اسلام آباد: فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے 16 اعلیٰ افسران کے پاس دہری شہریت یا بیرون ملک مستقل سکونتی کارڈز ہونے کا انکشاف ہوا ہے، جبکہ مقررہ مدت گزرنے کے باوجود متعدد افسران نے اپنی غیرملکی شہریت سے متعلق تفصیلات جمع نہیں کرائیں۔
ہم انویسٹی گیشن ٹیم کو موصول دستاویزات کے مطابق ایف بی آر کے تمام افسران کو 8 جولائی تک اپنی دہری شہریت یا غیرملکی مستقل رہائش سے متعلق معلومات جمع کرانے کا حکم دیا گیا تھا، تاہم پانچ ماہ گزرنے کے باوجود متعدد افسران نے مطلوبہ ڈیکلریشن جمع نہیں کرایا۔
دستاویزات کے مطابق یکم جون کو اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کے جاری کردہ ایس آر او کے تحت تمام سرکاری افسران کو اپنی غیرملکی شہریت، گرین کارڈ یا مستقل رہائش سے متعلق ڈیکلریشن جمع کرانے کا پابند کیا گیا تھا۔
رولز 2026 کے تحت تمام سرکاری افسران اپنی غیرملکی شہریت ظاہر کرنے کے پابند ہیں۔ غلط معلومات فراہم کرنا یا مطلوبہ ڈیکلریشن جمع نہ کرانا سول سرونٹس (ایفی شنسی اینڈ ڈسپلن) رولز 2020 کے تحت مس کنڈکٹ تصور کیا جاتا ہے۔

دستاویزات کے مطابق غیرملکی شہریت یا مستقل رہائش رکھنے والے 16 افسران میں ان لینڈ ریونیو سروسز کے 10 اور پاکستان کسٹمز سروس کے 6 افسران شامل ہیں۔ گریڈ 20 کے دس افسران کے پاس دہری شہریت اور گرین کارڈز رکھنے کا انکشاف ہوا۔ جبکہ گریڈ 19 کے پانچ افسران کے پاس دہری شہریت موجود ہے۔

گریڈ 21 کے افسر سجاد اعظم دہری شہریت رکھتے ہیں اور پاکستان کسٹم سروس کی زہرہ حیدر بھی دہری شہریت کی حامل ہیں۔ گریڈ 20 کی طیبہ بخاری اور گریڈ 17 کی فروا بتول کے پاس دہری شہریت ہونے کا انکشاف ہو اہے۔
دہری شہریت رکھنے والے افسران میں جمشید تالپور، سلمی شاہین، ارم شبیر، شازیہ میمن، آمنہ فیض، نعیم بابر اور اسفندیار جنجوعہ شامل ہیں۔ مسعود ہمایوں، باسط حسین اور مصباح کھٹانہ کے پاس بھی دہری شہریت ہے۔


