امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان نے کہا ہے کہ پنجاب میں حقیقی کام کچھ نہیں، نمائشی اقدامات زیادہ ہیں۔
لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمان کا کہنا تھا کہ انتظامیہ اپنے ہتھکنڈوں سے باز نہیں آ رہی، لیاقت باغ میں جلسے کی اجازت نہیں دی جا رہی۔ کارکن تالے توڑ کر اندر جانے کو تیار ہیں، ہم نے روکا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ انتظامیہ نے اپنا رویہ نہ بدلا تو ذمہ دار یہ لوگ خود ہوں گے، لیاقت باغ میں جلسے کی اجازت نہ دی تو راولپنڈی اور اسلام آباد میں سڑکوں پر دھرنا دیں گے۔
حافظ نعیم نے کہا کہ حکومت اگر سمجھتی ہے کہ طاقت کے ذریعے جماعت اسلامی کے دھرنے ختم کر دے گی تو زور بازو آزما کر دیکھ لے۔
امیر جماعت اسلامی کا کہنا تھا کہ ملک میں امن و امان کا معاملہ بگڑتا جا رہا ہے، دہشتگردی کے واقعات میں تیزی آتی جا رہی ہے ، برین ڈرین بڑھ گیا ہے، جماعت اسلامی عوام میں شعور پیدا کرنے میں کامیاب ہوتی جا رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ انکم ٹیکس صرف تنخواہ دار طبقے سے وصول کیا جا رہا ہے، ٹیکسوں کی بھرمار سے غریب آدمی پس رہا ہے، ہر شعبے میں کرپشن ہی نظر آ رہی ہے۔
حافظ نعیم نے کہا کہ جو لوگ ٹیکس نہیں دے رہے، ان سے ٹیکس لیں، حکومت ٹیکس صرف عام عوام سے ہی وصول کرتی ہے ، حکومت کی جانب سے مسلسل عوام دشمن فیصلے کیے جا رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ حکومت اپنے خرچے کم کیوں نہیں کرتی ، افسران اور وزرا بڑی بڑی گاڑیوں میں گھومتے ہیں، لیوی کم نہیں کر سکتے تو اپنی عیاشیاں ختم کیوں نہیں کرتے۔
امیر جماعت اسلامی نے مزید کہا کہ زینب واقعے پر درندہ صفت لوگوں کو چوک چوراہوں پر پھانسی کی تجویز دی تھی، سہیل آفریدی ہری پور میں بچی کے گھر گئے اور روئے، پولیس اصلاحات کیوں نہیں ہوئیں؟۔



