امریکی موسیقی کی معروف گلوکارہ، اداکارہ اور ’کوئن آف کنٹری‘ ڈولی پارٹن 80 برس کی عمر میں انتقال کر گئیں۔ ان کے اہل خانہ نے ان کی موت کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ ڈولی پارٹن مختصر عرصے سے کینسر کے مرض سے لڑ رہی تھیں اور اپنے پیاروں کی موجودگی میں دنیا سے رخصت ہوئیں۔
ڈولی پارٹن کے بھتیجے برائن سیور نے ایکس پر ایک ویڈیو کے ذریعے خاندان کی جانب سے ان کی موت کی خبر دی۔ ان کا کہنا تھا کہ ڈولی پارٹن نے کئی برس قبل ان سے کہا تھا کہ مستقبل میں جب یہ لمحہ آئے تو وہ خود ان کی وفات کا اعلان کریں۔
A message from the family of Dolly Parton. pic.twitter.com/9DNRgRx0uH
— Dolly Parton (@DollyParton) August 25, 2026
برائن سیور کے مطابق وہ دو دہائیوں سے زائد عرصے تک ڈولی پارٹن کے سیکیورٹی سربراہ رہے، جبکہ اس سے قبل یہ ذمہ داری ان کے والد لیری کے پاس تھی۔
ڈولی پارٹن کی ٹیم نے بھی ان کی خدمات اور ورثے کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اپنی پوری زندگی اور فن کے ذریعے لوگوں میں خوشی، قہقہے، امید اور دیانت داری پیدا کی۔ ٹیم کے مطابق ان کی بے مثال سخاوت نے ایسے بے شمار لوگوں کی زندگیاں متاثر کیں جن سے وہ کبھی ملی بھی نہیں تھیں۔
ڈولی پارٹن کی وفات کے بعد صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک ہفتے کے لیے پورے امریکا میں قومی پرچم سرنگوں رکھنے کا حکم دیا، جبکہ شوبز کی دنیا کی متعدد معروف شخصیات نے بھی ان کی وفات پر تعزیت کا اظہار کیا۔
ڈولی پارٹن نے مئی میں لاس ویگاس میں ہونے والا اپنا ایک شو منسوخ کیا تھا اور بتایا تھا کہ وہ کئی برس سے گردے کی پتھری کے علاج سے گزر رہی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ چند برسوں کے دوران ان کا مدافعتی اور نظامِ ہاضمہ متاثر ہوا، جس کی بحالی اور مضبوطی کے لیے علاج جاری تھا۔
Global icon and humanitarian, Dolly Parton, known to the world as a beloved singer, songwriter, philanthropist, actress, playwright, and author died peacefully today in Nashville, Tennessee. She was 80 years old.
Dolly is preceded in death by her beloved husband of 59 years… pic.twitter.com/sBdu2Ssof9
— Dolly Parton (@DollyParton) August 25, 2026
اپنے شوہر کارل ڈین کے مارچ 2025 میں انتقال کے بعد ڈولی پارٹن نے کہا تھا کہ وہ اب بھی غم سے گزر رہی ہیں، تاہم وہ کام جاری رکھنا چاہتی ہیں۔ دونوں کی شادی 1966 میں ہوئی تھی اور کارل ڈین نے ہمیشہ اپنی عالمی شہرت یافتہ اہلیہ کو مرکزی توجہ میں رہنے دیا۔
کیریئر پر ایک نظر
چھ دہائیوں سے زائد عرصے پر محیط کیریئر کے دوران ڈولی پارٹن نے 10 کروڑ سے زیادہ ریکارڈ فروخت کیے اور 11 گریمی ایوارڈز جیتے۔ وہ موسیقی کے ساتھ ساتھ ہالی ووڈ میں بھی کامیاب رہیں اور ’9 ٹو 5‘، ’اسٹیل میگنولیاز‘ اور ’دی بیسٹ لٹل وِر ہاؤس اِن ٹیکساس‘ جیسی فلموں میں اداکاری کی۔ ’9 ٹو 5‘ کا گانا بھی انہوں نے خود لکھا اور گایا تھا۔
