سابق وزیراعظم اور پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کی سابق اہلیہ جمائما گولڈ اسمتھ نے برطانوی وزیراعظم اینڈی برنہم اور وزیر خارجہ ایڈ ملی بینڈ سے سوال کیا ہے کہ وہ کب تک عمران خان کے ساتھ روا رکھے جانے والے سلوک پر خاموش رہیں گے؟
جمائما نے پیر کو سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پرایک بیان میں دعویٰ کیا کہ عمران خان کو طویل عرصے سے قید تنہائی میں رکھا گیا ہے اور انہیں اہل خانہ سے باقاعدہ رابطے کی اجازت بھی نہیں دی جا رہی۔
جمائما گولڈ اسمتھ نے کہا کہ ’’تین سال سے میرے دو بیٹوں کے والد اور پاکستان کے سابق وزیراعظم عمران خان کو ان کے سیاسی مخالفین کی جانب سے سخت سزائیں دی جا رہی ہیں۔‘‘
انہوں نے مزید الزام عائد کیا کہ عمران خان کی حراست کے حالات تشدد کے مترادف ہیں اور اس سے ان کی جسمانی و ذہنی صحت پر سنگین اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ عمران خان تین سال سے قید تنہائی میں ہیں جبکہ تقریباً 10 ماہ سے انہیں اہل خانہ سے ملاقات، کتابوں، وکلا اور ڈاکٹروں تک رسائی سے بھی محروم رکھا گیا ہے۔
جمائما نے اقوام متحدہ کے ‘نیلسن منڈیلا رولز‘ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ مسلسل 15 دنوں سے زیادہ قید تنہائی ممنوع ہے اور یہ تشدد کے زمرے میں آتی ہے۔
انہوں نے عمران خان کے طبی علاج اور اہل خانہ سے ملاقات کے حوالے سے سپریم کورٹ کے حالیہ احکامات کا بھی حوالہ دیا اور الزام لگایا کہ ان احکامات پر عملدرآمد نہیں کیا جا رہا۔
جمائما کے مطابق سپریم کورٹ نے عمران خان کو جامع طبی سہولیات، ان کے ذاتی ڈاکٹر تک رسائی، اہل خانہ سے باقاعدہ ملاقات اور بیٹوں سے ہفتے میں دو مرتبہ ٹیلی فون پر بات کرنے کا حکم دیا تھا۔
سابق وزیراعظم کو گزشتہ ہفتے طبی معائنے کے لیے مختصر مدت کے لیے پمز اسپتال منتقل کیا گیا تھا، جہاں سے انہیں دوبارہ اڈیالہ جیل منتقل کر دیا گیا۔
اس پر ان کے اہل خانہ اور وکلا نے اعتراض کیا، کیونکہ عدالتی حکم کے تحت انہیں اسلام آباد کے شفا انٹرنیشنل اسپتال منتقل کیا جانا تھا۔
جمائما نے کہا کہ اب اس معاملے کو محض پاکستانی سیاسی مسئلہ قرار نہیں دیا جا سکتا بلکہ یہ ’انسانی حقوق کی سنگین صورتحال‘ بن چکا ہے۔
انہوں نے اپنی طویل ٹوئٹ میں عمران خان کے برطانیہ سے دیرینہ تعلقات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے آکسفورڈ یونیورسٹی سے تعلیم حاصل کی، آکسفورڈ یونیورسٹی کی کرکٹ ٹیم کی کپتانی کی اورانگلینڈ میں کاؤنٹی کرکٹ بھی کھیلی۔
انہوں نے پاکستان میں عمران خان کی فلاحی خدمات، بشمول کینسر اسپتال اور یونیورسٹی کے قیام کا بھی حوالہ دیا۔
جمائما نے کہا کہ عمران خان سے ان کے دونوں بیٹے سلیمان اور قاسم برطانوی شہری ہیں اور وہ اپنے والد سے ملاقات نہیں کر سکے۔
