بڑا حملوں کا تبادلہ ہوا، جس میں امریکا نے ایران کے جنوبی ساحلی علاقوں کو نشانہ بنایا جبکہ ایران نے خطے میں امریکی فوجی اڈوں پر حملے کیے۔
اسرائیل اس تازہ ترین لڑائی میں براہ راست شامل نہیں ہوا تاہم اسرائیل اور امریکا نے فروری میں ایران کے خلاف مشترکہ فضائی جنگ شروع کی تھی، موجودہ حالات میں اسرائیلی قیادت کی جانب سے ایران کے خلاف دوبارہ کارروائی کی دھمکی نے خطے میں مزید کشیدگی کے خدشات پیدا کر دیے ہیں۔
اسرائیل کو ایرانی حملے کا خدشہ کیوں؟
اسرائیلی وزیر دفاع نے اپنے بیان میں کہا کہ ایران پر موجود شدید معاشی دباؤ، داخلی بے چینی اور حکومت کے خلاف ممکنہ عوامی ردعمل تہران کو ’’مایوس کن اقدامات‘‘ کی طرف دھکیل سکتا ہے، اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ وہ کسی بھی ممکنہ ایرانی حملے کے لیے تیار ہیں۔
دوسری جانب خطے میں جاری کشیدگی کے باعث توانائی کی عالمی منڈی بھی دباؤ کا شکار ہے، رائٹرز کے مطابق 3 ستمبر کو مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور خطے سے تیل کی سپلائی متاثر ہونے کے خدشات کے باعث عالمی سطح پر تیل کی قیمتیں چھ ہفتوں کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں۔
آبنائے ہرمز بھی عالمی تشویش کا مرکز
موجودہ بحران میں آبنائے ہرمز بھی اہمیت اختیار کر گئی ہے۔ رائٹرز کے مطابق ایران نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے مزید بحری جہازوں کو بلیک لسٹ کیا ہے اور پابندی والی فہرست میں شامل جہازوں کی تعداد 56 ہوگئی ہے۔
BIG: Israeli Defense Minister Israel Katz:
If Iran attacks the State of Israel, this will release Israel from any existing restrictions in attacking Iran.
We will strike all national, military, and civilian infrastructures in Iran, including energy infrastructures, and return… pic.twitter.com/u9Rn4K4tj9
— Clash Report (@clashreport) September 3, 2026
آبنائے ہرمز عالمی تیل تجارت کے لیے انتہائی اہم گزرگاہ ہے، اس لیے یہاں کشیدگی بڑھنے سے عالمی توانائی کی سپلائی اور قیمتوں پر براہ راست اثر پڑنے کا خدشہ ہے۔
اس صورتحال میں اسرائیلی وزیر دفاع کی جانب سے ایرانی توانائی اور شہری انفرااسٹرکچر کو براہ راست نشانہ بنانے کی دھمکی خطے میں جاری تنازع کو مزید بڑھا سکتی ہے، خصوصاً ایسے وقت میں جب امریکا اور ایران کے درمیان بھی فوجی کشیدگی دوبارہ شدت اختیار کرچکی ہے۔



