ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے اسلامی ممالک میں باہمی سیکیورٹی اور عدم جارحیت کے معاہدے کی تجویز دے دی۔
تہران میں 40ویں بین الاقوامی اسلامی وحدت کانفرنس کے افتتاحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے مسلم ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ اپنی سرزمین کو کسی دوسرے اسلامی ملک کے خلاف حملوں کے لیے استعمال نہ ہونے دیں۔
چار روزہ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ایرانی صدر نے کہا کہ ایران کا دفاعی مؤقف کسی مسلم ملک یا ہمسایہ ریاست کے خلاف دشمنی پر مبنی نہیں، ان کا کہنا تھا کہ ایران کا دفاع مسلم ممالک یا پڑوسی ملکوں سے دشمنی کا مفہوم نہیں رکھتا۔
مسعود پزشکیان نے کہا کہ کسی بھی اسلامی ملک کو اپنی سرزمین دوسرے اسلامی ملک کے خلاف جارحیت کے لیے لانچنگ پیڈ بننے کی اجازت نہیں دینی چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ پہلی تجویز مسلم ممالک کے درمیان باہمی سیکیورٹی اور عدم جارحیت کا معاہدہ ہے ، اس کے تحت مسلم ممالک ایک دوسرے کی علاقائی سالمیت کا احترام کرنے کے پابند ہوں گے ۔
ایرانی صدر کے مطابق ایران پر امریکا اور اسرائیل کے بڑے پیمانے پر حملے ایسے وقت میں شروع ہوئے جب تہران اور واشنگٹن کے درمیان سفارتی رابطے جاری تھے اور اسی ماہ اختلافات کے حل کے لیے مذاکرات بھی دوبارہ شروع ہوئے تھے۔
انہوں نے الزام عائد کیا کہ امریکا اور اسرائیل نے ایرانی فوجی کمانڈروں، حکام، سائنسدانوں اور عام شہریوں کو نشانہ بنایا جبکہ شہروں اور اہم بنیادی ڈھانچے پر بھی حملے کیے گئے، جن میں اسکول کے بچے بھی متاثر ہوئے۔
Iranian President Masoud Pezeshkian:
Defending Iran does not mean enmity with neighboring nations and Muslim nations.
No Islamic land should become a platform for aggression against another Islamic land. pic.twitter.com/ZaGQvWFY7E
— Clash Report (@clashreport) August 27, 2026
ایرانی سرکاری خبر رساں ادارے کے مطابق اسلامی وحدت کانفرنس میں 40 ممالک سے تقریباً 600 ملکی و غیر ملکی شرکا شریک ہیں، عراق، پاکستان، ترکیہ، لبنان اور افغانستان سمیت مختلف ممالک کے وفود بھی کانفرنس میں شریک ہیں۔
کانفرنس اتوار تک جاری رہے گی، جس کے دوران تہران، قم اور مشہد میں مختلف پروگرامز جبکہ مغربی آذربائیجان، کردستان، گلستان اور رضوی خراسان صوبوں میں خصوصی اجلاس منعقد کیے جائیں گے۔

