نوجوان تاجر میر رضا قتل کیس کی تحقیقات کے لیے قائم جوڈیشل کمیشن نے پہلی سماعت کا تحریری حکم نامہ جاری کر دیا۔
تحریری حکم نامے کے مطابق کیس سے متعلق معلومات حاصل کرنے کے لیے اخبارات میں اشتہار شائع کیا جائے گا، معلومات فراہم کرنے والے شخص کو ایک لاکھ روپے انعام دیا جائے گا، اس کا نام اور شناخت راز میں رکھی جائے گی جبکہ سندھ ہائیکورٹ کی آئی ٹی ٹیم کا فراہم کردہ واٹس ایپ نمبر اور ای میل ایڈریس بھی اشتہار میں شائع کیا جائے گا۔
واضح رہے کہ گزشتہ روز جسٹس عمر سیال پر مشتمل ایک رکنی جوڈیشل کمیشن نے کراچی کے 26 سالہ نوجوان تاجر میر رضا کی موت کی وجوہات جاننے کے لیے پہلی سماعت کی تھی۔ کمیشن کے سامنے میر رضا کے والدین اور وکیل جبران ناصر پیش ہوئے تھے۔
سندھ کابینہ نے ایک ہفتہ قبل میر رضا قتل کے واقعے کی تحقیقات کے لیے جوڈیشل کمیشن تشکیل دینے کی منظوری دیتے ہوئے کہا تھا کہ کمیشن قیام کے 30 دن میں اپنی رپورٹ، نتائج اور سفارشات صوبائی حکومت کو پیش کرے گا۔
جوڈیشل کمیشن نے اپنے تحریری حکم نامے میں کہا ہے کہ جائے وقوع کے قریب بھی نوٹسز چسپاں کیے جائیں گے تاکہ کیس سے متعلق معلومات رکھنے والے افراد کمیشن سے رابطہ کرسکیں۔
حکم نامے میں حکومت سندھ کو ہدایت کی گئی ہے کہ کیس سے منسلک پولیس افسران اور ڈاکٹرز کی فہرست کمیشن کو فراہم کی جائے۔ کمیشن نے مقدمے کی کاپی، میمو، بیانات اور میڈیکل رپورٹس سمیت کیس سے متعلق تمام اہم دستاویزات بھی طلب کر لی ہیں۔
جوڈیشل کمیشن نے ہدایت کی ہے کہ دستاویزات کی ٹائپ شدہ نقول کے ساتھ اصل ہاتھ سے لکھی گئی رپورٹس بھی فراہم کی جائیں۔ ڈیجیٹل شواہد کو دکھانے کے لئیے کمیشن کے روم میں ایکیوپمنٹ رجسٹرار نے پہلے ہی فراہم کر دئیے ہیں۔
کمیشن نے لاش کی اطلاع دینے والے نرسری ملازمین یاسر اور قیصر کو آئندہ اجلاس میں پیش ہونے کے لیے نوٹس جاری کر دیئے ہیں۔
لاش کو جناح اسپتال منتقل کرنے کے لیے پہنچنے والے دو پولیس اہلکاروں اور گلستانِ جوہر کی پولیس موبائل یونٹ کو بھی آئندہ سماعت کے لیے نوٹس جاری کر دیا گیا ہے۔
جوڈیشل کمیشن کی اگلی سماعت یکم ستمبر کو صبح 11 بجے ہو گی، جس میں کیس سے متعلق طلب کی گئی دستاویزات، شواہد اور متعلقہ افراد کے بیانات کا جائزہ لیا جائے گا۔



