امریکی کمیشن برائے بین الاقوامی مذہبی آزادی (یو ایس سی آئی آر ایف) نے بھارت میں مذہبی آزادی کی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے آر ایس ایس کے سربراہ موہن بھاگوت کے امریکا کے دورے پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔
یو ایس سی آئی آر ایف کے مطابق گزشتہ برسوں کے دوران اس نے اپنی رپورٹس میں نشاندہی کی ہے کہ راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) سے منسلک ذیلی گروہوں کے ارکان نے مذہبی اقلیتوں کے خلاف پرتشدد حملوں میں حصہ لیا، جن میں مسیحی، دلت، مسلمان اور سکھ برادریاں شامل ہیں۔
امریکی کمیشن کا کہنا ہے کہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کے دور حکومت میں حکمران بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی جانب سے ایسی پالیسیاں نافذ کی گئی ہیں جو آر ایس ایس کے ہندوتوا نظریے سے قریبی مطابقت رکھتی ہیں اور ان کے نتیجے میں مذہبی اقلیتوں کے ساتھ امتیازی سلوک روا رکھا جا رہا ہے۔
یو ایس سی آئی آر ایف کے مطابق بھارتی حکومت نے اپنی سرحدوں سے باہر بھی مذہبی اقلیتوں کو نشانہ بنانے کے لیے مبینہ طور پر بین الاقوامی سطح پر دباؤ اور کارروائیوں کا راستہ اختیار کیا، جس میں شمالی امریکا میں سکھ برادری سے تعلق رکھنے والے افراد کے قتل اور قتل کی کوششوں کے واقعات بھی شامل ہیں۔
کمیشن کے چیئرمین آصف محمود نے کہا کہ بھارت میں مذہبی آزادی کی صورتحال مسلسل خراب ہو رہی ہے جبکہ مذہبی اقلیتوں کو نشانہ بنانے کے لیے تشدد اور اشتعال انگیزی کا بار بار استعمال کیا جاتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ امریکی حکومت کو مذہبی آزادی کی خلاف ورزیوں میں ملوث آر ایس ایس کے ارکان اور بھارتی حکام کے خلاف ہدفی پابندیوں پر غور کرنا چاہیے۔ انہوں نے موہن بھاگوت کو جاری کیا گیا ویزا منسوخ کرنے اور مستقبل میں ان کے امریکا میں داخلے پر پابندی عائد کرنے کی سفارش بھی کی۔
امریکی کمیشن نے مزید کہا کہ بی جے پی کی قیادت میں قائم حکومت کے دوران بھارتی حکام مسلمانوں اور مسیحیوں کے خلاف ہجوم کے پرتشدد حملوں کو روکنے، ان کی تحقیقات کرنے یا ذمہ داروں کو سزا دینے میں ناکام رہے ہیں۔
یو ایس سی آئی آر ایف کے مطابق ایسے پرتشدد واقعات میں اکثر بھارت کے سخت انسدادِ تبدیلی مذہب قوانین کے نفاذ کو جواز بنایا جاتا ہے، جن کا زیادہ تر نشانہ مسیحی اور دیگر مذہبی اقلیتیں بنتی ہیں۔
کمیشن کا کہنا ہے کہ بھارتی حکام نے ریاست آسام میں قومی رجسٹر برائے شہریوں (این آر سی) اور شہریت ترمیمی قانون (سی اے اے) کے تحت مسلمان شہریوں کو بھی جبری طور پر بے دخل کیا۔
یو ایس سی آئی آر ایف نے بھارت میں سول سوسائٹی کے لیے دستیاب گنجائش کم ہونے کی نشاندہی بھی کی۔ کمیشن کے مطابق فارن کنٹریبیوشنز ریگولیشن ایکٹ (ایف سی آر اے) میں زیرِ غور ترامیم مذہبی بنیادوں پر کام کرنے والی تنظیموں کے لیے ملک میں اپنی سرگرمیاں جاری رکھنے کی صلاحیت کو متاثر کرسکتی ہیں۔
کمیشن کی نائب چیئر سیسی ہیل نے کہا کہ امریکی حکومت کے پاس بھارت کو جواب دہ بنانے اور یہ واضح کرنے کا موقع موجود ہے کہ امریکا بھارت کے عوام کی مذہبی آزادی کے حق کے ساتھ کھڑا ہے۔
ان کے مطابق جواب دہی کے بغیر مذہبی آزادی کی صورتحال مزید خراب ہونے کا خدشہ ہے، جبکہ ہجوم انسدادِ تبدیلی مذہب قوانین اور دیگر نقصان دہ پالیسیوں کے نفاذ کے نام پر مذہبی اقلیتوں اور ان کی عبادت گاہوں کو نشانہ بناتے رہیں گے۔



