واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو ناکام ریاست قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کے پاس اب کوئی بحریہ، فضائیہ یا کرنسی باقی نہیں رہی۔
غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو پھر نشانے پر رکھتے ہوئے کہا کہ ایران اپنی فوج اور پولیس کے اہلکاروں کو تنخواہیں ادا کرنے کے قابل نہیں۔
ایران میں مہنگائی پر تبصرہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایران میں مہنگائی کی شرح 300 فیصد تک پہنچ چکی ہے۔
ایرانی قیادت کو بھی شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایران کی قیادت بدحواسی کا شکار ہے اور ملک کی مؤثر نمائندگی کرنے میں ناکام ہوچکی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ایران کو اس وقت سنگین معاشی اور انتظامی مشکلات کا سامنا ہے، جس کے باعث ملک کی مجموعی صورتحال انتہائی خراب ہوچکی ہے۔
ایران کے ساتھ مذاکرات کی امید ظاہر کرتے ہوئے امریکی صدر نے کہا کہ ایران کے ساتھ ممکنہ مذاکرات کی ذرا سی امید اب بھی باقی ہے اور ایران والے ملاقات کے لیے بےتاب ہیں۔ معلوم نہیں ایران کے ساتھ کسی معاہدے پر بھروسہ کیا جا سکتا ہے یا نہیں۔ تاہم ایران پر معاشی پابندیاں بہت سخت اثر انداز ہو رہی ہیں۔
حملے سے متعلق انہوں نے کہا کہ ہم ایران پر زوردار حملہ کریں گے اور ایران کے خلاف جوابی کارروائی لازمی کی جائے گی۔ امریکی افواج نے ایرانی میزائل کو ڈیفنس سسٹم سے گزرنے دیا کیونکہ مذکورہ میزائل کسی چیز سے ٹکرانے والا نہیں تھا اور ایران کے باقی تمام میزائلوں کو فضا ہی میں تباہ کر دیا گیا۔
گزشتہ روز ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے خلیجی ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ اپنے حقیقی دشمنوں کے منصوبوں کو سمجھیں اور اس کا مقابلہ کریں۔
ان کا کہنا تھا کہ خلیجی ممالک کے حکمرانوں کو چاہیے کہ وہ اپنے حقیقی دشمن کی شناخت کریں، دشمنوں کے خلاف اتحاد، باہمی دفاع اور مسلم ممالک کے درمیان تعاون انتہائی اہم ہے۔
مجتبیٰ خامنہ ای کا کہنا تھا کہ مسلمانوں کے درمیان اختلافات ان کے مخالفین کے مفادات کو تقویت دیتے ہیں، جو کوئی مسلم ممالک میں تقسیم پیدا کرتا ہے، وہ جان بوجھ کر یا نادانستہ طور پر اسلام کے دشمنوں کی مدد کرتا ہے۔



