کراچی پولیس چیف نے ڈیفنس ہاؤسنگ اتھارٹی (ڈی ایچ اے) فیز 6 خیابان بخاری میں اپارٹمنٹ کے دو رہائشیوں کے درمیان حالیہ جھگڑے اور معاملے میں پولیس اہلکاروں کی مبینہ شمولیت اور بدسلوکی پر 3 روز میں رپورٹ طلب کرلی۔
گزشتہ دنوں واقعے کی سی سی ٹی وی فوٹیج سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد اتوار کو کراچی کے ایڈیشنل انسپکٹر جنرل (اے آئی جی) آزاد خان نے واقعے کی مکمل اور غیر جانب دارانہ تحقیقات کا حکم دیا۔
پولیس بیان کے مطابق اے آئی جی نے ساؤتھ کے ڈپٹی انسپکٹر جنرل (ڈی آئی جی) کو ہدایت کی کہ وہ 3 روز کے اندر رپورٹ پیش کریں۔
انہوں نے معاملے میں پولیس اہلکاروں کی مبینہ بدسلوکی کے حوالے سے حقائق پر مبنی رپورٹ بھی طلب کی۔
بیان کے مطابق اے آئی جی نے ہدایت کی کہ کیس کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لیا جائے اور واقعے میں ملوث افراد کی نشاندہی کی جائے۔
واضح رہے کہ کراچی کے علاقے ڈیفنس خیابانِ بخاری کی ایک رہائشی عمارت میں خواتین کے جھگڑے کی ویڈیو گزشتہ دنوں سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی تھی۔
وائرل سی سی ٹی وی فوٹیج میں دیکھا جاسکتا ہے کہ دو پولیس اہلکاروں کی موجودگی میں ایک خاتون ڈمبل سے دوسری خاتون کو تشدد کا نشانہ بناتی ہے جبکہ اس وقت تشدد کا شکار خاتون کا بھائی بھی موقع پر موجود ہے۔
بعد ازاں ایک اور سی سی ٹی وی فوٹیج بھی منظر عام پر آئی جس میں پولیس اہلکار مبینہ طور پر متاثرہ خاتون کے بھائی کو گھسیٹتے ہوئے لے جاتے دکھائی دے رہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق یہ واقعے 9 دن قبل پیش آیا تھا جو گزشہ روز سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو وائرل ہونے کے بعد منظر عام پر آیا۔
مذکورہ واقعے کی مزید مصدقہ تفصیلات تاحال دستیاب نہیں ہیں کہ جھگڑا کیوں ہوا اور پولیس کا اس معاملے سے کیا تعلق ہے۔
