امریکا نے ایران سے متعلق مزید پابندیوں کا اعلان کر دیا، جن میں ایران کے بینک ملی سے منسلک ایک فرد اور ہانگ کانگ میں قائم ایک کمپنی کو نشانہ بنایا گیا ہے۔
ترک خبر رساں ادارے انادولو کے مطابق امریکی محکمہ خزانہ نے دبئی میں مقیم ایرانی شہری رضا محمد تائیدی کو پابندیوں کی فہرست میں شامل کیا ہے۔ تائیدی ایران کے بینک ملی کی دبئی شاخ کے جنرل منیجر ہیں۔
یہ اقدام امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ کے اس اعلان کے بعد سامنے آیا ہے، جس میں انہوں نے دنیا بھر میں موجود ایران کے عالمی مالیاتی روابط کیخلاف بڑے پیمانے پر اقتصادی کارروائی شروع کرنے کا عندیہ دیا تھا۔
امریکی حکام کے مطابق رضا محمد تائیدی نے بینک ملی کی جانب سے یا اس کے مفاد میں کام کیا، جس کی بنیاد پر انہیں امریکی محکمہ خزانہ کے دفتر برائے غیر ملکی اثاثہ جات کنٹرول کی خصوصی طور پر نامزد افراد کی فہرست میں شامل کیا گیا ہے۔
امریکی محکمہ خزانہ کا کہنا ہے کہ ایران کا بینک ملی ایسے مالی لین دین میں سہولت فراہم کرتا رہا ہے جن میں ایسی رقوم بھی شامل ہیں جو ایران کی اسلامی انقلابی گارڈز کی قدس فورس کے زیر کنٹرول اکاؤنٹس کے ذریعے منتقل کی گئیں اور عراق میں ایران سے منسلک گروہوں اور شراکت داروں کی معاونت کے لیے استعمال ہوئیں۔
امریکی محکمہ خزانہ کے مطابق نئی پابندیاں ایران کے عالمی مالیاتی روابط کے خلاف جاری اقتصادی کارروائی کا حصہ ہیں۔
دوسری جانب ایران نے امریکا کی نئی اقتصادی پابندیوں کو ریاستی دہشتگردی اور انسانیت کے خلاف جرم قرار دے دیا ہے۔
ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا کہ امریکی پابندیوں میں شرکت غیر قانونی امریکی اقدامات میں معاونت کے مترادف ہے۔ انہوں نے تمام ممالک پر زور دیا کہ وہ ایران کے خلاف امریکی پابندیوں پر عمل درآمد سے گریز کریں۔
اسماعیل بقائی کا کہنا تھا کہ نئی امریکی پابندیاں لاکھوں ایرانی شہریوں کی صحت اور روزگار کے لیے سنگین خطرہ ہیں، ڈالر کو بطور دباؤ کے آلے کے طور پر استعمال کرنا دیگر ممالک کی خودمختاری کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ اقوام متحدہ کی مبینہ بے حسی نے عالمی سطح پر لاقانونیت اور جرائم کو فروغ دیا ہے۔



