امریکا میں مس یو ایس اے 2026 کا تاج 31 سالہ جسٹس کیلی نے اپنے نام کرلیا، وہ اس مقابلے کی تاریخ میں پہلی شادی شدہ خاتون اور بچوں کی ماں ہیں جو یہ اعزاز حاصل کرنے میں کامیاب ہوئی ہیں۔
31 سالہ جسٹس کیلی نے جمعے کو ٹیلی ویژن پر نشر ہونے والی تقریب میں مقابلہ جیتا۔ گزشتہ برس کی مس یو ایس اے آڈری ایکرٹ نے انہیں تاج پہنایا۔جسٹس کیلی مس یو ایس اے مقابلے کی تاریخ میں تاج جیتنے والی سب سے عمر رسیدہ فاتح بھی ہیں۔
واضح رہے چند برس قبل تک جسٹس کیلی جیسی امیدوار کا مس یو ایس اے مقابلے میں حصہ لینا ممکن نہیں تھا۔ اس وقت مقابلے کے قواعد کے تحت شادی شدہ خواتین اور بچوں والی امیدواروں کو مقابلے میں شرکت کی اجازت نہیں تھی۔ اس کے علاوہ امیدواروں کے لیے عمر کی بھی سخت حد مقرر تھی اور صرف 18 سے 28 سال تک کی خواتین مقابلے میں حصہ لے سکتی تھیں۔
View this post on Instagram
تاہم مس یو ایس اے کے قواعد میں تبدیلیاں کی گئیں۔ 2023 میں شادی شدہ خواتین اور ماؤں کو مقابلے میں شرکت سے روکنے والے قواعد ختم کیے گئے، جبکہ 2024 میں عمر کی حد بھی ختم کردی گئی۔
جسٹس کیلی نے گزشتہ ہفتے بھی اس وقت توجہ حاصل کی جب انہیں ایئرپورٹ پر اپنا سامان کچرے کے تھیلے میں لے جاتے ہوئے دیکھا گیا۔ بعد ازاں انہوں نے وضاحت کی کہ کچرے کے تھیلے میں سامان رکھنے کا مقصد ان متعدد فوسٹر بچوں کو خراج عقیدت پیش کرنا تھا جو ان کی زندگی کا حصہ رہے اور اپنے سامان کے ساتھ اسی طرح کچرے کے تھیلے لے کر آتے تھے۔
جسٹس کیلی نے فوسٹر فٹ پرنٹس نامی تنظیم بھی قائم کر رکھی ہے، جس کے ذریعے وہ اپنے علاقے کے فوسٹر کیئر نظام سے وابستہ نوجوانوں کو بااختیار بنانے کے لیے کام کرتی ہیں۔
ماضی کا منفرد واقعہ:
مس یو ایس اے مقابلے کی تاریخ میں اس سے قبل 1957 میں میری لیونا گیج نے یہ تاج حاصل کیا تھا۔ بعد میں انکشاف ہوا کہ وہ شادی شدہ تھیں اور ان کے دو بچے بھی تھے۔ اس انکشاف کے بعد ان سے مس یو ایس اے کا ٹائٹل واپس لے لیا گیا تھا۔
مس یو ایس اے 2026 کا تاج جیتنے کے بعد جسٹس کیلی اب امریکا کی نمائندگی کرتے ہوئے رواں سال کے آخر میں پورٹو ریکو جائیں گی، جہاں 24 نومبرکو اگلی مس یونیورس کا انتخاب ہوگا۔
مس یونیورس کے عالمی مقابلے میں جسٹس کیلی کا مقابلہ دنیا بھر سے آنے والی امیدواروں سے ہوگا، جن میں پاکستان کی نمائندہ مصباح ارشد بھی شامل ہیں۔ مصباح ارشد کو 19 اگست کو پاکستان کی نمائندگی کے لیے منتخب کیا گیا تھا۔