انہوں نے الزام عائد کیا کہ انہیں ویزے دینے سے انکار کیا گیا، پاکستانی حکومتی عہدیداروں کی جانب سے گرفتاری کی دھمکیاں دی گئیں اورعدالتی حکم کے باوجود انہیں عمران خان سے باقاعدہ ٹیلی فونک رابطے کی اجازت نہیں دی گئی۔
جمائما نے کہا کہ وہ متعدد مرتبہ برطانوی حکومت سے مداخلت کی اپیل کر چکی ہیں، تاہم پس پردہ سفارتی کوششیں ’واضح طور پر ناکام‘ ہو چکی ہیں۔
عمران خان ڈیل نہیں کریں گے ، اسپتال منتقلی پر توہین عدالت کرنے والوں کو سزا دی جائے ، بیرسٹر گوہر
انہوں نے برطانوی دفتر خارجہ سے مطالبہ کیا کہ وہ کھل کر پاکستان سے سپریم کورٹ کے احکامات پرعملدرآمد کا مطالبہ کرے۔
جمائما نے عمران خان کے طبی سہولیات اور اہل خانہ سے رابطے کی بحالی، طویل قید تنہائی کے خاتمے اور ان کے بنیادی حقوق کے احترام پر زور دیا۔
انہوں نے کہا کہ ’پاکستان دولت مشترکہ کا رکن ملک ہے‘ اور برطانیہ کی طویل روایت رہی ہے کہ وہ من مانے حراستی اقدامات، غیر انسانی سلوک اور بنیادی حقوق سے محرومی کی مخالفت کرتا ہے۔
جمائما نے برطانوی وزیراعظم اینڈی برنہم کی حکومت سے اپیل کی کہ وہ ’درست اقدام‘ کرتے ہوئے عمران خان کے ساتھ روا رکھے جانے والے سلوک پر آواز اٹھائے۔
خیال رہے کہ سپریم کورٹ نے بانی پاکستان تحریک انصاف عمران خان کا الشفا انٹرنیشنل اسپتال میں طبی معائنہ کرانے کا حکم دیا تھا تاہم حکومت نے انہیں چیک اپ کے لیے پمز اسپتال منتقل کیا، جہاں ان کی آنکھوں سمیت دیگر طبی معائنے کیے گئے۔
اسپتال کے میڈیکل بورڈ نے بانی پی ٹی آئی کو مکمل فٹ قرار دیا، جس کے بعد انہیں دوبارہ اڈیالہ جیل منتقل کردیا گیا، طبی معائنے کے دوران عمران خان کی بہن کو بھی اسپتال لایا گیا۔
بانی پی ٹی آئی کے طبی معائنے پر تحریک انصاف کے مرکزی رہنمائوں نے حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے الزام عائد کیا کہ الشفا اسپتال منتقل نہ کرکے توہین عدالت کی گئی۔
دوسری جانب حکومت کا مؤقف ہے کہ تحریک انصاف نے عدالتی احکامات کی خلاف ورزی کی کیونکہ سپریم کورٹ نے اسپتال کے باہر لوگوں کے اجتماع اور نعرے بازی سے منع کیا تھا۔
وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا تارڑ نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ پی ٹی آئی نے سیاست اور بیان بازی سے عدالتی حکم کی خلاف ورزی کی۔
وزیر اطلاعات نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان کے علاج سے متعلق عدالتی حکم پر انتظامیہ نے آئین و قانون کے مطابق مکمل عملدرآمد کیا تاہم تحریک انصاف کی جانب سے اس معاملے پر جھوٹا پروپیگنڈا کیا جارہا ہے۔
عطا تارڑ نے کہا کہ حکومت کے مؤقف میں کسی قسم کی تبدیلی نہیں آئی، صحت کے معاملے پر سیاست نہیں ہونی چاہیے اور آئندہ بھی اس معاملے پر کوئی سیاست نہیں کی جائے گی۔
