آزاد جموں و کشمیر پولیس نے کالعدم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی (جے اے اے سی) پر حقوق کی تحریک کی آڑ میں تشدد، عوامی زندگی میں خلل ڈالنے اور ریاستی رٹ کو چیلنج کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔
راولاکوٹ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے آزاد کشمیر پولیس کے ترجمان ایس ایس پی خاور علی نے دعویٰ کیا کہ کالعدم کمیٹی سے وابستہ مسلح گروہوں نے پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں پر حملے کیے، جبکہ آزاد کشمیر میں تعلیمی، کاروباری سرگرمیوں، ٹرانسپورٹ کو متاثر کرنے کی کوشش بھی کی گئی۔
انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر کسی تحریک میں مسلح افراد قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں پر حملے کریں تو اسے احتجاج یا حقوق کی تحریک کیسے قرار دیا جاسکتا ہے؟۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ پرامن احتجاج ہر شہری کا بنیادی حق ہے تاہم یہ حق ریاستی اداروں پر حملے، تشدد یا عام شہریوں کی زندگیوں کو خطرے میں ڈالنے کی اجازت نہیں دیتا۔
پولیس ترجمان کے مطابق بلوچ میں ہونے والے تشدد کے دوران رینجرز کا ایک اہلکار جاں بحق ہوا، جبکہ جھڑپوں میں آزاد کشمیر پولیس کے متعدد اہلکار بھی زخمی ہوئے۔
انہوں نے الزام عائد کیا کہ مسلح گروہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کو نشانہ بنانے کے ساتھ نوجوانوں کو تعلیمی اداروں سے دور رہنے پر بھی اکسا رہے ہیں۔ ان کے مطابق اسکولوں کے بائیکاٹ، سڑکیں بند کرنے اور کاروباری مراکز بند رکھنے کی اپیلیں بھی کی گئیں۔
ایس ایس پی خاور علی نے دعویٰ کیا کہ ایسی سرگرمیوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ کالعدم ایکشن کمیٹی خطے کے امن کو نقصان پہنچانے، ریاست کا تشخص متاثر کرنے اور بدامنی پیدا کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ریاست نے کافی تحمل کا مظاہرہ کیا، تاہم مسلح گروہوں کو شہریوں کو یرغمال بنانے یا طویل عرصے تک ریاستی اختیار کو چیلنج کرنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔پولیس ترجمان نے کہا کہ امن و امان بحال کرنا اور ریاست کی رٹ قائم رکھنا حکومت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی ذمہ داری ہے۔
ملزمان سے اسلحہ برآمد کرنے کا دعویٰ
ایس ایس پی خاور علی نے حالیہ تشدد کے واقعات کی تحقیقات کے دوران جمع کیے گئے شواہد بھی پیش کیے۔
انہوں نے بتایا کہ امن برقرار رکھنے کے لیے مختلف مقامات پر چیکنگ مزید سخت کی گئی اور پولیس و سیکیورٹی فورسز پر حملوں میں مبینہ طور پر ملوث افراد کو گرفتار کیا گیا۔
پولیس ترجمان کے مطابق بعض گرفتار افراد سے اسلحہ بھی برآمد ہوا، جبکہ موبائل فونز کی فرانزک جانچ کے دوران مبینہ طور پر ایسی ویڈیوز سامنے آئیں جن میں مسلح گروہوں، قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں پر حملوں اور احتجاجی اجتماعات کے مناظر موجود تھے۔
انہوں نے سدھنوتی کے رہائشی نوجوان عبداللہ کی گرفتاری کا بھی ذکر کیا، جسے ان کے مطابق معمول کی چیکنگ کے دوران حراست میں لیا گیا۔پولیس ترجمان نے دعویٰ کیا کہ عبداللہ کے موبائل فون سے ملنے والی تصاویر اور ویڈیوز میں کالعدم ایکشن کمیٹی کے دھرنوں میں مسلح افراد کی موجودگی دکھائی دیتی ہے۔
پریس کانفرنس کے دوران پولیس کی جانب سے ملزم کا ایک بیان بھی جاری کیا گیا، جس میں عبداللہ نے بتایا کہ وہ منگ کا طالب علم ہے اور اس کے موبائل فون میں موجود بعض تصاویر اور ویڈیوز اس نے دوستوں کے ہمراہ کالعدم ایکشن کمیٹی کے دھرنوں کے دوران بنائی تھیں۔بیان کے مطابق دھرنوں میں مسلح افراد بھی موجود تھے اور موبائل فون میں موجود بعض مواد میں لوگوں کو ہتھیار اٹھائے دیکھا جاسکتا ہے۔
پولیس ترجمان نے اس مواد کو اس الزام کے ثبوت کے طور پر پیش کیا کہ احتجاجی تحریک کے اندر یا اس کے ساتھ مسلح عناصر سرگرم تھے۔تاہم پولیس کی جانب سے پیش کیے گئے الزامات اور برآمد شدہ مواد کی تشریح کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہوسکی۔
تعلیمی سرگرمیاں بھی متاثر
ایس ایس پی خاور علی نے مزید الزام عائد کیا کہ کالعدم ایکشن کمیٹی تقریباً تین ماہ سے نوجوانوں کو اسکولوں کے بائیکاٹ اور تعلیم سے دور رہنے کی ترغیب دے رہی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ عوامی حقوق کی نمائندگی کا دعویٰ کرنے والی کسی تحریک کی جانب سے بچوں کو اسکولوں سے دور رکھنے کی کوشش سوال اٹھاتی ہے۔
جاری احتجاج کے باعث تعلیمی سرگرمیاں بھی متاثر ہوئی ہیں۔ جون میں آزاد جموں و کشمیر بورڈ آف انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن میرپور نے کالعدم ایکشن کمیٹی کی جانب سے دی گئی لاک ڈاؤن کال کے باعث پیدا ہونے والی صورتحال کے بعد خطے بھر میں انٹرمیڈیٹ کے امتحانات ملتوی کردیے تھے۔
پرتشدد عناصر کو کھلا نہیں چھوڑا جائے گا
ایس ایس پی خاور علی نے خبردار کیا کہ قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں پر حملوں اور ریاستی اختیار کو چیلنج کرنے میں ملوث افراد کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔ان کا کہنا تھا کہ امن اور ترقی برقرار رکھنے کے لیے ریاست پرتشدد اور انتشار پھیلانے والے عناصر کو آزادانہ سرگرمیوں کی اجازت نہیں دے سکتی۔
پولیس ترجمان نے عوام، بالخصوص والدین سے اپیل کی کہ وہ نوجوانوں کو پرتشدد سرگرمیوں سے دور رکھیں۔



