جسٹس عمر سیال پر مشتمل ایک رکنی جوڈیشل کمیشن نے کراچی کے 26 سالہ نوجوان تاجر میر رضا کی موت کی وجوہات جاننے کے لیے پہلی سماعت کی۔
میر رضا کے وکیل جبران ناصر اور والدین جوڈیشل کمیشن کے سامنے پیش ہوئے۔
سماعت کے آغاز پر موقع پرجسٹس عمرسیال کا کہنا تھا کہ میرایہ پہلا جوڈیشل کمیشن ہے، متاثرین سے تعزیت کرتا ہوں، میری کوشش ہوگی کہ میررضا کے والدین کے درد میں کمی ہو۔
جسٹس عمر سیال نے مزید کہا کہ کمیشن کی کوشش ہوگی آپ کے تمام سوالات کے جوابات ملیں، سرجن، تفتیش، کیس سے متعلق شواہد اور تفصیلات معلوم کی جائیں گی، ہم پر بھروسہ رکھیں، میری رائے میں کمیشن کو پبلک کیا جانا چاہیے، کیس کی تفتیشی ٹیم معاملے پر کام کر رہی ہے۔
اس موقع پر میر رضا کے والد کا کہنا تھا کہ ہمیں تفتیشی ٹیم پر کچھ تحفظات ہیں،29 دن گزر چکے ہیں، کوئی پیش رفت دکھائی نہیں دے رہی۔ جس پر سربراہ کمیشن جسٹس عمر سیال نے کہا کہ مرتضیٰ بھٹو قتل کیس کا بھی کمیشن بنا تھا، یہ مقدمہ صرف میر رضا کا نہیں، ہر اس شخص کا ہے جو انصاف کا متلاشی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اداروں کی عزت کرنا ہم سب پرفرض ہے، کسی ایک دو برے لوگوں کی موجودگی سے پورےادارے برے نہیں ہوجاتے، یہاں اچھے ادارےاورقابل لوگ موجود ہیں جوانصاف کیلئے کام کررہے ہیں۔
وکیل میر حسین جبران ناصر نے کہا کہ ہمارے تفتیش پراورتفتیش کرنے والوں سے متعلق کچھ سوالات تھے، اب تفتیش درست انداز میں چل رہی ہے۔
جسٹس عمرسیال نے کہا کہ ہم عوام کے لیے ایک موبائل نمبرجاری کررہےہیں، جس پر کوئی بھی شہری اس کیس کی معلومات کمیشن سے شئیرکرسکتا ہے، اہم معلومات میں مدد فراہم کرنے والے کو ایک لاکھ روپےانعام دیا جائے گا۔
جسٹس عمرسیال نے ہدایت کی کہ اردوانگریزی اخبارات میں اس حوالےسےاشتہاردیا جائے،جہاں سےلاش ملی ہےاس علاقہ میں بھی یہ نوٹس چسپاں کیےجائیں۔
وکیل جبران ناصرنے کمیشن کوآگاہ کیا کہ جومیررضا کےدوست احتجاج کررہےتھےانھیں گرفتارکرلیا گیا۔
جس پر کمیشن سربراہ نے اعتراض کیا کہ اس میں ہم کیا کرسکتےہیں۔
جسٹس عمر سیال نے دریافت کیا کہ قتل سے دو تین روز قبل کیا ہوا تھا؟
جس پر وکیل جبران ناصر نے بتایا کہ 28جولائی کو 4بجکر38 علی الصبح آتےجاتےدیکھا جاسکتاہے۔29جولائی کو11بجکر45منٹ صبح لاش ملی تھی جسےاسپتال منتقل کردیا گیا،12:25دوپہرکو دوپولیس اہلکارموٹرسائیکل پرلاش کودیکھنےآئے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ نرسری کےملازم یاسراورقیصرنےلاش کی اطلاع دی،والدین نےاسپتال میں جاکرشناخت کیا،ایدھی ایمبولینس نےلاش کوجناح اسپتال منتقل کیا جہاں اسکا پوسٹ مارٹم والد کی موجودگی میں کیا گیا۔
