سیکریٹری ہیلتھ اسلم غوری کا کہنا ہے کہ پہلے اپنے طور پرآگ بجھانے کی کوشش کی پھرفائربریگیڈ کو آگاہ کیا گیا۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پمزاسپتال نرسری میں 15نومولود بچے موجودتھے ،14جاں بحق ہوئے،جاں بحق 14بچوں میں سے 11کی شناخت ہوچکی ہے۔
آگ لگنے کے بعد نرسری وارڈ کی چھت کی سیلنگ گرنے لگی ،نرسری وارڈ کی چھت کی سیلنگ کی وجہ سے بچوں کوبچانے میں مشکل ہوئی،آگ نے پوری نرسری کولپیٹ میں لےلیاتھا۔
وفاقی وزیر صحت کا کیا کہنا ہے؟
وفاقی وزیرصحت مصطفیٰ کمال کا کہنا ہے کہ چھٹی کے باوجود پمز میں عملہ ڈیوٹی پر موجود تھا، پمزنرسری میں آگ لگنے کے بعد بجلی چلی گئی تھی۔
متعلقہ حکام والدین کےساتھ رابطے میں ہیں، ڈی جی ہیلتھ اورسیکریٹری پمز میں موجودہیں، ایگزیکٹیوڈائریکٹر پمز بھی مجھ سے رابطے میں ہیں، میں خود بھی کراچی سے اسلام آباد پہنچ رہاہوں۔
انکوائری کمیٹی تشکیل
واقعے کی انکوائری کے لیے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر جنرل کی سربراہی میں8رکنی کمیٹی تشکیل دیدی گئی ، کمیٹی میں ڈی جی کیپٹل ایمرجنسی سروسز،ایس پی سی ٹی اسلام آباداوراسسٹنٹ کمشنر انڈسٹریل ایریاشامل ہیں ۔
انکوائری کمیٹی میں ڈی جی ایمرجنسی سی ڈی اے ،آئیسکواورپمزکانمائندہ بھی شامل ہے، انکوائری کمیٹی کے ٹی اوآرزجاری کردیے گئے،24گھنٹے میں رپورٹ طلب کرلی گئی۔
کمیٹی آگ لگنے کی وجوہات کاتعین اورسیفٹی انتظامات کاجائزہ لے گی، کمیٹی ریسکیو رسپانس ٹائم اور فائرفائٹنگ آپریشن کاجائزہ بھی لےگی۔