ڈولی پارٹن اپنی منفرد شخصیت، سنہرے بالوں، میک اپ اور مخصوص انداز کے لیے بھی مشہور رہیں۔ اپنی ظاہری شخصیت کے بارے میں سوالات کا جواب وہ اکثر مزاحیہ انداز میں دیتی تھیں۔ ان کا مشہور جملہ تھا، ’اس قدر سستا نظر آنے میں بہت پیسہ خرچ ہوتا ہے۔‘
وہ ایک کامیاب کاروباری شخصیت بھی تھیں اور ان کی دولت کا تخمینہ 65 کروڑ ڈالر لگایا گیا۔ ان کے کاروباری منصوبوں میں ٹینیسی میں قائم ڈولی وڈ تھیم پارک بھی شامل تھا۔ 1986 میں اپنے آبائی علاقے کے قریب قائم کیے گئے اس پارک میں رولر کوسٹرز، عقابوں کی پناہ گاہ، موسیقی اور مقامی اپالاچین ثقافت سے متعلق سرگرمیاں شامل ہیں۔
پیدائش اور تعلیم
ڈولی پارٹن کی پیدائش 19 جنوری 1946 کو مشرقی ٹینیسی کے شہر سیویئر وِل کے قریب لٹل پیجن ریور کے کنارے ایک کمرے کے گھر میں ہوئی۔ وہ 12 بہن بھائیوں میں چوتھے نمبر پر تھیں۔ ان کے والد رابرٹ لی پارٹن پڑھ لکھ نہیں سکتے تھے اور کھیتی باڑی کے ساتھ تعمیراتی کام کر کے خاندان کی آمدنی میں اضافہ کرتے تھے، جبکہ والدہ ایوی لی پارٹن گھر سنبھالتی اور روایتی اپالاچین گیت گاتی تھیں۔
ڈولی پارٹن نے چرچ میں گانا شروع کیا اور 13 برس کی عمر تک مقامی ریڈیو اور ٹیلی ویژن پروگراموں میں پرفارم کرنے لگیں۔ اسی دوران انہوں نے گرینڈ اول اوپری میں بھی پہلی بار پرفارم کیا، جہاں ان کی ملاقات جانی کیش سے ہوئی۔
1964 میں ہائی اسکول سے گریجویشن کے اگلے روز وہ نیش وِل پہنچیں۔ ابتدا میں انہوں نے دوسرے فنکاروں کے لیے گیت لکھ کر شہرت حاصل کی۔ 1967 میں ان کا پہلا ریکارڈ ’ہیلو، آئی ایم ڈولی‘ جاری ہوا، جس کے بعد پورٹر ویگنر کی توجہ ان کی جانب مبذول ہوئی۔
1974 میں ’جولین‘ نے انہیں بطور سولو فنکار نمایاں مقام دلایا۔ اس کے بعد ان کے کئی گیت کنٹری میوزک چارٹس پر سرفہرست رہے۔ ان کا گیت ’آئی وِل آلویز لو یو‘ بعد میں وٹنی ہیوسٹن کے لیے بھی ایک بڑی کامیابی ثابت ہوا۔
فلاحی خدمات
ڈولی پارٹن کی فلاحی خدمات بھی ان کے ورثے کا اہم حصہ ہیں۔ انہوں نے ڈولی وڈ فاؤنڈیشن قائم کی اور ’امیجینیشن لائبریری‘ کے ذریعے بچوں کو مفت کتابیں فراہم کرنے کا منصوبہ شروع کیا۔ گزشتہ تین دہائیوں میں اس پروگرام کے تحت امریکا سمیت مختلف ممالک کے بچوں کو 30 کروڑ سے زیادہ کتابیں بھیجی جا چکی ہیں۔
یہ منصوبہ ڈولی پارٹن کے والد کی ناخواندگی سے متاثر تھا۔ وہ اپنے والد کی ذہانت اور کردار کی ہمیشہ تعریف کرتی تھیں اور سمجھتی تھیں کہ پڑھنے لکھنے سے محرومی نے انہیں زندگی میں پیچھے رکھا۔
ڈولی پارٹن نے 2020 میں وینڈربلٹ یونیورسٹی میں کورونا وائرس کی تحقیق کے لیے 10 لاکھ ڈالر عطیہ کیے تھے، جس تحقیق نے بعد میں موڈرنا کی کووڈ ویکسین کی تیاری میں کردار ادا کیا۔
ڈولی پارٹن اور کارل ڈین کی کوئی اولاد نہیں تھی۔ ڈولی پارٹن کے مطابق ان کے بچے نہ ہونے نے انہیں کام کے لیے آزادی فراہم کی۔ وہ اپنی آخری عمر تک موسیقی، فلم، کاروبار اور فلاحی سرگرمیوں سے وابستہ رہیں اور اپنے آبائی علاقے مشرقی ٹینیسی سے جڑی رہیں۔