جبران ناصر نے بتایا کہ پولیس سرجن ڈاکٹراسامہ شیخ نے پوسٹ مارٹم کیا۔28تاریخ کو3:15دوپہرمیررضاکی گمشدگی کی ایف آئی آرکاٹی گئی۔صرف جب لاش ملی اس وقت کی سی سی ٹی وی اہل خانہ کودکھائی گئی پہلےاوربعد کی ویڈیو اب تک فراہم نہیں کی گئی۔
جسٹس عمرسیال نے کہا کہ پہلےمرحلےمیں ہم ان تین دنوں کی معلومات حاصل کریں گے۔والد والدہ اوروکیل اس متعلق کمیشن کو معلومات دیں،اگلی سماعت منگل صبح 11بجےدوبارہ ہوگی۔
جوڈیشل کمیشن کے ممبران و عملے کا نوٹیفکیشن جاری
محکمہ داخلہ سندھ نے میر رضا کیس کے جوڈیشل کمیشن کے ممبران و عملے کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا، نوٹیفکیشن کے مطابق عبدالماجد کو میر رضا کیس انکوائری کمیشن کا رجسٹرار تعینات کر دیا گیا،محمد امجد اور نادر علی جوڈیشل کمیشن کے سیکریٹری ہونگے۔
نوٹیفکیشن کے مطابق سلیم ناصر ریسرچ آفیسر ،ذیشان سعید سیکیورٹی ایڈمنسٹریٹر تعینات کئے گئے ہیں ، معظم لائبریرین اور فیصل وسیم کو کورٹ اٹینڈنٹ کی ذمہ داری سونپ دی گئی،رب نواز کو بیلف اور عبدالقیوم کو فراش کے عہدے پر تعینات کر دیا گیا۔
میر رضا علی کی ہلاکت کا معاملہ کیا ہے؟
26 سالہ میر رضا علی آئی بی اے کے گریجویٹ اور کاروباری شخصیت تھے۔ وہ 28 جولائی کو لاپتا ہوئے تھے جبکہ اگلے روز 29 جولائی کو ان کی لاش کراچی کے علاقے گلستان جوہر میں جھاڑیوں سے ملی تھی۔
ابتدائی تحقیقات میں معاملے کو خودکشی کے زاویے سے دیکھا گیا، تاہم میر رضا کے والدین نے ابتدا ہی سے اس امکان کو مسترد کرتے ہوئے اپنے بیٹے کے قتل کا مؤقف اختیار کیا۔
اہلخانہ نے تحقیقات، فرانزک شواہد، میڈیکو لیگل معائنے، سی سی ٹی وی فوٹیج اور ڈیجیٹل شواہد کی ہینڈلنگ پر سوالات اٹھائے، جس کے بعد پولیس نے نئی تحقیقاتی ٹیم تشکیل دی۔
نئی پولیس ٹیم کی سربراہی ڈی آئی جی امیر فاروقی کو سونپی گئی۔ ٹیم نے اہلخانہ سے ملاقات کرکے سابقہ تحقیقات کا ریکارڈ بھی حاصل کیا۔ ابتدا میں خاندان نے نئی تحقیقاتی ٹیم کا خیرمقدم کرتے ہوئے اس پر اعتماد کا اظہار کیا تھا، جس کے بعد سندھ حکومت نے جوڈیشل انکوائری کے سابقہ منصوبے کو مؤخر کردیا تھا۔
تاہم حکومت کی جانب سے دوبارہ جوڈیشل کمیشن بنانے کے فیصلے نے معاملے کو ایک مرتبہ پھر متنازع بنا دیا ہے۔ اہلخانہ کا کہنا ہے کہ انہوں نے جوڈیشل کمیشن نہیں بلکہ جے آئی ٹی کا مطالبہ کیا تھا۔




