راولپنڈی اور اسلام آباد میں دوسرے روز بھی موسلادھار بارش ہوئی جس کے باعث تمام اداروں کو ہائی الرٹ رہنے کی ہدایت کر دی گئی۔
جڑواں شہروں میں بدھ کو بھی موسلادھار بارش ہوئی جس سے کئی نشیبی علاقوں میں پانی جمع ہو گیا۔ نالہ لئی میں کٹاریاں کے مقام پر پانی کی سطح 11 فٹ پر پہنچ گئی۔
راولپنڈی اور اسلام آباد میں اوسط بارش 16 ملی میٹر ریکارڈ کی گئی، سید پور میں 45، ایچ ایٹ میں 30 ، نیوکٹاریاں 12، پیرودھائی 4 اور شمس آباد میں 2 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔
بارش کے بعد ڈپٹی کمشنر راولپنڈی نے تمام اداروں کو ہائی الرٹ رہنے ہدایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ شہر میں رین ایمرجنسی نافذ ہے۔
منگل کو بھی راولپنڈی میں 230 ملی میٹر بارش کے بعد گلیاں اور سڑکیں ندی نالوں میں تبدیل ہو گئی تھیں، نشیبی علاقوں میں پانی گھروں میں داخل ہو گیا تھا۔ جبکہ کئی گاڑیاں بھی پانی میں ڈوب گئی تھیں۔ جڑواں شہروں میں کئی مقامات پر ٹریفک کا نظام بھی درہم برہم ہو گیا تھا۔
راولپنڈی میں گھر میں کرنٹ لگنے کے نتیجے میں اور اسلام آباد میں چھت گرنے سے 2 افراد جاں بحق ہو گئے تھے۔
واسا حکام کے مطابق نالہ لئی میں پانی کے بہاؤ کو مانیٹر کیا جا رہا ہے ۔ کٹاریاں میں پانی کا بہاؤ 5 فٹ، گوالمنڈی میں 3 فٹ ہے۔ کسی بھی ممکنہ صورتحال سے نمٹنے کے لیے نشیبی علاقوں میں عملہ ہیوی مشینری کے ساتھ موجود ہے۔
ایم ڈی واسا کا کہنا ہے کہ راولپنڈی میں نکاسی آب اورمتاثرہ علاقوں میں بحالی کا کام مکمل کر دیا گیا ہے، نالہ لئی میں طغیانی سے متاثرہ پشتوں کی بحالی کا کام جلد شروع کیا جائے گا۔
گزشتہ روزنالہ لئی میں پانی کی سطح 28.5 فٹ جبکہ گوالمنڈی میں 23 فٹ تک بلند ہونے پر انتظامیہ نے اطراف کی آبادیوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنے کی ہدایت کی تھی ، اس کے علاوہ راول ڈیم میں پانی کی سطح 1751.90 فٹ تک بلند ہونے کے بعد اسپیل ویز کھول دیئے گئے تھے۔
راولپنڈی کی انتظامیہ نے رین ایمرجنسی نافذ کرتے ہوئے اسکولوں میں تعطیل کا اعلان کر دیا تھا۔ جبکہ اسلام آباد کے متعدد اسکول بھی بند کرکے آن لائن کلاسز کا انتظام کیا گیا۔



