اسلام آباد: حکومت نے بانی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) عمران خان سے متعلق بعض غیر ملکی میڈیا اداروں کی جانب سے نشر کی جانے والی رپورٹس کو گمراہ کن اور منظم منفی پروپیگنڈا قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا۔
وزارت اطلاعات و نشریات کے کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق بانی پی ٹی آئی عمران خان کسی انتظامی حراست میں نہیں بلکہ مجاز عدالتوں کی جانب سے عدالتی کارروائی کے بعد سنائی گئی سزاؤں کے نتیجے میں قید ہیں اور انہیں پاکستانی قانون کے تحت دستیاب تمام قانونی چارہ جوئی کا حق حاصل ہے۔
حکومت نے عمران خان کو مبینہ طور پر قید تنہائی، تشدد یا بنیادی سہولیات سے محروم رکھنے کے الزامات کو بھی مسترد کرتے ہوئے کہا کہ انہیں جیل قوانین، عدالتی احکامات اور سیکیورٹی انتظامات کے مطابق ملاقات، ٹیلی فون، مطالعے کا مواد اور ٹیلی ویژن کی سہولت حاصل ہے۔ انہیں گھر کا پکا ہوا کھانا، ورزش کا سامان اور مناسب غذائی سہولیات بھی فراہم کی جاتی ہیں۔
سرکاری مؤقف کے مطابق عمران خان کو سات سیلز پر مشتمل علیحدہ کمپاؤنڈ دیا گیا ہے، جہاں سونے، صفائی اور ورزش کی سہولیات موجود ہیں۔ جبکہ انہیں الگ سے تیار کیا گیا کھانا بھی فراہم کیا جاتا ہے، جس میں گوشت، چکن، پھل، دودھ، خشک میوہ جات، جوس اور بوتل کا پانی شامل ہیں۔
حکومت کے مطابق عمران خان کو اہل خانہ سے ملاقات نہ کرانے کا دعویٰ بھی غلط ہے۔ قید کے دوران تقریباً 198 ملاقاتوں کے سیشنز ریکارڈ ہوئے، جن میں 900 سے زائد افراد نے ملاقات کی۔ ملاقات کرنے والوں میں ان کی بہنیں، اہل خانہ، وکلا، ڈاکٹرز، سیاسی نمائندگان اور دیگر منظور شدہ افراد شامل ہیں۔ اہلیہ سے ہفتہ وار ملاقاتوں کی اجازت بھی دی گئی، جبکہ تازہ ترین ملاقات 4 اگست 2026 کو کرائی گئی ہے۔
سرکاری ریکارڈ کے مطابق پاکستان اور بیرون ملک موجود اہل خانہ سے ٹیلی فون، لینڈ لائن اور واٹس ایپ کے ذریعے رابطہ بھی کرایا جاتا رہا ہے۔ جبکہ 21 مارچ 2026 کو قیدی کی اپنے ایک بیٹے سے ٹیلی فون پر گفتگو بھی کرائی گئی۔ اس کے علاوہ 18، 19 اور 25 اگست کو بہنوں سے ملاقاتیں ہوئیں۔
حکومت نے طبی سہولیات سے متعلق الزامات بھی مسترد کرتے ہوئے کہا کہ قید کے دوران بانی پی ٹی آئی کے تقریباً 30 طبی معائنے ماہرین اور میڈیکل بورڈز نے کیے۔ جن میں پمز، شفا انٹرنیشنل، شوکت خانم اور الشفا ٹرسٹ آئی اسپتال کے ماہرین شامل رہے۔
حکام کے مطابق آنکھ کے پردے سے متعلق بیماری کی تشخیص کے بعد عمران خان کو ماہرین کی نگرانی میں علاج فراہم کیا گیا، جس میں اینٹی وی ای جی ایف کے 5 انجیکشن، ریٹینل امیجنگ، ادویات اور فالو اَپ معائنے شامل ہیں۔
حکومت نے عمران خان کی ہمشیرہ ڈاکٹر عظمیٰ نیازی کے حالیہ میڈیا بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اپنے بھائی کو سو فیصد تندرست قرار دیا۔ بلڈ پریشر نارمل اور آنکھ کو بھی بہتر قرار دیا۔
وزارت اطلاعات کے مطابق سپریم کورٹ کے احکامات پر بھی مکمل عملدرآمد کیا گیا اور قیدی کا عدالتی ہدایات کے مطابق طبی معائنہ کرایا گیا، جس کے دوران ان کی بہن بھی موجود تھیں۔
Taking notice of certain misleading stories being pushed through few foreign media outlets with respect to a certain convicted prisoner, it is felt appropriate to bring on record the response already shared in this regard with the concerned outlets publicly; not only for…
— Ministry of Information & Broadcasting (@MoIB_Official) August 29, 2026
حکومت نے کہا کہ سپریم کورٹ نے مزید کارروائی تک عمران خان کے اہل خانہ، سیاسی جماعت کے ارکان اور متعلقہ وکلا کو اس کی صحت یا میڈیکل رپورٹس میڈیا یا عوام کے ساتھ شیئر کرنے سے روکا۔ طبی معاملات کو سیاسی مہم یا عوامی پیغام رسانی کا ذریعہ بنانے کے بجائے کلینیکل ریکارڈ اور عدالتی ہدایات کی بنیاد پر دیکھنے کا حکم دیا۔
حکومت نے مزید واضح کیا کہ جیل میں عمران خان تک رسائی کو سیاسی سرگرمی یا جیل سے بلا روک ٹوک سیاسی رابطوں کا ذریعہ نہیں بنایا جاسکتا۔ جیل قوانین، عدالتی احکامات اور سیکیورٹی تقاضوں کے مطابق ملاقاتوں اور رابطوں کی مناسب پابندی کو قیدی سے مکمل رابطہ منقطع کرنے کے مترادف نہیں کہا جا سکتا۔
عمران خان کے بیٹوں کے پاکستان آکر والد سے ملاقات نہ کرانے سے متعلق رپورٹس پر حکومت نے کہا کہ دونوں کے پاس اوورسیز پاکستانی شناختی کارڈ (این آئی سی او پی) موجود ہیں، جو پاکستان میں داخلے کے لیے تسلیم شدہ سفری دستاویز ہے۔ ان کے پاکستان آنے کی صلاحیت کو جیل میں ملاقات کے الگ معاملے سے منسلک نہیں کیا جانا چاہیے۔
حکومت نے غیر ملکی میڈیا اداروں پر زور دیا ہے کہ آئندہ رپورٹنگ میں دستاویزی حقائق کو مدنظر رکھا جائے اور تصدیق شدہ جیل و طبی ریکارڈ کو سیاسی طور پر متنازع الزامات سے الگ رکھا جائے۔



