جوڈیشل کمیشن نے میررضا کیس کی تحقيقات کا آغاز کر دیا،سربراہ جوڈیشل کمیشن جسٹس عمر سیال سماعت کررہے ہیں۔
میر رضا کے وکیل اور والدین جوڈیشل کمیشن کےسامنے پیش ہوئے اس موقع پرجسٹس عمرسیال کا کہنا تھا کہ میرایہ پہلا جوڈیشل کمیشن ہے، متاثرین سے تعزیت کرتاہوں،میری کوشش ہوگی کہ میررضا کے والدین کے درد میں کمی ہو۔
جسٹس عمر سیال نے کہا کہ کمیشن کی کوشش ہوگی آپ کے تمام سوالات کے جوابات ملیں، سرجن، تفتیش، کیس سے متعلق شواہد اور تفصیلات معلوم کی جائیں گی،ہم پر بھروسہ رکھیں، میری رائے میں کمیشن کو پبلک کیا جانا چاہیے۔کیس کی تفتیشی ٹیم معاملے پر کام کر رہی ہے۔
اس موقع پر میر رضا کے والد کا کہنا تھا کہ ہمیں تفتیشی ٹیم کی جانب سےکچھ تحفظات ہیں،29دن گزر چکے ہیں، کوئی پیش رفت دکھائی نہیں دے رہی،سربراہ کمیشن جسٹس عمر سیال نے کہا کہ مرتضیٰ بھٹو قتل کیس کا بھی کمیشن بنا تھا، یہ مقدمہ صرف میر رضا کا نہیں، ہر اس شخص کا ہے جو انصاف کا متلاشی ہے۔
اداروں کی عزت کرنا ہم سب پرفرض ہے، کسی ایک دو برے لوگوں کی موجودگی سے پورےادارے برے نہیں ہوجاتے، یہاں اچھےادارےاورقابل لوگ موجود ہیں جوانصاف کیلئےکام کررہےہیں۔ میں آپ سے کہتا ہوں بدنیتی نہیں ہوگی آپ کوہم پراعتماد ہے۔
وکیل میر حسین نے کہا کہ ہمیں تفتیش پراورتفتیش کرنیوالوں پرسوالات تھےاب تفتیش درست انداز میں چل رہی ہے۔جسٹس عمرسیال نے کہا کہ ہم ایک موبائل نمبرجاری کررہےہیں عوام کیلئےجہاں کوئی بھی شہری اس کیس کی معلومات کمیشن سےشئیرکرسکتا ہے۔اہم معلومات میں مدد فراہم کرنیوالےکو1لاکھ روپےانعام دیا جائیگا۔
جسٹس عمرسیال نے ہدایت کی کہ اردوانگریزی اخبارات میں اس حوالےسےاشتہاردیا جائے،جہاں سےلاش ملی ہےاس علاقہ میں بھی یہ نوٹس چسپاں کیےجائیں۔
وکیل جبران ناصرنے کمیشن کوآگاہ کیا کہ جومیررضا کےدوست احتجاج کررہےتھےانھیں گرفتارکرلیا گیا۔کمیشن سربراہ نے اعتراض کیا کہ اس میں ہم کیا کرسکتےہیں۔پہلےتین روزقتل سےپہلےکیا ہوا؟
وکیل جبران ناصر نے بتایا کہ 28جولائی کو 4بجکر38 علی الصبح آتےجاتےدیکھا جاسکتاہے۔29جولائی کو11بجکر45منٹ صبح لاش ملی تھی جسےاسپتال منتقل کردیا گیا،12:25دوپہرکو دوپولیس اہلکارموٹرسائیکل پرلاش کودیکھنےآئے۔
نرسری کےملازم یاسراورقیصرنےلاش کی اطلاع دی،والدین نےاسپتال میں جاکرشناخت کیا،ایدھی ایمبولینس نےلاش کوجناح اسپتال منتقل کیا جہاں اسکا پوسٹ مارٹم والد کی موجودگی میں کیا گیا۔
پولیس سرجن ڈاکٹراسامہ شیخ نے پوسٹ مارٹم کیا۔28تاریخ کو3:15دوپہرمیررضاکی گمشدگی کی ایف آئی آرکاٹی گئی۔صرف جب لاش ملی اس وقت کی سی سی ٹی وی اہل خانہ کودکھائی گئی پہلےاوربعد کی ویڈیو اب تک فراہم نہیں کی گئی۔
جسٹس عمرسیال نے کہا کہ پہلےمرحلےمیں ہم ان تین دنوں کی معلومات حاصل کریں گے۔والد والدہ اوروکیل اس متعلق کمیشن کو معلومات دیں،اگلی سماعت منگل صبح 11بجےدوبارہ ہوگی۔
میر رضا علی کی ہلاکت کا معاملہ کیا ہے؟
میر رضا علی آئی بی اے کے گریجویٹ اور کاروباری شخصیت تھے۔ وہ 28 جولائی کو لاپتا ہوئے تھے جبکہ اگلے روز 29 جولائی کو ان کی لاش کراچی کے علاقے گلستان جوہر میں جھاڑیوں سے ملی تھی۔
ابتدائی تحقیقات میں معاملے کو خودکشی کے زاویے سے دیکھا گیا، تاہم میر رضا کے والدین نے ابتدا ہی سے اس امکان کو مسترد کرتے ہوئے اپنے بیٹے کے قتل کا مؤقف اختیار کیا۔
اہلخانہ نے تحقیقات، فرانزک شواہد، میڈیکو لیگل معائنے، سی سی ٹی وی فوٹیج اور ڈیجیٹل شواہد کی ہینڈلنگ پر سوالات اٹھائے، جس کے بعد پولیس نے نئی تحقیقاتی ٹیم تشکیل دی۔
نئی پولیس ٹیم کی سربراہی ڈی آئی جی امیر فاروقی کو سونپی گئی۔ ٹیم نے اہلخانہ سے ملاقات کرکے سابقہ تحقیقات کا ریکارڈ بھی حاصل کیا۔ ابتدا میں خاندان نے نئی تحقیقاتی ٹیم کا خیرمقدم کرتے ہوئے اس پر اعتماد کا اظہار کیا تھا، جس کے بعد سندھ حکومت نے جوڈیشل انکوائری کے سابقہ منصوبے کو مؤخر کردیا تھا۔
تاہم حکومت کی جانب سے دوبارہ جوڈیشل کمیشن بنانے کے فیصلے نے معاملے کو ایک مرتبہ پھر متنازع بنا دیا ہے۔ اہلخانہ کا کہنا ہے کہ انہوں نے جوڈیشل کمیشن نہیں بلکہ جے آئی ٹی کا مطالبہ کیا تھا۔




