نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ مسئلہ کشمیر تقریباً 8 دہائیوں سے حل طلب ہے اور اس کا پائیدار حل طاقت کے بجائے مذاکرات، سفارت کاری اور بین الاقوامی قانون کے مطابق تنازع کی بنیادی وجوہات کے حل میں ہے۔
وہ نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے موقع پر او آئی سی کے جموں و کشمیر رابطہ گروپ کے وزارتی اجلاس سے خطاب کر رہے تھے۔
اسحاق ڈار نے مزید کہا کہ کشمیری عوام تقریباً 8 دہائیوں سے عالمی برادری کے اس وعدے کے منتظر ہیں کہ انہیں اقوام متحدہ کی نگرانی میں آزادانہ اور غیرجانبدارانہ استصواب رائے کے ذریعے اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے کا حق دیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ 5 اگست 2019 کے بعد بھارت کی جانب سے کیے گئے یکطرفہ اقدامات کا مقصد مقبوضہ جموں و کشمیر کی آبادی، سیاسی اور ثقافتی شناخت تبدیل کرنا ہے۔
اسحاق ڈار نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں سیاسی اور شہری آزادیوں کو محدود کیا گیا ہے اور کشمیری رہنماؤں، کارکنوں، صحافیوں اور نوجوانوں کو سخت قوانین کے تحت گرفتاری، تشدد اور مبینہ طور پر انتقامی کارروائیوں کا سامنا ہے۔
Video of the remarks by the Deputy Prime Minister/Foreign Minister Senator Mohammad Ishaq Dar @MIshaqDar50 at the Ministerial Meeting of the OIC Contact Group on Jammu and Kashmir, on the sidelines of the 81st Session of the UN General Assembly in New York. pic.twitter.com/bwzNScL5fr
— Ministry of Foreign Affairs – Pakistan (@ForeignOfficePk) September 23, 2026
ان کے مطابق سیاسی تنظیموں پر پابندیاں عائد کی گئیں اور اختلاف رائے کو جرم قرار دیا گیا، جبکہ ڈومیسائل اور اراضی قوانین میں تبدیلی، انتخابی حلقہ بندیوں میں ردوبدل اور انتخابی فہرستوں میں غیر کشمیریوں کے نام شامل کرنے جیسے اقدامات سے مقبوضہ علاقے کی صورتحال تبدیل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
وزیر خارجہ نے کہا کہ میڈیا کی آزادی بھی محدود کی گئی ہے، صحافیوں کو دھمکیوں، نگرانی اور گرفتاریوں کا سامنا ہے جبکہ سوشل میڈیا اکاؤنٹس بلاک کیے گئے اور غیر ملکی میڈیا اور آزاد مبصرین کی مقبوضہ کشمیر تک رسائی محدود رکھی گئی۔
انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کے خصوصی طریقہ کار کے تحت 16 اکتوبر 2025 کو جاری مشترکہ مراسلے میں بھی ان خدشات کی نشاندہی کی گئی تھی۔ اس کے مطابق تقریباً 2 ہزار 800 افراد، جن میں صحافی اور انسانی حقوق کے کارکن بھی شامل تھے، کی گرفتاری و حراست، گھروں کی مسماری اور تقریباً 8 ہزار سوشل میڈیا اکاؤنٹس بلاک کیے جانے کا ذکر کیا گیا تھا۔
اسحاق ڈار نے کہا کہ یہ واقعات الگ الگ نوعیت کے نہیں بلکہ مجموعی طور پر ایک ایسی صورتحال کی عکاسی کرتے ہیں جس میں ایک قوم کو خاموش کرنے، اس کے وطن کی شناخت تبدیل کرنے اور حق خودارادیت کے حصول کی راہ محدود کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
انہوں نے مئی 2025 میں پاکستان اور بھارت کے درمیان ہونے والی فوجی کشیدگی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس واقعے نے ایک مرتبہ پھر ظاہر کیا کہ مسئلہ کشمیر کو حل نہ کرنے کے کیا نتائج سامنے آسکتے ہیں۔
“مئی 2025 کے خطرناک تصادم سے حاصل ہونے والے سبق کو فراموش نہیں کیا جانا چاہیے۔ جوہری ہتھیاروں کی حامل دو ریاستیں ایک ایسے تنازعے پر براہِ راست عسکری تصادم کا شکار ہوئیں جو تقریباً 8 دہائیوں سے حل طلب چلا آ رہا ہے۔ جنوبی ایشیا ہو یا مشرقِ وسطیٰ، عسکری طاقت دیرینہ سیاسی تنازعات کا حل پیش نہیں کر سکتی۔ بین الاقوامی قوانین کے مطابق بات چیت، سفارت کاری اور تنازعات کی بنیادی وجوہات کا منصفانہ حل ہی آگے بڑھنے کا واحد پائیدار راستہ ہے۔”
اسحاق ڈار نے کہا کہ سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل کرنے کی بھارتی کوشش نے صورتحال میں ایک اور خطرناک پہلو پیدا کردیا ہے۔ ان کے مطابق یہ ایک باقاعدہ بین الاقوامی معاہدہ ہے جس میں کسی ایک فریق کو اسے یکطرفہ طور پر معطل کرنے کی اجازت نہیں۔
وزیر خارجہ نے کہا کہ جموں و کشمیر کا تنازع اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ایجنڈے پر موجود ایک تسلیم شدہ بین الاقوامی تنازع ہے اور کوئی ملکی قانون، عدالتی فیصلہ، انتخابی عمل یا آبادی میں تبدیلی کشمیری عوام کے حق خودارادیت کا متبادل نہیں ہوسکتی۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان اقوام متحدہ کی متعلقہ سلامتی کونسل کی قراردادوں اور کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق مسئلے کے منصفانہ اور پرامن حل کے لیے پرعزم ہے اور کشمیری عوام کے حق کے حصول تک ان کی حمایت جاری رکھے گا۔
اسحاق ڈار نے او آئی سی اور اس کے رکن ممالک پر زور دیا کہ اقوام متحدہ اور دیگر عالمی فورمز پر مسئلہ کشمیر کے حوالے سے متحدہ مؤقف برقرار رکھا جائے اور سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں پر عملدرآمد کے لیے سفارتی کوششیں تیز کی جائیں۔
انہوں نے او آئی سی سے یہ بھی مطالبہ کیا کہ بھارت سے 5 اگست 2019 کے بعد کیے گئے اقدامات واپس لینے، آبادی میں تبدیلی کی کوششیں روکنے، کشمیریوں کی سیاسی، مذہبی اور ثقافتی شناخت کے خلاف اقدامات ختم کرنے اور سیاسی قیدیوں سمیت غیرقانونی طور پر زیرحراست افراد کی رہائی کا مطالبہ کیا جائے۔


